نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تعمیر وطن اور تحریک آزادی کی تاریخ کا مطالعہ وقت کی اہم ضرورت: مقالہ نگار


(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی اٹھائیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)

دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 08/ 12 مطابق 11/ محرم الحرام 1444ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

میرا انتخاب، میری تخلیق
میری تخلیق، میرا انتخاب

کا آغاز نور القمر حبیب ندوی کی تلاوت سے ہوا۔
محمد مرغوب الرحمٰن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "مضامین خالد" از حضرت مولانا محمد خالد ندوی غازی پوری صاحب (عمید کلیۃ الدعوۃ والاعلام، دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ) سے بعنوان "صبح کی برکتیں اور ہماری غفلتیں" بطور انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "صبح صادق سے پہلے بیدار ہونے کو حدیث میں "مطردۃ للداء" (بیماری کو دور رکھنے والا) قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود آج رات دیر تک جاگنا اور صبح دیر سے بیدار ہونا ایک معمول اور فیشن بن گیا ہے، جس کی وجہ سے زندگی کی آماجگاہ میں اللہ عز وجل کی جانب سے برکتوں کا نزول رک گیا ہے۔ روح کی بالیدگی، آنکھوں کا نور اور دلوں کا سرور رخصت ہو چکا ہے۔ ہمیں اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا "اللهم بارك لأمتي في بكورها" کے فیضان سے محروم نہ ہوں"۔

مغفور عالم (سکریٹری: SSUI) نے ماہنامہ زندگئ نو اگست 2022  سے فاضل مصنف، اسلامک مفکر سید سعادت اللہ حسینی کا مضمون "نو ہندتو" (یعنی اصل دھارا سے مختلف ہندتو کے اہم فکری وعملی دھارے) کی تلخیص پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "ڈاکٹر ایڈورڈ اینڈرسن کی ایجاد کردہ اصطلاح نو ہندتو (Neo-Hindutva) کی دو قسمیں ہیں: ایک نرم ہندتو (Soft Neo-Hindutva) ہے، جو سنگھ کے مقابلے میں زیادہ سیکولر اور روادار زبان و پالیسی اختیار کرتا ہے۔ دوسری قسم سخت ہندتو (Hard Neo-Hindutva) ہے، جو سنگھ سے بھی زیادہ شدت پسند اور جارح ہے، اس میں وائس آف انڈیا کے علاوہ نظریاتی تحریکوں میں ہندو یوا واہنی اور ہندو جاگرن سمیتی، شری رام سینا جیسے متشدد گروہوں اور فورم فار ہندو اویکننگ (Forum for Hindu Awakening) جیسی بیرون ملک کی بہت سی سماجی تنظیمیں قابل ذکر ہیں۔ مزید کہا کہ: وائس آف انڈیا ایک اشاعتی ادارہ ہے، جس کا دفتر پرانی دلی، دریا گنج میں واقع ہے۔ اس کی بناء دو زود قلم مصنف دوست سیتارام گویل (1921 - 2003) اور رام سروپ (1920 - 1992) کے ذریعہ 1981 میں رکھی گئی۔ اس ادارے نے اب تک زہریلے مواد پر مشتمل سیکڑوں کتابیں شائع کی ہیں۔ کئی کتابیں اس کی ویب سائٹ پر مفت دستیاب ہیں"۔ 

شمیم اختر (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے تاریخ اسلام از مولانا غلام رسول مہر سے "زمانۂ ولید (705 - 715"ء) بطور انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "ولید اگرچہ دس برس حکمراں رہا۔ لیکن اس کا عہد حکومت فتوحات کی کثرت اور تعمیری کارناموں کی عظمت کے باعث پورے خاندان امیہ میں بے مثال ہے۔ انھیں کے عہد حکومت میں فتح ترکستان و سندھ و ملتان اور اندلس و خراسان انجام پائے۔ ابتدائی زمانے کو چھوڑ کر فتوحات کے ایسے شاندار کارناموں کی مثال کسی عہد میں نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ ہر ضروری مقام پر شفاخانے قائم کئے۔ بھیک مانگنے کی ممانعت کردی۔ تمام ضرورتمندوں کے لئے روزینے مقرر کئے۔ سڑکیں تعمیر کرائیں۔ مہمان خانے اور سرائیں بنوائے۔ مسجد الحرام، بیت المقدس کی توسیع و تعمیر نو کے علاوہ جامع اموی دمشق اور بیسیوں دوسری مسجدیں بنوائیں۔ عہد اسلامی کا یہ بے مثال حکمراں فروری 715ء میں فوت ہوا۔ صرف 46 برس کی عمر پائی"۔ 

