نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قدیم و جدید اصطلاحات کے معانی میں توسیع و ارتقاء کا عمل ایک فطری سماجی ضرورت: مسعود عالم ندوی

دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر میں 2022/ 08/ 19 مطابق 20/ محرم الحرام 1444ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان: 

میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب 


کی انتیسویں نشست منعقد ہوئی، جس میں تلاوت کا شرف عبدالقادر محبوب نے حاصل کیا۔ محمد مرغوب الرحمٰن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "سنگ ہائے میل" از سید سعادت اللہ حسینی (امیر جماعت اسلامی ہند) سے بعنوان: "تخلیقیت اور ندرت" پر اپنا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "دنیا کے کامیاب انسانی گروہوں کی ایک اہم صفت ندرت فکر و عمل اور تخلیقیت کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ نئی راہوں اور نت نئے طریقوں کی تلاش میں مستقل مصروف ہوتے ہیں، زمانے کی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ان تبدیلیوں کے مطابق خود کے اندر بھی تبدیلیاں لاتے ہیں۔ تخلیقی خیالات اور جدت وندرت سے وہ خائف نہیں ہوتے بلکہ اس کا استقبال کرتے ہیں اور اس کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔ اس کے بالمقابل ناکام و زوال پزیر انسانی گروہی کی ایک خصوصیت تبدیلی و ندرت سے خوف اور بیزاری کی کیفیت ہوتی ہے، اگر وہ کسی تبدیلی یا ندرت کے لئے نظری طور پر آمادہ بھی ہو جائیں تو ان کی اجتماعی طبیعت اس تبدیلی کو عملا قبول نہیں کر پاتی، لیکن مذہب اسلام میں ایسا نہیں ہے، اسلام نے نہ صرف تخلیقیت اور ندرت کی گنجائش رکھی ہے بلکہ اس کی ہمت افزائی بھی کی ہے۔


محمد شعبان(ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مشہور عربی رائٹر مصطفی لطفی منفلوطی کی کتاب "العبرات" سے "الشھداء" کا انتخاب پیش کیا، جس میں مصنف نے ایک بیوہ عورت کی تنگی و پریشانی، یتیم بچے کی پرورش اور ذریعۂ معاش کے تئیں ان کی فکر مندی کو بڑے نرالے اسلوب میں بیان کیا ہے، جس سے بیوہ عورت کے اندر کی ہمت و بہادری اور حالات سے لڑنے کا جذبہ اور خود کفالتی کا پتا چلتا ہے۔ عبد القادرمحبوب (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نےاپنا انتخاب بعنوان: اردو زوال کی طرف کیوں؟ از "کلیات رشید احمد صدیقی" جلد دوم( خطبات) پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "اردو کیوں نظر انداز کی جاتی ہے اور انگریزی کو لوگ سینوں سے لگاتے ہیں، یہ دراصل فیشن اور مغالطہ کی بناء پر نہیں بلکہ اس کا اقتصادی پہلو یہ ہے کہ اردو کے لئے کوئی معاوضہ نہیں ہے، اگر ہے بھی تو بقدر ضرورت نہیں ہے، یہی سبب ہے کہ لوگ خلوص، محبت، شوق اور ضرورت کی بناء پر اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، اگر اردو کی قدر و قیمت روٹی میں تحویل کر دی جائے اور سرکاری و غیر سرکاری دفتروں تک اس کی رسائی ہو جائے تو لوگوں کی توجہ اس طرف منعطف کرائی جا سکتی ہے"۔


شمیم اختر (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "فہد قریشی" کے ذریعہ قائم کردہ ادارہ "ISLAM NET" کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ: "یہ ناروے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے، اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے لئے کام کرتا ہے، رفاہی و فلاحی اداروں کا تعارف بھی اس کا اہم مقصد ہے خصوصا مسلم سماج کے مسائل کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا، مظلوموں اورخستہ حال لوگوں کی آواز کی حمایت کرنا اور ان کی آواز بن جانا اس کا اہم کارنامہ ہے"۔ محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنا انتخاب بعنوان "قدیم مصر" مختصر تاریخ اسلام از غلام رسول مہر سے پیش کیا، جس میں بتایا کہ: انسانی تہذیب کا چراغ پہلے پہل مصر میں روشن ہوا اور وہیں مختلف علوم و فنون کی بنیاد پڑی، اس زمانے میں ریاضی، طب اور نجوم نے خاصی ترقی کرلی تھی، لوگوں نے کھیتی باڑی سیکھ لی تھی اور دھاتوں سے مختلف قسم کے ہتھیار بھی بنالیا کرتے تھے۔


محمد شاہنواز  (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنا مقالہ بعنوان "امہات المومنین" پیش کیا، مقالہ امہات المومنین کی مختصر سوانحی خاکہ، ان کے علم و فضل، جامع کمالات و صفات اور گراں قدر علمی خدمات پر مشتمل تھا، عربی زبان میں پیش کیے گئے اس مقالہ کا اسلوب بہت سہل اور پرکشش تھا۔ محمد شاہ ظفر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے تعلیم کی اہمیت کو موضوع بحث بنایا اور بتایا کہ: "کسی بھی قوم کی ترقی اسی وقت ہو سکتی ہے، جب کہ وہ تعلیم کے میدان میں نمایاں کردار ادا کرے، علم حاصل کرنے میں سستی و کاہلی سے کام نہ لے، تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ مثبت فکر رکھیں اور اپنے اوقات کو منظم کریں۔


محمد حسان عمر (ممبر اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنا مقالہ بعنوان: "یورپین اقوام کی آمد ہندوستان میں" پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "ہندوستان کی دولت و مالداری کے قصے ساری دنیا میں مشہور تھے، یورپی قوموں کو بھی نفع اٹھانا تھا، اسی غرض سے 1486ء میں پرتگالی بحر ہند کے راستے ہند آۓ اور 1510ء میں "گوا" کو سلطنت "بیجاپور" سے چھین کر وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ پرتگالیوں کے کامیابی کے بعد ولندیزی بھی ہندوستان آنےکا خواب دیکھنے لگے، چنانچہ 1595ء میں تجارتی غرض سے ہندوستان آۓ، لیکن پرتگالیوں نے ان کے قدم جمنے نہیں دیے، سولہویں صدی عیسوی میں فرانسیسی ملاح بھی ایشیائی سمندر پارکرکے ہندوستان پہنچا، 1664ء میں ایک فرانسیسی کمپنی قائم کی، جس کا مقصد ہندوستان میں تجارت کرنا تھا، اسی مقصد سے انگریزی ملاح بھی سولہویں صدی عیسوی کےآغاز میں ہندوستان پہونچنے کی فکر میں تھے، کپتان "ہاکنس" پہلا انگریز ہے، جس نے 1608 میں ساحل ہندوستان پر قدم رکھا، ان کے علاوہ جن ملکوں اور قوموں نے قسمت آزمائی اور ہندوستان سے تجارت کرنے کی کوشش کی، ان میں ڈنمارک، جرمنی، آسٹریلیا، سویڈن اور پروشیہ کا نام قابل ذکر ہے"۔ 


مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام) نے اردو کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: "اردو کے تئیں ہمیں ہمیشہ فکر مند رہنا چاہیے، اس کے لئے پہلے بھی کام ہوئے ہیں اور اب مزید فعالیت کی ضرورت ہے،  یہ سچ ہے کہ اردو کو اقتصادی پہلو سے جوڑ دیا جائے تو لوگ خلوص، شوق اورضرورت کی بنا پر اس کی طرف توجہ کریں گے، اس کے لیے ضروری ہےاردو کو اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل کرنا ہوگا، سرکاری و غیر سرکاری دفتروں میں اس کے شعبے قائم کرنے ہوں گے، تو اس طرح اردو کی نشو ونما ہوگی اور لوگ خود بخود خود اس طرف متوجہ ہوں گے"۔ اسی طرح اسلامک آرگنائزیشن "اسلام نیٹ" کے متعلق تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: "اس طرح کے ورقی اور برقی دونوں قسم کے اشاعتی اداروں کا تعارف ہونا چاہیے، اسی طرح ایسے تمام قدیم و جدید تعلیمی و سماجی ادارے اور پلیٹ فارم، جنھوں نے زمینی سطح پر کسی خاص خطے یا خاص میدان میں خدمات انجام دی ہیں، ان کے تعارف کو بھی مدون کرنے کی ضرورت ہے"۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ: "اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے زیراہتمام منعقد یہ علمی فکری نشستیں جو تقریباً بارہ برس سے مستقل جد و جہد میں مصروف ہیں، اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس موقع پر متعدد شرکاء نے آن لائن و آف لائن قدیم و جدید، مقامی و عالمی سطح کے اشاعتی اور فلاحی اداروں کے تعارف کا عزم ظاہر کیا۔ 


