نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اللقاء الثقافی، لکھنؤ؛ متوازن علمی و عملی اقدامات کا ایک جامع اور فعال پلیٹ فارم ہے: شرکائے نشست

(ذمہ داران و ممبران: اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے ساتھ تنظیمی نوعیت کی ایک مشاورتی نشست کا کامیاب انعقاد، رفقاۓ علمی: دار البحث و الاعلام، لکھنؤ کی بھی شرکت اور اظہار خیال)

دار البحث و الاعلام، لکھنؤ کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیرالنساء بہتر ہال میں 01/ جولائی 2022 مطابق یکم ذی الحجہ بروز: جمعہ بوقت 08:00 تا 10:00 بجے دن رفقاۓ علمی دار البحث و الاعلام لکھنؤ اور ذمہ داران و ممبران اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے ساتھ تنظیمی نوعیت کی ایک مشاورتی نشست بعنوان: "دارالبحث و الاعلام لکھنؤ: خدمات، عزائم اور جائزہ" کا آغاز نورالقمر ندوی کی تلاوت سے ہوا۔

بحیثیت صدر مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دار البحث و الاعلام، لکھنؤ) نے نشست کے مرکزی عناوین کے ساتھ ساتھ اس کے آٹھ ذیلی عناوین پر مفصل روشنی ڈالی، تفصیل حسب ذیل ہیں:


🖋️ اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے بارہ برس: ایک نظر میں۔

🖋️خبرونظر اور اللواء جیسے بلاگ کی فعالیت۔  

🖋️رفقاۓ علمی اور ممبران کی تعداد میں اضافہ۔

🖋️علمی و فکری، ادبی اور اصلاحی سیمیناروں/ ویبیناروں کا انعقاد۔  

🖋️دار البحث والاعلام، لکھنؤ کے زیر اہتمام ایک ماہانہ عربی - اردو رسالہ (میگزین) کا اجراء۔  

🖋️وسائل و ذرائع کی تسخیر۔  

🖋️رسائل و کتب، اخبارات و جرائد اور الیکٹرانکس سے استفادہ کی شکلیں۔ 

🖋️تنخواہ، اکرامیہ، توصیفی و اعزازی اسناد، سرٹیفکیٹ اور انعامات وغیرہ کی پالیسی پر غور۔


صدر عالی مرتبت نے شرکائے نشست سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ: "آپ منتخب ہیں بلکہ نخبۃ النخب ہیں۔ آپ میں سے ہر ایک شخص اپنے آپ میں ایک دنیا ہے۔ آپ اپنی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے آپ کو دین و ادب اور ملک و ملت کی خدمت کے لیے تیار کریں۔ آپ ہی کی طرح دارالبحث والاعلام، لکھنؤ اور اللقاء الثقافی، لکھنؤ سے آپ کے بیشتر احباب گزشتہ 12/ برسوں میں وابستہ ہوئے اور اپنی سرگرم شرکت اور جامعیت پر مبنی اکیڈمک کی فعالیت کے نتیجہ میں آج وہ ملک و بیرون ملک امت اور انسانیت کی خدمت میں مصروف کار ہیں اور جہاں ہیں مایۂ افتخار بنے ہوئے ہیں۔ مولانا دامت برکاتہم نے ان کی مثالیں بھی پیش کیں"۔


راقم الحروف (محمد مرغوب الرحمن ندوی) نے بطور جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی لکھنؤ، نشست کے اہم ذیلی عنوان: "اللقاء الثقافی لکھنؤ کے بارہ برس: ایک نظر میں" پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: "اللقاء الثقافی لکھنؤ، مربی گرامی قدر استاذ محترم جناب مولانا مسعود عالم ندوی مدظلہ العالی کے ذریعہ: طلبہ و نوجوان اسکالرس کے لیے تشکیل دیا گیا ایک ایسا علمی و فکری اور میدانی پلیٹ فارم ہے، جو ماہرین کی رہنمائی، ایکٹیو گروپس کے تعاون اور فعال اداروں کے ساتھ اشتراک سے کیرئیر کونسلنگ، گائیڈنس، زبان و ادب، فکر اسلامی، تاریخ، علوم شرعیہ، علوم ادبیہ، ملکی و بین الاقوامی تعلقات، تدریس و تحقیق، صحافت و ابلاغ، علوم جدیدہ، وفود کا استقبال، وفود کی ترسیل اور نظم و انتظام جیسے اہم شعبوں میں گزشتہ ایک دہائی سے سرگرم عمل ہے، اس کی صباحی و مسائی، ہفت روزہ و ماہانہ اور ششماہی و سالانہ علمی و فکری نشستیں بہت موثر ہوتی ہیں۔


 دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کے زیر اہتمام اس پلیٹ فارم کے ذریعہ طلبہ وطالبات اور جواں سال اسکالرس مستفید ہو کر الگ الگ خطوں میں سرگرم عمل ہوتے ہیں۔ اپنی فعالیت و تخلیقیت، نظم ونسق، وسائل کی تسخیر، موضوعاتی تنوع، وقت کی پابندی، مشکل ترین حالات میں موزوں رہنمائی اور مواقع کی فراہمی کے ذریعے افراد سازی کے لئے مشہور اس یونٹ کی کوکھ سے اب تک دسیوں تعلیمی وسماجی یونٹ نکل کر میدان عمل میں اپنی ضیاء پاش کرنوں سے روشنی عطا کر رہے ہیں۔ نیز اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے مختلف شعبوں (نظم ونسق، وفود کا استقبال، وفود کی ترسیل، کونسلنگ، اخبارات ورسائل، ذرائع ابلاغ اور مالیات وغیرہ) پر مختصرا گفتگو کی"۔ 


قمر الزماں ندوی (مینجنگ ڈائریکٹر: اپنا کتاب ہاؤس، لکھنؤ) نے یونٹ سے اپنی وابستگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: "طلبہ ونگ کا کام تو طلبہ ہی کرتے ہیں، تبھی ونگ مضبوط ہوتی ہے اور ترقی کرتی ہے، چنانچہ اولین دنوں میں اپنے رفقاء کے ساتھ اس اکیڈمک یونٹ کی فعالیت کےلیے کام کرنے کا موقع ملا، جس پر ہمیں اور احباب کو فخر ہے، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے مزید مستحکم کرنے کےلیے جد و جہد کریں"۔ ندوی صاحب نے دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کے لئے ذی الحجہ کے آخری عشرہ میں ایک ویب سائٹ لانچ کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اسی طرح فعالیت اور حوصلوں سے سرشار اللقاءالثقافی، لکھنؤ کے نو منتخب ممبران و وابستگان اور مستفدین کی تشویق کے لیے اعلان کیا کہ: "سکریٹریز کے علاوہ اللقاء الثقافی، لکھنؤ میں سال بھر سرگرم رہنے والے طلبہ کو اپنا کتاب ہاؤس، لکھنؤ کی جانب سے اسپیشل انعامات سے نوازا جائے گا ان شاءاللہ"۔ اخیر میں ایک سے زائد میدانوں میں تخصص کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: "کیریئر کونسلنگ اور ترنم سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ ہم سے بعد میں مل کر اس سلسلے کی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں"۔


گوہر اقبال ندوی( رفیق علمی: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے اللقاء الثقافی، لکھنؤ سے اپنی وابستگی کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ: "درسی پختگی کے ساتھ ساتھ خارجی ایکٹیویٹیز شخصیت کو نکھارتی ہے، پروان چڑھاتی ہے اور اس طرح شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔ اس اکیڈمک یونٹ نے ہمیں یہی سکھایا اور اسی جامعیت پر ہماری تربیت کی، اس سلسلہ میں جہاں ایک طرف ہمیں درجہ اور کیمپس میں امتیازی مقام حاصل رہا تو دوسری طرف دیگر ثقافتی و تنظیمی امور میں بھی ہم سے مدد لی گئی، خود ندوۃ العلماء ودیگر مایۂ ناز تعلیمی اداروں اور شخصیات کی یہی رائے ہے، آپ اس سے استفادہ کریں اور یونٹ سے وابستہ رہ کر صلاحیتوں کو جلا بخشیں"۔ 


مفتی محمد عالمگیر ندوی (رفیق علمی: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے یونٹ سے وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: "حفظ، ثانویہ اور عالیہ سے لے کر علیا درجات میں تفوق و امتیاز کے ساتھ، درجہ اور کیمپس کے علاوہ ہمارے پورے علمی سفر میں اس اکیڈمک یونٹ کا سب سے مؤثر رول ہے۔ دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کے اشتراک سے سیمانچل میں تعلیمی وسماجی بیداری مہم کی سرگرمیوں اور اس کے تحت چلنے والے مکاتب و مدارس، اسکولوں اور کوچنگ سینٹرز کے لیے کام کرنے کا موقع ہمیں اسی پلیٹ فارم سے ملا، اس کے لیے ہم تہہ دل سے شکرگزار ہیں اور اپنے نو منتخب ممبران و وابستگان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس یونٹ سے مستفید ہوں اور خود ایک ماہر فن کی حیثیت سے خود کو متعارف کرائیں"۔