 مرزا ریحان بیگ نے "مطالعۂ سیرت؛ عصر حاضر کی ضرورت" کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ "تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرتیں صرف ایک ہی جنس کی‌ اشیاء کی دکانیں ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت؛ اخلاق و اعمال کی دنیا کا سب سے بڑا بازار (مارکیٹ) ہے، جہاں ہر جنس کے خریدار اور ہر شئے کے لئے بہترین سامان موجود ہے۔چنانچہ عظیم سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی (اول) میں لکھتے ہیں: "لہذا ان وجوہ کی بنا پر صرف ہم مسلمانوں کو نہیں بلکہ تمام عالم کو اس وجود مقدس کی سوانح عمری کی ضرورت ہے۔ یہ ضروت صرف اسلامی یا مذہبی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ ایک علمی، اخلاقی، تمدنی، ادبی ضرورت ہے اور مختصر یہ کہ مجموعۂ ضروریات دینی و دنیوی ہے"۔ عاقب سہراب (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے نکلنے والے  پندرہ روزہ عربی مجلہ "الرائد" سے چند اقتباسات پیش کئے۔ جس میں آج کے مسلمانوں کو صحابہ کرام جیسی اخلاقی قدروں کو اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

محمد فضیل بیگ (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنا عربی خطبہ استقبالیہ پیش کیا، جس کو انھوں نے اپنے عم محترم کی فرمائش پر صوبۂ راجھستان میں ایک مسجد کی افتتاحی تقریب کے لئے لکھا تھا۔ تقریب میں مقامی شرکاء کے علاوہ عرب سے تشریف لائے وہ مہمانان کرام بھی موجود تھے، جن کے تعاون سے یہ مسجد بنی ہے۔ استقبالیہ عربوں کے جود و سخا، دینی کاموں میں ان کی دلچسپی اور مسجد کی عظمت و اہمیت کے ذکر پر مشتمل تھا۔ محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "آئینہ تاریخ" از افضل حسین سے شیر شاہ سوری کی حالات زندگی اور ان کے کارناموں کو بیان کیا۔ وہ اپنے دور کے نہایت دور اندیش، ہوشیار اور بے حد دانشمند حکمران تھے۔ وہ نہایت معمولی جاگیر دار کے بیٹے تھے اور انھوں نے صرف اپنی بہادری، غیر معمولی ہمت، محنت اور دور اندیشی سے دہلی کا تخت حاصل کیا۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ، سادہ اور عام فہم ہے۔
مرزا نعمت اللہ بیگ نے اپنے تاثر میں نشست کی افادیت کا ذکر کرتے ہوئے اس سے استفادہ کا عہد کیا۔

 مسعود عالم قمری (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "جنگ آزادی میں علماء کا کردار" کے عنوان سے ایک تحریر پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں ملک کی آزادی کا بنیادی تصور مدارس نے پیش کیا، وہیں انگریزی تسلط کے خاتمہ کی قیادت علماء کرام نے انجام دی۔ تحریک آزادی مختلف مراحل سے گزری اور ہر موڑ پر ہر طرح سے ہم نے مادر وطن کے لئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ آزاد ملک کے جس چپہ کو دیکھیں گے، جس اینٹ کو اٹھائیں گے، وہاں ہمارے خون کی سرخی، ہمارے بزرگوں کے گرم آنسوؤں کی نمی اور ہمارے جیالوں کے ولولے اور عزم و حوصلے ملیں گے، ان تمام قربانیوں کے باوجود ہماری عظیم جدوجہد کو چھپایا گیا۔ چنانچہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ تحریک آزادی میں علماء کے نمایاں کردار سے ہر ہندوستانی کو واقف کرائیں"۔ 
 
کیف قمر نے علامہ سید سلیمان ندوی (1884 - 1953) کی مختصر سوانح عمری ہندی زبان میں پیش کی۔ علامہ موصوف اردو ادب کے نامور سیرت نگار، مؤرخ اور مصنف تھے، ان کی تصانیف میں سیرت النبی حصہ سوم تا ششم، خطبات مدارس، عرب وہند کے تعلقات، عر بوں کی جہاز رانی، سیر ت عائشہ، حیات شبلی، خیام اور نقوش سلیمانی شامل ہیں۔نومبر 1953ءکو مولانا اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، ان کی تد فین کے وقت سفیر شا م نے کہا کہ" ہم سلیمان ندوی کو دفن نہیں کر رہے بلکہ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام کو دفن کررہے ہیں"۔

 مولانا مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے اپنے صدارتی خطاب میں اشاعتی اداروں کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: "اشاعتی ادارے کسی بھی ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کی جان ہیں۔ یہ ادارے اپنی منتخب ٹیم کے ذریعے فکر و فن کی ترویج میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے پاس ان اشاعتی اداروں کی ایک طویل فہرست ہے، جن سے ہمیں واقف ہونا چاہیے۔ مضامین و مقالات اور سوشل سائٹس کے ذریعہ ان کا تعارف بھی لازمی عمل ہے"۔

نور القمر ندوی (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے 5/ اگست / 2022 کو منعقدہ نشست کی مفصل روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی۔ اس موقع پر محمد راشد، محمد ارمان، شیخ عبداللہ، محمد شعبان بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ نشست کی نظامت کا فریضہ عبد القادر محبوب (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنو ) نے انجام دیا۔ تأثرات و تصحیح کا دورانیہ بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھر پور استفادہ کیا۔ 
  
دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر پر نشست کا اختتام ہوا۔

بقلم: مرزا ریحان بیگ 
(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)
12/08/2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...