(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی چھبیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)
دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 07/ 29 مطابق 29/ذی الحجہ 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
میرا انتخاب، میری تخلیق
میری تخلیق، میرا انتخاب
کا آغاز ابوسفیان کی تلاوت سے ہوا۔ محمد مرغوب الرحمٰن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے بزبان ہندی بارہویں جماعت کی "سماج شاستر" سے "مطالعۂ سماجیات کے فوائد" کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: "مشہور امریکی ماہر عمرانیات چارلس رائٹ ملز (1916-1962) لکھتے ہیں: "سماجیات فرد کی پریشانیوں اور سماج کے مسائل کے بیج کی کڑیوں اور اس کے تعلقات کو اجاگر کرنے میں مدد کرتا ہے، اس لیے سماجی مسائل کے حل کے لئے اس کا مطالعہ بے حد ضروری ہے"۔ نور القمر حبیب ندوی (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "سیرۃ النبی از علامہ شبلی نعمانی" سے "ہجرت حبشہ" کا واقعہ پیش کیا، جس میں انھوں نے اس خیال کی تردید کی ہے کہ ہجرت ان ہی لوگوں نے کی جن کا کوئی حامی و مدد گار نہ تھا۔ علامہ رقمطراز ہیں: "فہرست مہاجرین میں ہر درجے کے لوگ نظر آتے ہیں۔ حضرت عثمان بنو امیہ سے تھے، جو سب سے زیادہ صاحب اقتدار خاندان تھا۔ متعدد بزرگ مثلاً زبیر اور مصعب رضی اللہ عنہما خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے ہیں۔ عبد الرحمن بن عوف اور ابو سبرہ معمولی لوگ نہ تھے۔ اس بنا پر قرین قیاس یہ ہے کہ قریش کا ظلم و ستم بے کسوں تک محدود نہ تھا بلکہ بڑے بڑے خاندان والے بھی ان کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ تھے"۔
راقم سطور مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی شاہکار کتاب "تحریک اور کارکن" کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ: کتاب تحریک اور کارکن، مولانا محترم کی ان تقریروں اور تحریروں پر مشتمل ہے، جو مختلف مواقع پر مولانا نے اسلامی تحریک کے کارکنوں کے سامنے پیش کی ہیں۔ تحریکی لٹریچر میں نمائندہ کتاب اور مجموعۂ ہدایات ہونے کی حیثیت سے ہر رکن جماعت کے لیے اس کا مطالعہ بےحد ضروری ہے، اس کتاب کے ذریعے نہ صرف وہ دعوت اور اس کے طریق کار سے آگاہ ہوسکیں گے بلکہ وہ یہ بھی اندازہ لگاسکیں گے کہ اس راہ میں کن کن کمزوریوں سے بچ کر اور کن کن خوبیوں سے آراستہ ہوکر چلنا پڑتا ہے۔ ان شاءاللہ یہ کتاب راہ حق کے مسافروں کے لئے بہترین زاد راہ ثابت ہوگی۔
محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "نقوش اقبال" از مولانا ابوالحسن علی ندوی سے "اقبال کا نظریۂ علم و فن" سامعین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "اقبال ملکۂ شعر و ادب اور ذوق سلیم کو خدا کا عظیم عطیہ اور ناقابل تسخیر ہتھیار سمجھتے ہیں، جس سے افکار و معاشرت میں انقلاب لایا جا سکتا ہے اور فاسد ماحول کے خلاف دلوں میں غضب، انتقام اور طبیعتوں میں اضطراب پیدا کیا جا سکتا ہے اور پھر غلط نظریات کی جڑ کاٹ کر صالح و صحت مند اقدار کی آبیاری کی جاسکتی ہے۔ اس لیے شاعر و ادیب کے قلم میں وہ تاثیر ہونی چاہیے، جو عصاۓ موسی، ید بیضا اور دم عیسیٰ کا کام کرے۔ اسی سے دلبری اور قاہری کے ساتھ عالم انسانیت میں پیغامبری کا رول بھی ادا کیا جانا چاہیے"۔ شمیم اختر (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے سیاست و معیشت سے متعلق رائج علمی اصطلاحات اور ان کی جامع توضیح و تشریح پر مشتمل ایک وقیع علمی و تحقیقی مقالہ پیش کیا، جو ایجاز و اختصار کے باوجود بہت جامع اور پرکشش تھا، اس منفرد معجمی کاوش کو شرکائے نشست نے خوب داد و تحسین سے نوازا اور اسے قابل تقلید قرار دیا۔
