طلبہ اور اسکالرز کے لیے تخلیقی اور تربیتی سيریز کی انتالیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد
دارالبحث و الاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات ندوه روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 28/ اکتوبر 2022 مطابق یکم/ ربیع الثانی 1444ھ بروز: جمعہ بوقت: 8:00-9:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرز کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
میرا انتخاب، میری تخلیق
میری تخلیق، میرا انتخاب
کی انتالیسویں نشست کا آغاز مرزا ریحان بیگ اور محمد جنید (متعلم دارالعلوم فاروقیہ: کاکوری) کی مشترکہ تلاوت سے ہوا۔ محمد حسان عمر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنا انتخاب مقالات گیلانی از "محقق العصر حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ" سے واقعہ "معراج کی حکمت و مصلحت" بیان کرتے ہوئے کہا کہ: "جس چیز کو ایک طرف سے دباؤ گے تو دوسری طرف سے اس کا ابھرنا ناگزیر ہے، آخر جو نیچے کو دبایا گیا اور مسلسل نہایت بے دردی سے دبایا گیا اور وہ دبتا گیا، کس قدر عجیب بات ہے کہ اس کے متعلق لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ "معراج" میں اوپر کی طرف کس طرح چڑھا، کیوں چڑھتا گیا؟ آخری درجہ جسے نیچے دبایا گیا، اسے حد درجے اوپر ابھرناچاہیے تھا، اس میں تعجب کی کیا بات ہے!! معراج کے موقع پر آسمانی سیر میں پہلے، دوسرے، تیسرے، چوتھے آسمان پہ انبیاء کرام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی اور ان میں بھی حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر معمار کعبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت پر آپ کی ملاقات کیوں ختم ہوئی، اگر غور کیا جائے تو نکتہ کی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تمام انبیاء کرام کی زندگیوں میں کسی نہ کسی پہلو میں یکسانیت پائی جاتی ہے"۔ عدنان شمیم (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنو) نے "اپنی شخصیت خود بنائیں" از محی الدین غازی سے "پیش کش کا انداز اچھا بنائیں" کے عنوان پر اپنا انتخاب پیش کیا، جس میں صاحب کتاب نے بتایا کہ: " پیش کش کے طریقے کی اہمیت اب پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، آج فیس بک اور واٹس اپ وغیرہ کے ذریعے روزانہ معلومات کا ایک سیلاب سب کے پاس سے گزرتا ہے، اب تحریر و تقریر میں اصل کمال پیش کش کا رہ جاتا ہے، اس لیے اچھی پیش کش پر توجہ دینا ضروری ہے، اس کے لیے ان ادیبوں کو پڑھنا ضروری ہے جو عام سی باتوں کو بھی دل آویز اور خوبصورت پیرائے میں بیان کرتے ہیں"۔
عبدالقادر محبوب(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنو ) نے اپنا انتخاب "اصلاح معاشرہ: منصوبہ بند عصری طریقے از سید سعادت اللہ حسینی" سے "سوشل انجینئرنگ کیا ہے؟ سامعین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "سوشل انجینئرنگ اس حکمت عملی اور منصوبہ بند کوشش کو کہا جاتا ہے جس کا استعمال کرکے کسی سماج میں موجود رویوں، روایتوں اور عادتوں وغیرہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائی جاتی ہیں۔ سوشل انجینیرنگ کی اصطلاح دو معنوں میں استعمال ہوتی ہے: کمپیوٹر سائنس میں اس کا مطلب وہ نفسیاتی حربے ہیں، جن کا استعمال کرکے دھوکے باز ہیکرز انٹرنیٹ پر لوگوں سے ان کے پاس ورڈ اور دیگر حساس معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ یہاں سوشل انجینئرنگ کے وہ معنیٰ مراد ہیں جو اپلائیڈ سوشولوجی میں لیے جاتے ہیں"۔ محمد عزیر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنو) نے علوم القرآن از مفتی محمد تقی عثمانی سے "وحی کی تعلیمات" کا ایک اقتباس پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "وحی کے ذریعے بندوں کو ان باتوں کی تعلیم دی جاتی ہے جو وہ محض اپنی عقل اور حواس سے معلوم نہ کر سکیں، یہ باتیں خالص مذہبی نوعیت کی بھی ہو سکتی ہے اور دنیاوی ضروریات کی بھی۔ انبیاء کرام کی وحی عموماً پہلی قسم کی ہوتی ہے، لیکن بوقت ضرورت دنیاوی ضرورت بھی بذریعہ وحی بتائی گئی ہیں: کشتی کی صنعت، زرہ سازی کی صنعت، نیز حضرت آدم علیہ السلام کو خواص اشیاء کا علم بھی بذریعہ وحی دیا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ وحی دونوں طرح کی ہو سکتی ہے"۔
نورالقمر ندوی (معاون جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنو) نے "ڈاکٹر محمد واسع ظفر" کے مضمون "قرآن کریم اور غور و فکر کے مناہج" کی دوسری قسط "تفکر فی القرآن تفکر فی الآفاق" پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "قرآن کریم کی متعدد آیات ہیں جن میں اللہ تعالی نے غور و فکر کی دعوت دی ہے، جیسے ایک مقام پر ارشاد ربانی ہے: "كتاب أنزلناه إليك إلى آخر الآية " اور ایک جگہ قرآن میں غور و فکر نہ کرنے والوں کی یوں مذمت کی گئی ہے: "أفلا یتدبرون القرآن إلی آخر الآیة"، ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس میں غور و فکر کیا جائے؛ تاکہ قرآن کے آفاقی تعلیمات کو جان سکیں، کیوں کہ قرآن علم کائنات (Cosmology) علم ہئیت (Astronomy) علم طبیعیات(physics) خصوصا فلکی طبیعیات (Astro physics) علم جغرافیہ (Geography) بحری جغرافیہ (Oceanography) اور علم الارض(Earth science) جیسے علوم کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے"۔
محمد مرغوب الرحمن ندوی ( جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی کی شہرۂ آفاق عربی کتاب "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين" کے اردو ترجمہ "انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر" سے ایک اقتباس " قوم پرستی کے عناصر: نفرت اور خوف" پیش کیا، جس میں صاحب کتاب رقمطراز ہیں کہ: "نفرت اور خوف قوم پرستانہ زندگی کے ضروری عناصر ہیں، جس کے بغیر اس میں جان نہیں آتی، قوم پرستی کا جوش اس وقت تک پیدا نہیں ہوتا اور اگر پیدا ہو جائے تو باقی نہیں رہتا جب تک کہ قوم کے لیے کوئی چیز نفرت کرنے کے لئے اور کچھ ڈرانے کے لیے نہ ہو، چنانچہ قومی رہنما نفرت اور خوف کے ذریعہ سے اس کے جذبات برانگیختہ کرتے رہتے ہیں اور اس میں ہیجان و اشتعال اور جوش و خروش پیدا کر دیتے ہیں اور اس کو ختم نہیں ہونے دیتے، اس میں اپنی حکومت یا قیادت کی زندگی اور اپنی بقا سمجھتے ہیں، لیکن اسلام اس قوم پرستی کو تعصب و حمیت اور جاہلیت قرار دیتا ہے اور ہر ایسی امداد و حمایت، جوش و حمیت اور جنگ و جدال کو حرام قرار دیتا ہے، جس کی بنیاد محض قومی یا جماعتی عصبیت پر ہو"۔ شمیم اختر( سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ ) نے حارث بشیر کی نمایاں تصنیف " آر ایس ایس: ایک مطالعہ" کا تعارف پیش کیا اور بتایا کہ: "یہ تصنیف معروضی مطالعہ کا نتیجہ ہے، ہر چند اس میں تنقید اور تبصرے سے گریز نہیں کیا گیا ہے مگر اس کی حیثیت اس سے اعلی ہے، جو بات عیاں اور ظاہر ہے اس کی نشان دہی کی گئی ہے، موضوع کا کوئی ایسا پہلو نہیں چھوڑا گیا جو راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ جیسی قدیم اور وسیع و عریض تنظیم پر لکھنے کے لیے ضروری تھا، یہ کتاب افراط و تفریط سے پاک اور اردو میں اس سے جامع کوئی اور کتاب نہیں ہے"۔
مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "مسلم اقلیت کی تعلیمی حکمت عملی از خرم مراد" سے تعلیم کی اہمیت، اسلام میں اس کی حیثیت، سیکولر تعلیمی نظام سے پہنچ رہے نقصانات اور اس کے ازالہ کی تدابیر پر مشتمل کئ فکر انگیز اقتباس پیش کیا۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ تعلیم ہی مستقبل کی کلید ہے۔ اور آج کی تعلیم ہی "کل" کی صورت گری کرتی ہے۔ تعلیم وہ ہے جو دل و دماغ کو اور پوری زندگی کو بدل دے اور ان کو ایسے نصب العین سے آشنا کرے جو تمناؤں اور کوششوں کا مرکز و محور ہو۔ اقرأ، قلم، علم، تعلیم اور الکتاب کے الفاظ جن اقدار، تصورات اور اعمال کی تعبیر ہیں وہ ان اقدار و تصورات کا انتہائی اہم حصہ ہیں جو اسلام کے لئے جڑ اور بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کار رسالت اور اسلام میں تعلیم کی اس بنیادی حیثیت کے نتیجے میں مسلمانوں پر خود بخود یہ ذمہ دار آجاتی ہے اور ان کے اندر یہ آرزو جنم لے لیتی ہے کہ مسلمانوں کی طرح جینا سیکھیں اور سکھائیں۔ لیکن اس وقت اقلیتی ملکوں میں جو مسئلہ مسلمانوں کے لیے پریشانی اور فکر کا باعث ہے، وہ سیکولر تعلیمی نظام سے بچوں کو پہنچ رہے نقصانات کا ہے۔ اس تعلیمی نظام سے سب سے بڑا نقصان اسکول کے ماحول اس کے نظام اور اسلامی عقائد و اقدار کے درمیان تضاد و تصادم کا پیدا ہونا ہے۔ چنانچہ ہمیں ایسی تعلیمی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے جو ہمارے نوجوانوں کو صرف اسلام کا علم نہ دے بلکہ اس کی روشنی اپنی دنیا تعمیر کرنے کا ہنر سکھائے اور پورا معاشرہ اسلامی بن جائے۔
مفتی محمد عالمگیر ندوی ( رفیق علمی: دار البحث الاعلام، لکھنؤ) نے اپنے خطاب میں سیمانچل، بہار سے آئے ہوئے مہمانان کرام جناب قاری مہتاب قمر ثاقبی اور محمد شائق ندوی کا مختصر تعارف سامعین کی خدمت میں پیش کیا، قاری مہتاب قمر ثاقبی تعلیمی و سماجی بیداری مہم سیمانچل، بہار کے فعال رکن ہیں اور اس یونٹ کے تحت ہونے والے پروگراموں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح محمد شائق ندوی بھی خطے میں ہورہے تعلیمی اور دعوتی سرگرمیوں میں شریک رہ کر انھیں مضبوطی عطا کرتے ہیں۔ جناب مولانا مسعود عالم ندوی ( ڈائریکٹر: دارالبحث و الاعلام لکھنؤ) کی نیابت میں نشست کی صدارت کرتے ہوئے مولانا قمر الزماں ندوی (مینیجنگ ڈائریکٹر: اپنا کتاب ہاؤس، لکھنؤ) نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ: "جہاں تک زبان و بیان کا تعلق ہے چاہے اردو، عربی ہو یا فارسی، وہ صرف زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب ہے، لہٰذا ہمیں اپنی زبان اور تہذیب کی حفاظت کرنی چاہیے۔ شمیم اختر کی پیش کش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کے مطالعہ سے قبل اگر آپ مشہور تصنیف "پنچایتی راج" کو پڑھ لیں تو اس کے ذریعہ سیاسی اصول و ضوابط اور اس کی تبدیلیوں کو سمجھنے میں بہت مدد ملے گی"۔
مرزا ریحان بیگ( سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے 21/ اکتوبر 2022 کو منعقد نشست کی روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے جنرل سیکریٹری محمد مرغوب الرحمن ندوی نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔
دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: محمد شہنواز
(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں