محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے دین متین کی اشاعت و حفاظت اور اعلی انسانی اقدار کے لئے لڑنا سکھایا: ابو الجیش ندوی
(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی ستائیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)
دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى کے زیر اہتمام خیر النساء بہتر ہال، جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ میں 2022/ 08/ 05 مطابق 06/ محرم الحرام1444ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
میرا انتخاب، میری تخلیق
میری تخلیق، میرا انتخاب
کا آغاز محمد شاہ ظفر کی تلاوت سے ہوا۔ محمد مرغوب الرحمن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے محاضرات فقہ کی تالیف کا مقصد اور اس کے فاضل مصنف کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "مصنف کتاب ڈاکٹر محمود احمد غازی (1950- 2010) ایک نامور اسلامک اسکالر تھے۔ جدید مسائل پر گہری نظر تھی۔ آپ نے متعدد معتبر اداروں سے تعلیم حاصل کی اور کئی اہم ترین علمی و ملی مناصب پر فائز رہے۔ ڈاکٹر صاحب اردو، عربی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی سمیت سات زبانوں کے ماہر تھے۔ محاضرات فقہ میں وکلاء، علماء اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے طلبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے فقہ اسلامی کے اہم مضامین، بنیادی مباحث، اساسی تصورات اور ضروری پہلؤں کو آسان اور سلیس زبان میں بارہ عنوانات کے تحت سمونے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے"۔
راقم الحروف نور القمر ندوی (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے علامہ شبلی نعمانی کی سیرۃ النبی جلد اول سے "عرب اور جنگ و غارت گری" پر اپنا انتخاب پیش کیا۔ علامہ لکھتے ہیں کہ: "عرب کی رگوں میں لوٹ کیوں پیوست تھی؟ کیوں کہ عرب جہلاء تھے، خورش و پوشش کا سامان صرف بھیڑ بکریاں اور اونٹ تھا، یہ بھی کسی کو نصیب نہ ہوتا تو وہ دوسروں پر حملہ کرتے، ان کو لوٹ کر لاتے، اسی کو اپنے معاش کا ذریعہ سمجھتے اور یہی سب سے بڑا معاش کا ذریعہ بھی تھا۔ عربی میں غنم کے معنی بکری کے ہیں، تو عرب مال کو بھی غنیمت کہنے لگے، جب اس لفظ نے ترقی کی تو یہ لوگ کہنے لگے (سالما غانما، صحیح سالم جانا اور لوٹ کر لانا)"۔ غزوات و سرایا کے اسباب و انواع کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :"غزوہ وہ ہے جس میں افراد کی تحدید کردی گئی ہو اور سرایا وہ ہے جس میں تحدید نہ کی گئی ہو، مؤرخین جس کو سرایا کہتے ہیں، اس کے پانچ اسباب بیان کئے ہیں اور غزوات کے دو اسباب بیان کئے ہیں"۔
شمیم اختر (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے سیاست و معیشت سے متعلق رائج علمی اصطلاحات اور ان کی جامع توضیح و تشریح پر ایک وقیع، علمی و تحقیقی مقالے کی دوسری قسط پیش کی جو بہت ہی پرکشش، جامع اور دلچسپ تھی۔ محمد فضیل بیگ (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مولانا ابوالکلام آزاد کی مایۂ ناز تصنیف: "اسلام کا نظریۂ جنگ" کے منتخب اقتباسات کا سلیس عربی ترجمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "مغرب کی جنگ خدا کی زمین پر اپنی حکومت قائم کرنے، تشدد برپا کرنے اور اپنے ناپاک عزائم اور منصوبوں کو پورا کرنے کے لئے لڑنا ہے، اس کے برعکس اسلام اللہ کی زمین پر دین الہی کو قائم کرنے کے لیے جہاد کرتا ہے، تاکہ پوری شریعت کا نفاذ ہو۔ مظلوموں کو ان کا حق ملے۔ ظالم کبھی ظلم پر آمادہ نہ ہو، لیکن کچھ اندھے مقلدین یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا نظریۂ جہاد اور مغرب کا نظریۂ جنگ ایک ہی ہے، اس میں کوئی فرق نہیں"۔
