نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مدارس دینیہ ملک و ملت کے لئے سرچشمۂ حیات ہیں: مقالہ نگار

(طلبہ اور اسکالرز کےلیے تخلیقی اور تربیتی سریز کی تیتیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)

دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 09/ 16 مطابق 18/ صفر 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب

کی تیتیسویں نشست کا آغاز نور القمر ندوی کی تلاوت سے ہوا۔ محمد مرغوب الرحمٰن ندوی (جنرل سیکرٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے ذاتی ڈائری کا ورق پیش کرتے ہوئے ڈائری نویسی کے فوائد اور اس میں اپنے پانچ سالہ کامیاب تجربات پر روشنی ڈالی۔ موصوف نے کہا کہ: "ڈائری لکھنے کا معمول صدیوں پرانا ہے۔ تسلسل کے ساتھ ڈائری لکھنا بے حد مفید عمل ہے، یہ ہر دور کے کامیاب لوگوں کا محبوب ترین مشغلہ رہا ہے۔ کامیاب ترین لوگوں میں شامل ہونے کے شوق نے استاذ گرامی قدر اور مشفق مربی جناب مولانا مسعود عالم ندوی مدظلہ العالی کی خصوصی عنایت اور پیہم رہنمائی کے بعد راقم سطور کے اندر بھی ڈائری نویسی کا ذوق پیدا کیا۔ 16-2017 سے ڈائری لکھنے کی شروعات ہوگئی۔ کبھی اردو اور کبھی عربی میں ناغے کے ساتھ۔۔۔، لیکن 9 ستمبر 2018 سے مستقل بلاناغہ ڈائری لکھتا رہا۔ 20-2019 کے سیشن میں تقریبا 9/ ماہ پابندی کے ساتھ عربی ڈائری لکھی۔ شومئی قسمت کہ وہ گم ہو گئی۔ ڈائری نویسی کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور الحمد للہ اب تک جاری ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی جاری رہے گا"۔ انھوں نے مزید کہا کہ: "چار سال قبل مظفر پور میں واقع حسین پور گاؤں جانا ہوا تھا، جہاں بظاہر معمولی لیکن حقیقت میں انتہائی غیر معمولی اور معتبر سماجی شخصیت جناب مرزا سیف بیگ صاحب سے ملاقات ہوئی، 70 کے قریب عمر ہے، عصری تعلیم یافتہ ہیں، گذشتہ 47/ برسوں سے روز دو روزنامچے تحریر کرنے کا معمول ہے، ایک میں اپنے احوال اور موسم وغیرہ کی کیفیت لکھتے ہیں تو دوسرے میں علاقے میں کس کی ولادت ہوئی؟ کون وفات پاگیا؟ کس کا نکاح ہوا، کس کی طلاق ہوئی؟ کس نے خلع لیا اور کس زمین کی رجسٹری ہوئی وغیرہ قلمبند کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے مؤخر الذکر روزنامچے کو عدالتیں برتھ سرٹیفکیٹس اور نکاح نامے وغیرہ کی تاریخوں کے لیے معتبر اور دستاویزی حیثیت دیتی ہیں"۔

نور القمر ندوی (رفیق علمی: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے " مدارس دینیہ امت مسلمہ کے لئے سرچشمہ حیات ہیں" کے عنوان سے اپنا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "مدارس وہ شفاخانے ہیں جہاں حیات ابدی کا درس دیا جاتا ہے۔ انسان اور خالق کے درمیان رشتے کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ انسان دوستی، نفع رسانی، انصاف پسندی اور اس جیسی دوسری اعلی انسانی قدروں پر طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے۔ اگر سلامت فکر اور حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھیں تو مدارس نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ اس ملک کی، اس کے مستقبل کی اور یہاں بسنے والے ہر شہری کی ضرورت ہیں۔

عبدالقادر محبوب (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے رفیق منزل سے "ٹومب آف سینڈ" پر نادیہ خان کا تحریر کردہ تبصرہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "گیتانجلی شری کی کتاب Tomb Of Sand سنجیدہ مسائل پر گفتگو کرنے والی جدید ادب کی بہترین مثال ہے، یہ کتاب ایک اسی سالہ شمالی ہند سے تعلق رکھنے والی عورت کی کہانی بیان کرتی ہے، جو تقسیم ہند و پاک کے ہنگامہ خیز حالات، شوہر کے انتقال اور ذہنی دباؤ کے باوجود مشکل ترین چیلنجوں کا مقابلہ کرتی ہے، اس کتاب میں مصنفہ نے المیہ حقوق نسواں کے علاوہ تقسیم ہند کے دل گداز واقعات کا بھی عمدہ نقشہ کھینچا ہے۔ واضح رہے کہ مصنفہ گیتانجلی شری 26 مئی 2022 کو لندن میں اپنے اس شاہکار ناول کی وجہ سے 2022 کے بین الاقوامی بکر پرائز سے سرفراز کی جا چکی ہیں"۔

مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مسابقہ برائے مطالعات و افکار میں شرکت پر اپنے تاثرات عربی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "مقصدیت اور منصوبہ بندی اہداف کے حصول کو بہت آسان بنا دیتی ہے۔ اس مسابقہ میں شرکت سے قبل تنظیم مطالعہ کے سلسلے میں میں بہت پریشان رہا۔ کئی ایسی رکاوٹیں سامنے آجاتیں جن کا ازالہ بہت مشکل ہوتا۔ لیکن الحمد للہ اللقاء الثقافی، لکھنؤ نے اپنے مطالعاتی مسابقہ کے ذریعے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا، جس کے تحت مکمل ایک مہینے تک فقہ جیسے مشکل موضوع پر حاصل مطالعہ تحریر کرنے کے ساتھ کئی اہم کتابیں پڑھیں۔ تنظیمی مطالعہ کی جانب یہ ایک انوکھی پہل ہے، جس کی ہر جگہ پیروی کی جانی چاہیے"۔

شمیم اختر (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی مایہ ناز عربی تصنیف "إلى الإسلام من جديد" کے باب "معقل الإنسانية" کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "آج پوری عالم انسانیت پر تاریک رات کی سیاہی چھائی ہوئی ہے۔ انسانیت اپنی خدا فراموشی، عقائد کی خرابی اور اعمال کی ابتری کی وجہ سے ایک ایسے مسیحا اور رہنما کی محتاج ہے، جو کائنات میں چھائی ہوئی تاریکی کی طویل شب دیجور کا خاتمہ کر سکے، جو انسانوں کو نیک کرداری، تقوی، حسن عمل اور ان جیسی دوسری اعلی انسانی اخلاقی قدروں کا پابند بنا سکے۔ آج جو شخص انسانیت کو اس کے بلند ترین مقاصد تک پہنچا سکتا ہو اور اس کی اخلاقی و روحانی رہبری کر سکتا ہو وہی وقت کا سب سے بڑا مسیحا اور انسانیت کا نجات دہندہ ہے"۔

محمد مسعود عالم قمری (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مفتی عتیق احمد بستوی (سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا و رکن اساسی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) کی ممتاز فقہی تصنیف "اصولی مباحث" کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "اصولی مباحث، تین سو سے زائد صفحات اور گیارہ ابواب پر مشتمل مولانا کے ان مقالات کا مجموعہ ہے جو انھوں نے مختلف فقہی سیمیناروں اور سہ ماہی میگزین "بحث و نظر" کی لئے لکھے تھے، اس میں فقہ، اصول فقہ، تاریخ، بنیادی تصورات، مقاصد شریعت، اجتہاد اور فقہی نظریہ سازی جیسے مضامین کو اصالت، عصریت اور تحقیق کے ساتھ سپرد قلم کیا ہے۔ جو بلاشبہ اردو دنیا کے لئے ایک گراں قدر تحفہ کی حیثیت رکھتا ہے"۔

