عید کی رات بڑی خوشیوں کی رات ہوتی، اس لئے عام طور پر یہ رات عید کی تیاری، خریداری اور انتظامات کی نذر ہو جاتی، لیکن حقیقت میں یہ رات اللہ رب العزت سے انعام پانے کی رات ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کی عبادت، ریاضت، تلاوت، ذکر و اذکار اور تسبیحات کا بدلہ درحقیقت اسی رات میں ملتا ہے۔ اسی لئے اس رات کو لیلۃالجائزہ ( یعنی انعام کی رات) بھی کہا جاتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہمیں اس رات کی اہمیت اور اس کی فضیلت کا علم ہو، تاکہ اس انعام والی رات سے محرومی نہ ہو، بلکہ اس سے خوب فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ذیل میں اس رات سے متعلق چند فضائل کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، امید ہے ان فضائل کی روشنی میں ہم اس رات سے خوب فائدہ اٹھا سکیں گے:
عبادت کی پانچ راتیں
👈پانچ ایسی راتیں جن میں عبادت کی بڑی فضیلت ہے:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص پانچ راتیں عبادت کرے، اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ وہ راتیں یہ ہیں : آٹھ ذو الحجہ، نو ذوالحجہ (یعنی عید الاضحیٰ)، دس ذوالحجہ، عید الفطر اور پندرہ شعبان کی رات (یعنی شبِ برات)۔‘‘ (الترغيب والترهيب، 1 : 182)
👈عیدین ( عید الفطر اور عید الاضحی) کی شب میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے
"خَمْسُ لَيَالٍ لَا تُرَدُّ فِيهِنَّ الدُّعَاءَ: لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ۔
کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں ہوتی، جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، نصف شعبان کی رات، اور عیدین (عید الفطر اور عید الاضحی) کی رات.
👈عیدین کی شب میں عبادت کرنے والے کا دل قیامت کے دن مردہ نہیں ہوگا۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا :
"مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ مُحْتَسِبًا لِلَّهِ لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ." (ابن ماجه:377 رقم:1782)
کہ جس نے عیدین (عید الفطر اور عید الاضحی) کی راتوں میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت کی، اُس کا دل اُس دن مردہ نہیں ہوگا، جس دن سب کے دل مُردہ ہوجائیں گے۔
👈مزدوری ملنے کی رات:
ایک جگہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک کی آخری رات میں امت محمدیہ کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا وہ شب قدر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، کام کرنے والے کو مزدوری اس وقت دی جاتی ہے جب وہ کام پورا کر لیتا ہے اور وہ آخری شب میں پورا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس کی بخشش کی جاتی ہے ۔(مسند احمد عن ابی ہریرہ)
👈لمحہ فکریہ👉
جس مبارک رات کی اتنی فضیلت ہو، اسی رات میں عموماً امت مسلمہ غفلت کا شکار رہتی۔ حال یہ ہے کہ چاند رات کو آزادی کی رات سمجھا جانے لگا ہے۔ نیکی اور ثواب کے وہ تمام کام جن کا رمضان المبارک میں خصوصی طور پر اہتمام کیا جاتا تھا، چاند رات سے بالکل ختم ہو جاتا ہے، بلکہ وہ معاصی( گناہ کے کام) جن سے رمضان المبارک میں بچنے کا خاص اہتمام کیا جا رہا تھا، اس رات کے آتے ہی ان کا اہتمام بھی جاتا رہتا ہے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس رات کو منظم کیا جائے، خدا سے لو لگائی جائے، گوشہ تنہائی میں اللہ کو یاد کر کے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہونے والی کوتاہیوں سے معافی مانگی جائے، اور اور اللہ سے انعام کی امید رکھتے ہوئے خوب دعائیں کی جائیں، تلاوت کی جائے، ذکرواذکار اور تسبیحات کے ساتھ نمازوں کا اہتمام کیا جائے۔ رمضان المبارک کی طرح نیکی میں آگے بڑھنے اور برائیوں سے بچ کر پورا سال گزارنے کا پختہ ارادہ کیا جائے گے۔
👈کرنے کے چند کام👉
یوں تو اس رات میں کسی خاص قسم کی عبادت تذکرہ نہیں ملتا، عبادت کی جو شکل بھی ممکن ہو اس کا اہتمام کیا جانا چاہیے، البتہ عبادت کی چند اہم صورتوں کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے، جو درج ذیل ہیں:-
👈عشاء اور فجر کو وقت پر اہتمام سے ادا کیا جائے:
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ عید کی تیاریوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے عشاء کی نماز چھوٹ جاتی ہے اور رات دیر سے سونے کی وجہ سے نمازِ فجر چھوٹ جاتی ہے، یہ بڑی محرومی کی بات ہے، اس لیے خاص طور پر ان دونوں نمازوں کو اپنے وقت پر ادا کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ ایک حدیث کے مطابق پوری رات عبادت کا ثواب مل سکے۔
👈تلاوت کا اہتمام:
قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے، بندہ جب اس کو پڑھتا ہے تو گویا اللہ سے بات کر رہا ہوتا ہے، قرآن کریم بغیر سمجھے پڑھنے کا بھی بڑا ثواب ہے، اس لیے اس رات میں قرآن کریم کے کچھ حصوں کی تلاوت ضرور کی جائے۔
👈تہجد کا اہتمام:
بندہ نماز میں سب سے زیادہ اللہ کے قریب ہوتا ہے، اور نمازوں میں بھی تہجد کی نماز اللہ کی قربت کا بہترین ذریعہ، اللہ سے باتیں کرنے، مغفرت مانگنے اور اپنی تمنائیں اللہ کے سامنے رکھنے کا بہترین وقت ہے۔ اس لیے اس رات میں خاص طور پر تہجد کا اہتمام کیا جائے۔
👈دعاء کا اہتمام:
دعا تمام عبادات کا مغز ہے، یعنی عبادتوں کا حاصل دعاء ہی ہے، اللہ کے سامنے عاجزی، اپنی بے بسی، اور اللہ سے ہی مدد مانگنا، اللہ رب العزت کو بہت زیادہ پسند ہے، بے شک وہی دعاؤں کو سننے والا ہے، اس لیے اس رات میں دعا کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔
اس رات میں اللہ انعام دیتا ہے، اور جسے اللہ انعام دے اسے کون محروم رکھ سکتا ہے؟ اس لئے اس رات میں اللہ سے خوب مانگا جائے۔ یہ رات مناجات کی رات ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اس رات میں خصوصی طور پر انعامات سے سرفراز فرمائے، اور ہمیشہ نیکی کی راہ پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
.jpg)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں