نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مسجد صفا میں جلسہ سیرت النبی ﷺ و تقسیم انعامات کا انعقاد

مسجد صفا  میں جلسہ سیرت النبی و تقسیم انعامات  کا انعقاد

۱۲ ربیع الاول بروز اتوار مسجد صفا، کریم گنج لکھنؤ میں جلسہ سیرت النبی و تقسیم انعامات کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر  مسجد صفا میں منعقدمسابقہ   اسلامک کوئز اور  مسابقہ اذان کے فائزین و مشارکین کے درمیان انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔مسابقہ اسلامک کوئز  میں ۱۲ مساجد کے سو سے زائد طلبہ و طالبات نے حصہ لیا، مسابقات کے تمام مساہمین کے درمیان شہادت شرکت یعنی مسابقہ میں شریک ہونے کی سند تقسیم کی گئی۔ جبکہ اسلامی کوئز کے دو گروپوں میں ۱۲ پوزیشن ہولڈرز کو شیلڈ اور اچھا مظاہرہ کرنے والے بیس سے زائد منتخب طلباء و طالبات کو میڈل سے نوازا گیا۔

مہمان خصوصی مولانا احمد الیاس نعمانی ندوی (ڈائریکٹر حکمہ اکیڈمی و استاذ مدرسہ سیدنا بلال  رض. لکھنؤ) نے سیرت کے مختصر اور جامع تعارف کے بعد سیرت کے تین اہم حصوں پر روشنی ڈالی اور سیرت نبوی ﷺ کے  ان تین اہم حصوں سے ہماری زندگی کو کیا سبق ملتا ہے، اس کو تفصیل سے بیان کیا۔ مولانانے جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیرت کو تین حصوں میں تقسیم کیاجا سکتا ہے اور ان تینوں حصوں میں ہم سب کے لیے بڑا سبق ہے:- (١)قبل نبوت(2) بعد نبوت مکی زندگی(3)مدنی زندگی

حالات قبل نبوت اور اس کا سبق:

آپ جانتے ہیں کہ حضور ﷺ کی پیدائش سے قبل آپ کے والد کا انتقال ہو گیا تھا، چھ سال میں والدہ کا سایہ بھی اٹھ گیا، آٹھ سال میں دادا چل بسے۔ چچا کے یہاں پلے بڑھے،معاشی تنگی بھی رہی مگر  ایسی حالت  میں بھی حوصلہ بلند رکھا، ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں، بلکہ خوب حوصلہ سے اپنی زندگی گزاری۔آپ ﷺکی ہمت و جرات  کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف اٹھارہ سال کی عمر میں ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور حلف الفضول کے سرگرم ممبر رہے۔

قبل نبوت کے ان حالات  میں ہمارے لئے  بنیادی طور پر دو  باتیں سیکھنے کی ہیں ، پہلا یہ کہ حالات خواہ کیسے بھی ہوں ہمت نہیں ہارنی ہے، دوسری بات یہ کہ ہم جہاں  بھی ہوں وہاں کسی کو ظلم نہ کرنے دیں۔ نہ  ہم میں سے کوئی کسی پر ظلم کرے گا، نہ ہم کسی دوسرے کو ظلم کرنے دیں گے۔

حالات بعد نبوت اور اس کا سبق:

نبی بنائے جانے سے پہلے لوگ آپﷺ سے بہت محبت کیا کرتے تھے، آپ کے خاندان کی بڑی عزت تھے، چالیس سال اس طرح گذارا کہ لوگ امین اور صادق کہنے لگے، لیکن جیسے ہی حضورﷺ نے یہ اعلان کیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، اس ایک کے علاوہ کوئی معبود نہیں ،  اس اعلان کے بعد ہی  مکہ میں بہت سے لوگ آپ کے دشمن ہو گئے۔ حتی کہ ان کے گھر کے لوگوں کا اور ان کا ساتھ دینے والوں کا بائکاٹ کر دیا، یہاں تک کہ کچھ کھانے کو نہ ملا تو پتے کھا کر زندگی گزاری۔ صرف ایک دین کی دعوت کی وجہ سے بائکاٹ کر دیا گیا۔ آپﷺ کے ماننے والوں کو اذیتیں دی گئیں، خود  حضورﷺ کو مختلف طریقوں سے  ستایا گیا۔

ان حالات سے یہ سبق ملتا ہے، کہ اللہ کے دین پر زندہ رہنا ہے اور اسی پر مرنا ہے۔لوگوں نے آپﷺ کو لالچ اور خوف سے جھکانے کی کوشش کی مگر آپ نہ جھکے، اس لیے ہم نہ کسی لالچ کہ وجہ سے دین کو چھوڑ یں ،نہ کسی خوف کی وجہ سے اللہ کے راستے سے ہٹیں گے۔

حالات بعد ہجرت اور اس کا سبق:

