نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حلقہ رجب گنج (بالا گنج) کے ائمہ و ذمہ داران مساجد کی مشاورتی نشست

    بحمد اللہ، ندوۃ العلماء کے شعبۂ دعوت وارشاد کے تحت، 5نومبر، بروز اتوار کو، بعد نماز عشاء، حلقہ بالا گنج کے ذیلی حلقہ رجب گنج کی مسجد صفا میں ایک اہم مشاورتی نشست، ڈاکٹر مفتی محمد علی ندوی کی سربراہی میں منعقد ہوئی۔ اس نشست میں حلقہ کی 23 مساجد کے ائمہ و ذمہ داران کو مدعو کیا گیا تھا، بیشتر ائمہ و ذمہ داران شریک رہے۔

    تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے کلام رضا فیضی ندوی امام مسجد صفا نے کہا کہ مسجد کی حیثیت اسلامی مرکز کی ہونی چاہیے، قرن اول کی مساجد کے طرز پر موجودہ زمانہ میں بھی ضرورت ہے کہ مساجد سے مسلم معاشرے اور سوسائٹی کے دینی و ملی مسائل کے ساتھ عائلی اور خانگی مسائل کو حل کیاجائے۔

    ذیلی حلقہ کے ذمہ دار مولانا زین الحق ندوی نے کہا کہ آج کی یہ نشست اس علاقہ کے لیے بڑی اہم ہے، کیونکہ اس میں جہاں ایک طرف ائمہ مساجد موجود ہیں وہیں دوسری طرف ذمہ داران مساجد بھی شریک ہیں۔ اگر یہ دونوں طبقے مساجد کو اور اس سے متعلق عوام کو بہتر رہنمائی فراہم کرنے کا ارادہ کر لیں تو کچھ بعید نہیں کہ اس علاقہ میں ایک بڑی مثبت تبدیلی رونما ہوگی۔جہاں یہ دونوں طبقے سنجیدگی اور فکرمندی و مستعدی سے کام انجام دے رہے ہیں الحمد للہ اس کے نتائج بہت مثبت اور مؤثر نظر آرہے ہیں۔

    مولانا نے مزید کہا کہ عالمی شہرت یافتہ ادارہ ندوۃ العلماء کے شعبۂ دعوت و ارشاد کے تحت دینی اور فکری بیداری کے لئے متعدد سرگرمیاں جاری ہیں، انہیں میں سے  ایک یہ کام بھی ہے کہ پانچ کاموں کو تمام مساجد میں ترجیحی طور پر کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ جن میں منظم مکتب، درس قرآن، خواتین کا تعلیمی حلقہ یا ان میں بیان، جمعہ کا خطاب اور تعلیم بالغان شامل ہیں۔

مولانا کے خطاب کے بعد تمام مساجد سے تشریف لائے ہوئے ائمہ و مؤذنین اور ذمہ داران کی جانب سے ان پانچ کاموں سے متعلق کارگزاری بھی پیش کی گئی، جنہیں تحریری طور پر محفوظ کر لیا گیا۔

    نشست کی صدارت کر رہے، حلقہ بالا گنج کے ذمہ دار، جناب مولانا ڈاکٹر مفتی محمد علی ندوی استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء نے حاضرین کا شکریہ اداء کرنے کے بعد کہا کہ مفوضہ پانچ کاموں پر خوب کوشش کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ کوشش ذمہ داری کے احساس سے ہو سکے گی اس لیے اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس بہت اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کارگزاری پر ایک نظر ڈالنے کے بعد اندازہ ہو رہا ہے کہ درس قرآن میں کوتاہی ہو رہی ہے۔
    درس قرآن نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ عوام کی شرکت  نہیں ہو پاتی ہے۔ لیکن اس کو رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ایک آدمی بھی شریک ہو تو ہم صرف ان کے لیے درس قرآن کی تیاری کریں کہ تعلیم قرآن انبیاء کی ذمہ داری ہونے کی وجہ سے علماء کی بھی ذمہ داری ہے۔ ہر ہفتہ دشوار ہو تو مہینہ میں دو بار یا کم از کم ایک بار سے ہی شروع کریں، یا کم از کم اپنے خطابات میں درس قرآن کی ترغیب دینا شروع کریں تو پھر شروع میں دشواری کے بعد آسانیاں ہوں گی۔