محمد حسان عمر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے صنف مراسلہ نگاری کے تحت اپنی نانی جان کے نام لکھا گیا خط پیش کیا، جس میں موصوف نے نانی جان کو شہر لکھنؤ کے موسم، اپنی اور گھر والوں کی خیریت سے مطلع کیا۔ خط کا انداز نرالا اور اسلوب رواں تھا۔ نمونہ پیش ہے:

نانی جان! یہاں لکھنؤ میں موسم کا حال تو بڑا ہی زبردست ہے، آسمان نظر نہیں آتا، دھوپ چمکتی نہیں، ڈھنڈی ہوائیں لہکتی رہتی ہیں، بادلوں کے دل چلے آتے ہیں، کیا ہی جمھاجھم بارش ہو رہی ہے، کبھی موسلادھار تو کبھی ننھی پھوار، نالے کناروں سے ابل اٹھتے ہیں، ہم پر تو ہمیشہ رحمت ہی نازل ہوتی رہتی ہے، اس خوشگوار موسم میں آپ کی یاد آئی تو خیال آیا کہ ایک خط ارسال کروں"۔

مولانا مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے زین البشر انصاری کے مضمون "امیر الدولہ پبلک لائبریری" کا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "نوابین اودھ کو تعلیم سے بے پناہ محبت تھی، تعلیم کے فروغ کے لئے انہوں نے ایک لائبریری کے قیام کا فیصلہ کیا، تاکہ عوام الناس کتابوں سے براہ راست استفادہ کرسکے، چنانچہ ایک لائبریری کا قیام عمل میں آیا، 1947 کے بعد حکومت اترپردیش کی جانب سے اس کا نام تبدیل ہوکر "امیر الدولہ پبلک لائبریری" ہوگیا، اس کتب خانے کے موجودہ ذخائر میں قریب تین لاکھ کتابیں اور رسائل و جرائد موجود ہیں۔ مخطوطات کی تعداد 300 کے قریب ہے، ان ذخائر میں ایسی کتابیں بھی موجود ہیں جو اٹھارہ سو ستاون کے لئے اہم دستاویز کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ اس لائبریری کے ذخیرہ میں "ٹکسٹائل" کے نام سے تقریبا آٹھ جلدوں میں ایک کتاب محفوظ ہے۔ اس کتاب کا نام collection of specimen of"" textile manufacturers of india" ہے۔ جو ڈیزائن ۱۸۷۳ سے قبل تیار کئے جاتے تھے ان کو یکجا کر کے یہ کتاب تیار کی گئی ہے۔ اس میں ہر ایک قسم کے کپڑے کو محفوظ کر کے رکھا گیا ہے۔ اتنے پرانے ہونے کے باوجود بھی ان کپڑوں کی کوالٹی اور رنگ میں کوئی فرق نہیں آیا ہے، اس لیے اس لائبریری کی ہندوستان میں ایک الگ اہمیت ہے۔ لکھنؤ انتظامیہ نے لائبریری میں محفوظ ذخائر جو سو یا ڈیڑھ سو سال سے بھی پرانے ہیں، تباہ و برباد نہ ہو جائیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پانچ سالہ پروجیکٹ کے تحت اس لائبریری کو ڈیجیٹل لائبریری بنانے کا فیصلہ کیا۔ اور اس کا نام "لکھنو ڈیجیٹل لائبریری" رکھا گیا۔ اس لنک کے ذریعے سے  https://lucknowdigitallibrary.com لائبریری کی نادر و نایاب کتابوں تک رسائی ممکن ہے۔ لائبریری کے ڈیجیٹلائیزیشن کا پروجیکٹ بنگلور کی کمپنی انفارمٹکس پبلشنگ لمیٹڈ کو ملا۔ کمپنی نے اس پروجیکٹ کو متعین وقت پر مکمل کر دیا ہے۔ لکھنؤ انتظامیہ کا یہ ایک قابل تحسین قدم ہے۔

محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنو) نے تقریب تقسیم انعامات برائے مطالعات و افکار کی مختصر روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے سکریٹری شمیم اختر نے کی۔ سوال وجواب اور تاثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔

دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔


بقلم: مرزا ریحان بیگ 

(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

                              16/09/2022 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...