مسعود عالم قمری (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مختصر تاریخ اسلام از مولانا غلام رسول مہر سے "یونانی عظمت کا دور" بطور انتخاب پیش کیا۔ مصنف کتاب لکھتے ہیں: "یورپ کی تاریکی میں تہذیب کا پہلا چراغ یونان ہی نے روشن کیا، زمانہ قدیم میں اس نے علوم و فنون میں جو مقام حاصل کیا، اس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ طب میں بقراط و جالینوس، الہیات و فلسفے میں افلاطون و ارسطو، نیکی و حسن اخلاق میں سقراط، قانون میں سولن اور سپہ گری میں سکندر کو جو ناموری ملی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یونان کے ان لوگوں کے نام بچے بچے کی زبان پر ہیں"۔ شیخ عبداللہ (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے محمد صدیق المنشاوی کی "القصص النبوی للأطفال" کی سولہویں سیریز "السارق والدنانیر" کا خلاصہ پیش کیا۔ عمدہ انتخاب کی شرکاء نے خوب داد دی۔
ابوالحسن علی فاروقی (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنے تأثر میں مولانا کی علمی و فکری نشستوں کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ: " استاذ محترم کی نشستوں میں زبان و بیان پر قدرت اور فکر کی تنویر پر خصوصیت کے ساتھ توجہ دی جاتی ہے، طلبہ و اسکالرز کو سب سے زیادہ انھیں دو وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، میں نے بھی ان علمی نشستوں سے کسب فیض کیا ہے"۔ مغفور عالم (سکریٹری: SSUI) نے مولانا ابوالکلام آزاد کا مضمون "کامیابی کا قرآنی راستہ" بطور انتخاب پیش کیا۔ مولانا لکھتے ہیں: "میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی کامیابی بھی دنیا کا کوئی وجود، کوئی روح، کوئی آتما، بلکہ کوئی ذرہ اِس آسمان کے نیچے حاصل نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اُس پروگرام پر عمل نہ کرے جو قرآن نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اِن کامیابی کے اصولوں کو عربی میں (١) ایمان (٢) عمل الصالحات (٣) تواصی بالحق (٤) تواصی بالصبر کہتے ہیں۔ جو شخص کامیابی کے ان قرآنی منازل کو طے کرے گا، وہ ضرور بالضرور کامیابی سے ہمکنار ہوگا"۔
محمد فضیل بیگ (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مشہور عربی ادیب مصطفی لطفی منفلوطی کے اسلوب نگارش کی پیروی کرتے ہوئے "الانتحار" کے عنوان سے اپنی شاندار تخلیق پیش کی اور کہا کہ: "زندگی خدا کی امانت ہے اور امانت کی حفاظت اسلامی اور انسانی فریضہ ہے۔ اس لئے سماج کو خود کشی کے سدباب کے لئے غلط رسم و رواج کی تبدیلی اور قوانین کی سختی پر زور دینا چاہیے۔ جو لوگ ذہنی تناؤ اور مسائل سے دوچار ہوں، انھیں زندگی جینے کا سلیقہ اور مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دینا چاہیے"۔ معظم علی (ممبر: اللقاء الثقافی،لکھنؤ) نے "صور من حیاۃ الصحابۃ" از ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا سے مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کی تلخیص پیش کی۔ صحابئ رسول حضرت بلال پہلے شخص ہیں جنھوں نے مکہ مکرمہ میں اپنا اسلام ظاہر کیا، اس کی پاداش میں سخت اذیتیں برداشت کیں مگر پائے ثبات میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔ راہ حق میں آنے والی ہر اذیت کو عشق رسول خدا میں سرشار ہو کر جھیلتے رہے۔ جب حضرت بلال کے سردار امیہ بن خلف کا ظلم و ستم بڑھتا ہی گیا تب حضرت ابوبکر صدیق نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے آپ کو آزاد کرایا، اس کے بعد آپ نے ہر موقع پر عشق نبی کا حیرت انگیز مظاہرہ کیا۔