    آپ نے مزید کہا کہ بقیہ چار اعمال تو ہو رہے ہیں البتہ تمام اعمال میں بہتری کی کوشش کرنی ہے، کوالٹی فراہم کرنی ہے۔ بطور خاص مکتب میں، صرف مکتب نہ ہو، بلکہ منظم مکتب ہو۔ منظم مکتب کا نظام ایسا بنانا کہ وہاں اسکول و کالج کے طلبہ کے لیے آنا آسان ہو۔ اسکول و کالج کے طلبہ و طالبات کو ٹارگٹ کرنا ہے، ان کے فارغ اوقات کے مطابق اپنے منظم مکتب کے اوقات مرتب کیے جائیں، یہی بچے کل کے معمار ہوں گے۔

    مستورات کے اجتماع سے متعلق آپ نے کہا کہ خواتین دینی معلومات میں بہت پیچھے ہیں کہ ان کو کون سمجھائے، مرد حضرات کو عموماً نہ فرصت ہے نہ اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ خواتین نسلِ نو کا پہلا مکتب ہیں۔مستقل مزاجی سے اگر مستورات کے اجتماع کی فکر کریں گے تو قطرہ قطرہ دریا می شود۔ مزید یہ کہا کہ ہر مسجد کا اپنا حلقہ ہونا چاہیے، بعض مساجد سے یہ بات آئی کہ دور دراز میں کہیں خواتین کا اجتماع ہوتا ہے وہاں جاتی ہیں ، تو یہ بہتر نہیں بلکہ ہر مسجد کا اپنا حلقہ ہونا چاہیے۔ تاکہ خواتین کو دور نہ جانا پڑے۔ مذکورہ پانچ کام ہر مسجد کے تحت ہوں اسی فکر کے لئے شعبۂ دعوت و ارشاد ندوۃ العلماء سرگرم عمل ہے۔ 

جمعہ کا خطاب تمام مساجد میں ہو رہا ہے، اس کو حالات حاضرہ کے تحت بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، اسکے لیے بڑوں کی طرف سے رہبری اور معلوماتی مضمون بھی مہیا کیا جاتا ہے۔

تعلیم بالغان کی طرف توجہ خوب رہے، یہ فیملی کے رکن ہی نہیں، سرپرست بھی ہوتے ہیں، اس سلسلے میں ہماری مساجد کی کارکردگی کمزور ہے، جبکہ نماز سے لے کر کاروبار، صحیح تلاوت سے لے کر حج وعمرہ تک، سب میں خلل پایا جاتاہے ہے۔جمعہ کے خطابات کے ذریعہ سے بڑے اور بوڑھوں میں تعلیم دین کی اہمیت اور اس فکر کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے کاموں میں توقف نہیں ہونا چاہئے۔ مستقل آگے بڑھتے رہنا ہے، کام کرتے رہنا ہے، ہماری جان مال وقت امانت ہے، اللہ کے یہاں حساب دینا ہوگا، اگر فرض منصبی میں کوتاہی ہوئی تو خطرہ ہے۔ ہمارے علم میں اور تربیتی پہلو میں بھی توقف نہیں، بطور خاص ائمہ وعلماء کو مستقل کچھ نہ کچھ سیکھتے رہنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور جو تجوید کی مشق کی ہے، اس کی مشق وقفہ وقفہ سے کرتے رہنا چاہیے۔ حدیث پاک میں ہے کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ: ائمہ و ذمہ داران دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں پر مکمل حقوق کی ادائیگی کے ساتھ توجہ دیں۔

عزم کریں کہ آئندہ نشست میں اپنی مسجد کو مزید بہتر بنا کر حاضر ہوں گے، جو کام نہیں ہو رہے ہیں ان کو شروع کریں گے اور جو ہو رہے ہیں ان کو مزید بہتر انداز میں کریں گے۔ 

🌹 ایک اہم بات یہ ہے کہ ہر ذیلی حلقہ کی ایک نشست رکھنی ہے، پھر اس کے بعد بڑے حلقہ کی نشست طے کرنی ہے، جو ان شاءاللہ ناظم ندوۃ العلماء جناب حضرت مولانا بلال حسنی صاحب ندوی زید مجدہم کی صدارت میں منعقد ہوگی ۔
اسکے لیے کون سی مسجد مناسب ہے یہ تجویز پیش فرمائیں ۔

                                                    دعائے ماثورہ کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔


تحریر: ک ر فیضی ندوی 

مسجد صفا کریم گنج، لکھنؤ

بتاریخ: 5/نومبر/2023

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...