متعدد ممبران و سیکریٹریز: اللقاء الثقافی، لکھنؤ نے اس اکیڈمک یونٹ کے اثرات اور اس کی وجہ سے ان کے اندر جو فکر کی بلندی، ذہن کی کشادگی، سخن کی دل نوازی، خیالات کی بالیدگی اور درسیات و خارجیات کا حسین امتزاج اور قائدانہ صلاحیت پیدا ہوئی، ان کو بھی بیان کیا: 


محمد عثمان صدیقی ندوی (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے کہا: "ہمارے اندر اس یونٹ سے وابستگی کی بنا پر درسیات میں پختگی کے ساتھ، مطالعہ کا شوق اور سلیقہ، فکر میں بلندی اور نظم وانتظام جیسی صلاحیتیں پیدا ہوئیں"۔ اشرف حسین ندوی(ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے کہا: "اس یونٹ سے ہی ہمیں رہنمائی (گائیڈنس) ملی، ہماری کیرئر کونسلنگ ہوئی اور درسیات میں امتیازی مقام کے ساتھ ساتھ خیالات و افکار میں بالیدگی بھی آئی، نظریات واضح ہونے لگے اور اپنے گاؤں و اطراف میں کام کرنے کا جذبہ موجزن ہوگیا"۔ نور القمر ندوی (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے کہا: "اس اکیڈمک یونٹ نے ہمارے اندر یہ اسپرٹ پیدا کی کہ ہم اپنی فکر کے ساتھ ساتھ امت اور انسانیت کی بھی فکر کریں، کیوں کہ ہم عالمی نبی کی عالمی امت ہیں۔ اسی یونٹ نے یہ بھی سمجھایا کہ عمل میں کسی خطے اور کسی گوشے پر ارتکاز لازمی ہے"۔ 


مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے کہا: "ہمارے اندر مستقل پڑھتے رہنے، کچھ لکھتے رہنے کا شوق پیدا ہوا، خصوصاً تاریخی اور تجزیاتی موضوعات سے دلچسپی ہوئی۔ عربی ڈائریاں لکھنے لگا۔ لاک ڈاؤن میں راجستھان جیسی زرخیز ریاست جانے کا موقع ملا اور اسی طرح سیمانچل واطراف کے اسفار ہوئے، جہاں ہمیں تحریکات وافکار اور اللقاء الثقافی، لکھنو کے ابعاد کو سمجھنے اور سیکھنے کا زریں موقع ہاتھ آیا"۔ شمیم اختر (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے کہا: "اس اکیڈمک یونٹ نے ہمارے اندر عربی زبان سے شغف اور درسیات کے ساتھ ساتھ خارجی مطالعہ کا شوق پیدا کیا اور عملی اقدامات سے بھی محبت ہوئی"۔ عاقب سہراب(ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے کہا: "ہمارے قلم کی اصلاح ہوئی، زبان میں روانی آئی، جس بنا پر درجے میں اور اساتذہ کی نگاہوں میں محبوبیت کا مقام ملا"۔ مغفور عالم (سکریٹری: ایس ایس یو آئی) نے کہا: "اس یونٹ سے جڑنے کی وجہ سے ہی ہمیں پڑھنے لکھنے کا موقع ملا، گر گر کے سنبھلنے کی توفیق ملی اور طلبہ تحریک ایس ایس یو آئی کی ذمہ داریوں کے تحمل کا حوصلہ پیدا ہوا"۔


اس موقع پر مذکورہ شرکاء کے علاوہ درج ذیل ممبران و سیکریٹریز اور وابستگان موجود تھے: عبدالقادر محبوب ( سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) محمد شاہ ظفر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنو) محمد ذکی احسن فہمی (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) شیخ عبداللہ، عبداللہ مجاہد، وقاص احمد، وقار احمد، ابو البرکات، محمد احمد، فرحان ضیاء، محمد امتیاز، عطاءالرحمن، محمد عزیر، حسان عمر، کیف قمر اور ابو سفیان وغیرہ۔

واضح رہے کہ تنظیمی نوعیت کی اس مشاورتی نشست کی نظامت کا فریضہ صدر گرامی قدر نے خود ہی انجام دیا۔ 

دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر پر نشست کا اختتام ہوا۔


بقلم: محمد مرغوب الرحمٰن ندوی

(جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

21/07/2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...