مدینہ ہجرت کرنے کے بعد دن بالکل بدل گئے، ابھی تک تو ستائے جا رہے تھے، وہا ں جاتے ہی مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی، اور کچھ دنوں میں ہی حکومت اتنی وسیع ہو گئی کہ آج اس خطے میں دس گیارہ ممالک ہیں۔ لیکن حضور ﷺ، بالکل نہیں بدلے ،زندگی جیسے پہلے سادہ تھی ویسی ہی سادہ رہی ، گھر میں جیسے پہلے رہتے تھے ویسے اب رہتے تھے۔ مدینہ کوئی نیا آدمی آتا تو اس کو پوچھنا پڑتا تھا کہ نبی کون ہیں، اتنی سادگی تھی۔ حضورﷺ کی زندگی میں ذرہ برابر بھی  تکبر نہ آیا۔تواضع کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیں کہ  مکہ میں آپ ﷺکے قتل کی سازش ہوئی، آپﷺ مکہ سے نکالے گئے، پھر مکہ والوں نے مدینہ پر چڑھائی بھی کی، لیکن فتح مکہ کے موقع پر آپ نے نہ صرف یہ کہ سب کو معاف کیا بلکہ خود تواضع اور خاکساری کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔

اس سے ہمیں  یہ سبق ملتا ہے  کہ خواہ مقام ومرتبہ کتنا بھی بڑا مل جائے، خود کو متواضع اور اچھا بنانے کی کوشش کرنی چاہئے، تکبر پیدا  نہ ہو، دوسروں کو کمتر نہ سمجھیں۔اس لیے اچھے سے اچھا آدمی بننے کی کوشش کرنی ہے، بڑا بننے کی کوشش نہیں کرنی ہے، جو بڑا بننا چاہتا ہے، وہ برا بن جاتا ہے۔ جو اچھا اور نیک بننا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو مقبولیت عطا فرماتے ہیں۔

اسلامک کوئز کمپٹیشن کی صدارت کر رہے مولانا محمد زین الحق ندوی (جنرل سیکرٹری مسجد صفا) نے اخیر میں کلمات تشکر پیش کیا، مسجد صفا میں چل رہے مختلف سرگرمیوں کا مختصر اور جامع تعارف پیش کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ الحمد للہ مسجد صفا قرن اول کی مساجد کی طرز پر کام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہاں پنج وقتہ نمازوں کے ساتھ ، جمعہ میں بیان، ہر ہفتہ اتوار کو مغرب کے بعد درس قرآن اور ظہر کے بعد خواتین کے اجتماع  کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ مصلیان و نوجوانان مسجد کے تعاون سے مسجد میں بیت المال کا نظام قائم ہے، مزید یہ کہ حال ہی میں صفا پبلک لائبریری کا قیام بھی عمل میں آیا ہے۔ مولانا نے آئندہ بھی اس طرح کے مفید پروگراموں کے انعقاد کا ارادہ ظاہر کیا۔ واضح رہے کہ اس موقع پر انھوں نے سہ روزہ سیرت النبیﷺ  ورکشاپ کے انعقاد کی بھی بات کہی ،جس میں تمام  بالغان کے لئے سیرت کامختصر مگر جامع خاکہ پیش کیا جائے گا۔ انھوں نے علماء کرام ، اساتذہ عظام ، حفاظ و قراء حضرات، سامعین و سامعات کا شکریہ ادا کیا ، اور ان کے ہمہ جہت تعاون کو سراہا۔

جلسہ کی نظامت مولانا کلام رضا فیضی ندوی (امام و خطیب مسجد صفا) نے کی، ناظم جلسہ نے پروگرام کے شروع میں بہتر مظاہرہ کرنے والے مساہمین سے کوئز کے سوالات پوچھ کر اسلامی کوئز کی چند جھلکیاں پیش کیں۔ مسابقہ اسلامک کوئز اور مسابقہ اذان  میں پوزیشن حاصل کرنے والے  مساہمین کے ناموں کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ ان مسابقات میں مولانا قمرالزماں ندوی( ڈائریکٹر اپنا کتاب ہاؤس)، مولانا حارث خلیل ندوی(استاذ جامعۃ الإيمان، عربک اکیڈمی کپور تھلہ، لکھنؤ)، مولانا گوہر اقبال ندوی(مہتمم دار ارقم)، مولانا دلشاد احمد ندوی(امام و خطیب مسجد گڑھی پیر خاں) نے حکم کے فرائض انجام دئے۔

جلسہ سیرت النبی ﷺ کے اس موقع پر مولانا حسین احمد ندوی ، مولانا اسداللہ ندوی، قاری پرویز، قاری حسیب، قاری اشفاق، قاری شمیم، قاری مسعود، قاری ساحل،قاری علیم الدین کے علاوہ ائمہ کرام و اساتذہ عظام  کی ایک بڑی تعداد نے جلسہ کو رونق بخشا۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات کے علاوہ مرد حضرات اور خواتین اسلام کی ایک بڑی تعداد شریک جلسہ رہی۔ مہمان خصوصی  کی دعاء پر جلسہ کا اختتام ہوا۔

  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...