حسان عمر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مختصر تاریخ اسلام از مولانا غلام رسول مہر سے "خطبۂ حجۃ الوداع" کے منتخب اقتباسات پیش کئے جن میں اسلامی تعلیمات کے بعض بنیادی اصول واضح کئے گئے ہیں۔ عالمگیر مساوات، فضیلت بر بنائے تقوی، لوگوں کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت، عورتوں کے ساتھ حسن سلوک، قومی سلامتی، خوشگواری اور ایک دوسرے کے ساتھ دلی محبت و الفت کے سنہرے اصول آپ کے الوداعی خطبے کے اجزاء تھے۔ جن کی معنویت آج کے دور میں مزید بڑھ جاتی ہے۔
عدنان شمیم نے "دنیا مرے آگے" از مفتی محمد تقی عثمانی کے سفرنامے سے اسلامی علوم و فنون میں شہر استنبول کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: "استنبول خلافت عثمانیہ کا پایۂ تخت ہونے کی حیثیت سے تقریبا پانچ صدیوں تک پورے عالم اسلام پر حکومت کرتا رہا، اس نے یورپ کی سمت سے اٹھنے والی بہت سی آندھیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور علمی و فکری میدان میں بہت سی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں، اسلامی علوم و فنون کے بے شمار فضلاء کے علاوہ فن تعمیر کے "زینان" جیسے ماہرین نے یہیں پر اپنے جوہر دکھلائے، جس کی تین سو ساٹھ یادگاریں آج بھی ترکی میں موجود ہیں۔ پریس کا پہلا موجد "ابراہیم متفرقہ" یہیں پیدا ہوا۔ فضا میں اڑنے کا سب سے پہلا کامیاب تجربہ بھی استنبول ہی کے ایک باشندے "خداقین احمد" نے سترہویں صدی کے آغاز میں کیا۔ مگر صد حیف کہ کمال اتاترک نے اس عظیم اسلامی مرکز کو لادینی ریاست میں تبدیل کر دیا، لیکن ہزارہا سازشوں کے باوجود ترک اپنی اسلامی ثقافت سے نہ کٹے اور اب ان میں پہلے سے زیادہ احیاء اسلام اور عظمت رفتہ کی بحالی کا جوش پیدا ہوگیا ہے"۔
صدر محترم مولانا مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے اپنے صدارتی خطبہ میں ایجاز و اطناب پر خصوصی گفتگو فرماتے ہوئے کہا کہ: "ہمیں کم سے کم الفاظ میں بھی اپنی بات رکھنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ مختصر نویسی ایک ایسا آرٹ ہے جو مشکل ضرور ہے لیکن بعض اوقات ہمیں ذلت و رسوائی سے بچاتا ہے، اسی کی بنا پر ہم کم وقت میں اپنی پوری بات کہہ پاتے ہیں۔ یہ ادبی عمل زبان و بیان پر اعلی درجہ کی قدرت اور موضوع کی مختلف جہات سے واقفیت کے بغیر ناممکن ہے۔ عظیم مرثیہ نگار اور اردو کے قادر الکلام شاعر "میر ببر علی انیس لکھنوی" کے یہ اشعار پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں:
ایک قطرے کو جو دوں بسط تو قلزم کردوں
بحر مواج فصاحت کا تلاطم کر دوں
ماہ کو مہر کروں ذروں کو انجم کردوں
گنگ کو، ماہر انداز تکلم کر دوں
درد سر ہوتا ہے بے رنگ نہ فریاد کریں
بلبلیں مجھ سے گلستاں کا سبق یاد کریں"
محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے 22/ جولائی/ 2022 کو منعقدہ نشست کی مفصل روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی۔ اس موقع پر محمد راشد، عاقب سہراب، محمد شعبان، محمد دلدار اور مرزا فرحان بیگ وغیرہ بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت شمیم اختر (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے کی۔ سوال و جواب اور تاثرات و تصحیح کا دورانیہ بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔
دعاۓ ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: مرزا ریحان بیگ
(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)
29/07/2022۔
.png)
ایڈمن پینل کی خدمت میں بصد ادب عرض ہے کہ مضامین اور خبروں کی زبان اردو ہی رکھیں یا کچھ سہل کر دیں۔ سرخی میں ’’فکر کی تنویر‘‘ مجھ جیسے طالب علم کے لئے مشکل لفظ ہے۔ شکریہ۔
جواب دیںحذف کریں