محمد شاہ ظفر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا کی کتاب "صور من حیاۃ الصحابۃ" سے حضرت ثمامہ بن أثال کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے واقعہ کی تلخیص پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "ثمامہ کو ان کی پے درپے سازشوں کے بعد قید کر کے مدینہ لایا گیا، حضور نے ان سے کہا کہ میری طرف دیکھو، انھوں نے کہا میں نہیں دیکھتا، تقریباً تین دن تک ایسا چلتا رہا، حضور نے ان کو رہا کر دینے کا حکم دیا، وہ دوبارہ آئے، حضور مجلس میں تھے، حضور نے فرمایا: ثمامہ تم آزاد ہو! ثمامہ نے کہا: حضور میں نے کتنے حکمران دیکھے ہیں، لیکن آپ جیسا کسی کو نہیں پایا۔ یا رسول اللہ! مجھے اپنا غلام بنا لیجئے۔ یہ بنو حنیفہ کے سردار تھے۔ ایک موقع پر مکہ میں قحط پڑا تو ثمامہ نے کہا: خدا کی قسم اس وقت تک گیہوں کا ایک دانہ بھی تم تک نہیں پہنچاؤں گا جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دے دیں"۔
محمد شعبان (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مایہ ناز ادیب، قادر الکلام مترجم استاد مصطفی لطفی منفلوطی کی کتاب "العبرات "سے "الیتیم "کی تلخیص پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "علامہ لطفی منفلوطی نے اس افسانے میں ایک ایسے یتیم بچے کا تذکرہ کیا ہے، جو بچپن ہی میں سایہ مادری و پدری سے محروم ہوگیا تھا، پھر اس کے عم محترم اور ان کی صاحبزادی نے شفقت و لاڈ سے پالا پوسا، پروان چڑھایا، تعلیم سے آراستہ کیا۔ مزید اس کے دو دوستوں کا تذکرہ کیا، جن پر ان کی زندگی میں محلات کی فضا تنگ پڑ گئی، تو موت نے قبر وسیع کردی"۔
محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "صور من حیاۃ الصحابۃ" سے جلیل القدر صحابی طفیل بن عمرو دوسی کی شخصیت اور کارناموں کی تلخیص پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "طفیل بن عمر دوسی ایک نامور ادیب، طبع زاد شاعر، بڑے فہیم و فرزانہ اور شیریں گفتار تھے، ان کے اسلام لانے کا واقعہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ فتح مکہ کے بعد عمر بن حمامہ کے بت "ذی الکفین" کو خاک کرنے کا تاج انھیں کے سر جاتا ہے۔ انھوں نے شہادت کا خواب دیکھا تھا، جو جنگ یمامہ میں شرمندۂ تعبیر ہوا"۔
عبداللہ مجاہد (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنا تازہ ترین سفر نامہ بہ عنوان "ہوس پٹن: ایک تاریخی شہر" پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "کنڑ زبان میں ہوس کے معنی نیا اور پٹن کے معنی شہر کے ہیں"۔ مزید کہا کہ: "جمال الدین نے نئی عرب سلطنت قائم کی تھی، اس وقت یہ شہر بسایا گیا تھا، لیکن چند ہی برسوں میں یہ سلطنت تباہ کر دی گئی اور مسلمانوں پر اتنا ظلم ہوا کہ مسلمان بھاگنے پر مجبور ہوگئے، اب وہاں مسلمانوں کی آبادی بالکل نہیں ہے، وہاں کے لوگ کنّڑ زبان بولتے ہیں۔ ملاقات سے پتہ چلا کہ اب یہاں صرف ہندؤں کے گھر ہیں۔ یہ سفر بہت اچھا رہا، کئی اہم لوگوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں"۔