سوالات و جوابات کے دورانیے میں مہمان طالب علم زین العابدین سنبھلی نے کہا کہ" جنگ آزادی میں مسلمانوں اور علماء کرام کی جد و جہد تو نمایاں نظر آتی ہے، لیکن آزاد ہندوستان کی قیادت میں وہ عدل، وہ انصاف اور وہ حصہ داری نظر نہیں آتی ہے، دستور جس کا تقاضا کرتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کے جواب میں صدر محترم نے فرمایا کہ آزادی کے لیے مسلمانوں نے تو بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، لیکن آزادی کے بعد والے ہندوستان کی قیادت کے لئے افراد سازی اور ادارہ جاتی نوعیت کا منظم پلان مفقود تھا، اسی لیے یہ تکلیف دہ منظرنامہ دکھتا ہے، جو آج بھی ہندوستانیوں کو خون کے آنسو رلارہاہے۔ اس فقدان کے بھی اپنے اسباب ہیں۔ صدر محترم نے مزید فرمایا کہ: "برصغیر میں آزادی کی طویل و صبر آزما جد و جہد اور افغانستان میں آزادی کی چالیس سالہ جد و جہد کا تقابلی مطالعہ بہت اہم ہے، طلبہ و اسکالرز کو اسے بحث و تحقیق کا موضوع بنانا چاہیے"۔ 


اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے سکریٹری: مرزاریحان بیگ نے ایک سوال: کیا خلافت، جہاد، دار الامن، دار الحرب اور جزیہ جیسے الفاظ پر اصرار لازمی ہے؟ کے جواب میں کہا کہ: "ہر دور کے تقاضے ہوتے ہیں، اصطلاحات ہوتی ہیں، کسی دوسرے دور میں ان پر اصرار سے بسا اوقات اصل ہدف کو نقصان پہنچتاہے، تو اصطلاحات پر اصرار دانشمندی کے خلاف ہی سمجھا جائے گا۔ لفظیات میں اس امر کا لحاظ ضروری ہے۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے صدر محترم نے فرمایا کہ: "واقعی نئے دور اور نت نئی ضرورتوں کے مطابق نئے الفاظ اور نئی اصطلاحات وضع کرنا، مختلف لفظیات کے مفہوم میں توسیع، سلب ماخذ کے قاعدہ کا اجراء اور قدیم و جدید اصطلاحات کو نئے معانی و مفاہیم سے آراستہ کرنے کی شدید ضرورت ہے، اسی طرح بعض تعبیرات سے صرف نظر کرنا بھی ادب اور عہد کا تقاضا ہے۔ اس کی بےشمار مثالیں احادیث نبوی اور ذخیرۂ اسلامی میں موجود ہیں۔ مولانا دامت برکاتہم نے اس کو مثالوں سے واضح بھی کیا۔ 


مرزاریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے 12/08/2022 کو منعقدہ نشست کی مفصل روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی۔ نشست میں محمد راشد، عبداللہ مجاہد، احتشام الحق اور اشرف حسین موجود تھے۔ واضح رہے کہ نشست کی نظامت کا فریضہ محمد مرغوب الرحمن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی لکھنؤ)  نےانجام دیا، سوالات وجوابات اور تاثر و تصحیح کا دورانیہ بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھر پوراستفادہ کیا۔ 


دعاء ماثورہ اور کلمات تشکر پر نشست کااختتام ہوا۔ 


بقلم: محمد شہنواز 

(سکریٹری: اللقاءالثقافی، لکھنؤ) 

19/08/2022 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...