شیخ عبداللہ (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے کویت سے شائع ہونے والی ماہانہ عربی میگزین "المجتمع" سے "تاريخٌ مجيدٌ و مأساة مخزية" (روشن تاریخ، المناک ٹریجڈی) کے عنوان پر اپنا رواں اردو ترجمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1947ء میں برما برطانیہ سے جدا ہوگیا، جس کی وجہ سے اقتدار نے 1989ء میں اس حکومت کا نام بدل کر میانمار کر دیا۔ اس کا اعتراف امریکہ نے پانچ دن میں ہی کر لیا۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ: روہنگیا لفظ رحمت کی تبدیل شدہ شکل ہے۔ جب ایک عرب مسلمانوں کی کشتی ڈوب رہی تھی تو وہ لوگ دہائی دے رہے تھے "الرحمة الرحمة"۔ سابق صدر ظہیر الدین کہتے ہیں کہ: روہنگیا کا اطلاق صرف مسلمانوں پر ہوتا ہے نہ کہ کشتی والوں پر"۔
مغفور عالم (سیکریٹری: ایس ایس یو آئی) نے سہ ماہی "تحقیقات اسلامی علی گڑھ" سے مولانا محمد جرجیس کریمی کے تحقیقی و تجزیاتی مضمون "ظلم و استبداد - اسلام کا نقطۂ نظر" سے اقتباس پیش کرتے ہوئے ظلم کی تعریف اور اقسام کے ساتھ اس کی مختلف شکلوں پر قرآن و حدیث کے حوالہ سے مفصل روشنی ڈالی۔ مزید کہا کہ: "ظالم سے مظلوم کو ذہنی، قلبی، جسمانی، مالی اور عرفی طور پر اذیتیں لاحق ہوتی ہیں، اگر معاشرہ اس کو برداشت کرتا ہے تو دنیا میں ظلم کا دور دورہ ہو جائے گا۔ اسی لئے اسلام نے ظلم سے مقابلہ کرنے کی تلقین کی ہے اور ضرورت پڑنے پر ظالم سے ظلم کے بقدر انتقام لینے کی گنجائش رکھی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ ظالم نے اپنے ظلم سے جس قدر دوسروں کو تکلیف پہنچائی اس کے بقدر اس کو بھی تکلیف پہنچائی جائے، تاکہ آئندہ اس سے باز رہے۔ (فمن اعتدىٰ عليكم فاعتدوا عليه بمثل مااعتدى عليكم... سورة البقره 194)
عدنان شمیم (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ ) نے مفتی تقی عثمانی کے سفرنامہ "دنیا میرے آگے" سے "اندلس میں چند روز" کی تلخیص پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "مفتی صاحب اپنے سفرنامہ میں لکھتے ہیں: مالقہ اندلس کی بندرگاہ تھی۔ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ: اندلس میں نماز کے لئے قبلہ تلاش کرنا پڑا، جو اندلس 800 سال تک مسلمانوں کی حکومت کا گہوارہ رہا، جہاں کا بچہ پیدا ہوتے ہی توحید و رسالت کا اقرار کرتا، آج وہاں کے لوگوں کو نماز کے افعال نامانوس معلوم ہوتے ہیں۔ نمازیوں کو حیرت سے دیکھتے کہ یہ کیسے افعال ہیں۔ مولانا کہتے ہیں کہ: ایسا اور کسی بھی ملک میں میرے ساتھ نہیں ہوا۔ ابو سفیان (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "ڈاکٹر محی الدین غازی" کی کتاب "اپنی شخصیت خود بنائیں" سے اپنا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "تم خدا اور رسول کے سوا سب کچھ بن سکتے ہو۔ جہد مسلسل اور یقین کامل کے ساتھ ہمیشہ اچھے اساتذہ کی نگرانی میں رہ کر تعلیم کو آگے بڑھانا چاہیے۔ تب جا کر آپ کندن بن سکتے ہو"۔
مہمان طالب علم مرزا فرحان بیگ (درجہ: ثانویہ ثانیہ) سے صدر محترم نے قرآن کریم کی تلاوت سنی۔ پھر متعدد مقامات سے چند سوالات کئے، جس کا انھوں نے خوش اسلوبی سے جواب دیا۔ نیز علامہ اقبال کے درج ذیل شعر سنا کر سامعین کا دل جیت لیا
یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہے یہ مردوں کی شمشیریں
تقریب کے مہمان خصوصی مایۂ ناز اسلامک اسکالر جناب مولانا ابوالجیش ندوی نے شرکاء کی تخلیقات وانتخابات پر اپنی رہنما اور تأثراتی گفتگو میں کئی اہم جہات پر روشنی ڈالی، جس کا خلاصہ اس طرح ہے:
(1) "عجیب بات ہے لیکن ایسا ہوتا ہے کہ بامقصد کام کے لئے تھوڑی دیر بھی کھڑا رہنا گراں گزرتا ہے، لیکن بے مقصد کاموں کے لئے گھنٹوں گزرجانے پر بھی احساس نہیں ہوتا۔ مولانا نے اس کو مثالوں سے واضح کیا"۔
(2) "علامہ شبلی نعمانی نے سیرت النبی میں لکھا ہے کہ: عرب جنگجو تھے اور مستشرقین بھی کہتے ہیں کہ عرب جنگجو تھے، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انھیں جنگ کے لئے متحد کر لیا تھا۔ قرآن کہتا ہے: "يا أيهاالنبي حرض المؤمنين على القتال" ان تینوں میں تو ٹکراؤ ہے۔ مستشرقین کے مطابق حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک جنگجو قوم کو جنگ کے لئے متحد کر لیا تھا تو پھر اللہ تعالیٰ کو بار بار آیات قرآنی کے ذریعہ انھیں جنگ کے لئے کیوں آمادہ کرنا پڑا؟ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے جنگ کی تلقین اس لئے کی کہ عرب پہلے جنگجو تھے، لیکن اب یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ لڑو تو بس دین متین کی اشاعت و حفاظت کے لیے لڑو ، اعلی انسانی حقوق اور صالح اقدار کے لئے کہ یہی نبوت کا اصل کارنامہ ہے"۔
(3) "شعر میں انشاد ہوتا ہے۔ عبارت خوانی میں تأنی ہونی چاہیے ترتیل نہیں"۔
(4) "مفتی تقی عثمانی صاحب کے سفرنامہ کے تذکرہ میں فرمایا کہ "فرانس یورپ میں مراکش افریقہ میں اور مولانا ایشیاء میں۔ تینوں ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں، اس سے سمجھنا چاہئے کہ بہترین ڈائری نویسی کے لئے بھی جغرافیہ کا علم بہت ضروری ہے"۔
(5) "مسلمانوں نے 800 سال اسپین میں حکومت کی۔ اس کے بعد بھی مسلمانوں کانام ونشان نہیں بچا، لیکن ایک بار پھر وہاں کے مسلم باشندوں میں یہ بات پیدا ہو رہی ہے کہ سپر پاور تو ہم تھے، آخر ہم سے کہاں چوک ہوئی کہ دوسرے لوگ سپر پاور ہو گئے۔ ہمیں دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ اسلامی عہد میں ہی اسپین سب سے زیادہ طاقتور تھا۔ پورے یورپ کا استاد اسپین یعنی اندلس ہی تھا"۔
مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ: "اس وقت دنیا کو عقیدۂ توحید کی شدید ضرورت ہے، عقیدۂ توحید سے انسانیت کی سطح بلند ہوتی ہے، ظالم سے لوہا لینے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے، عدل وانصاف کی بالادستی قائم ہوتی ہے۔ موجودہ عہد کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ مختلف وسائل و ذرائع سے شرک کو پروسا جارہا ہے۔ ہندوستان تو ہندوستان میں نے مصر کے زمانۂ قیام میں دیکھا کہ ایک عربی میگزین میں "یوگا" کو صحت بخش ورزش بتایا گیا، حالاں کہ یہ ایک مکمل شرکیہ عمل ہے، اس میں بڑی تطہیر کی ضرورت ہے، اس لئے طلبہ واسکالرس عقیدۂ توحید پر معاصر زبان میں معیاری تحقیق کے ساتھ مضامین و مقالات قلمبند کریں، قرآن و سنت اور کائنات سے استدلال کرتے ہوئے انبیاء کے اسلوب میں اس کو وضاحت سے بیان کریں۔ شرک اور اس کے مضر اثرات سے پردہ اٹھائیں۔ اس طرح ہم دنیا کو شرک کی غلاظت اور پستی سے پاک کر توحید کی طہارت و عظمت کی خوشبو عطا کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ مولانا نے وقت کی تنظیم اور ڈائری نویسی کے فوائد پر بھی روشنی ڈالی"۔
مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے 29/ جولائی 2022 کو منعقدہ نشست کی مفصل روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی۔ واضح رہے کہ نشست کی نظامت کا فریضہ محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنو) نے انجام دیا۔ تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھر پور استفادہ کیا۔
دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: نور القمر ندوی
(ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)
05/08/2022
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں