نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت نوجوانوں کےلیے خلوص اور عملیت پسندی کی بہترین مثال ہے: مقالہ نگار

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی اکیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)

دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 06/ 24 مطابق 23/ ذی قعدہ 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب

کا آغاز نور القمر ندوی کی تلاوت سے ہوا۔ محمد کیف نے مولانا محمد علی جوہر پر اپنا مقالہ ہندی زبان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت متعدد صفات کی حامل تھی، سیاست میں انھوں نے اپنی جرأت مندی کے بل پر نئے آداب جنوں سکھلائے، استقامت اور پامردی کے ساتھ برسوں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے میدان میں جامعہ ملیہ جیسے ادارے کے قیام کی بدولت ہندوستانی مسلمانوں کو ایک لاجواب جوہر عطا کیا، شاعری میں ان کی جو بھی تخلیقات سامنے آئیں وہ نشاط آور اور طرب انگیز ثابت ہوئیں، لیکن مولانا محمد علی جوہر اپنی بے مثال صحافت کی بناء پر سب سے زیادہ یاد رکھے جائیں گے، جس سے ان کی عملی زندگی کا آغاز ہوا۔ مولانا کو انگریزی اور اردو دونوں میں یکساں دسترس حاصل تھی، آج بھی ان کا انگریزی ہفت روزہ "کامریڈ" اور اردو کا روز نامہ "ہمدرد" صحافت کی اعلی اقدار کی درخشاں مثال ہے"۔


مرزا ریحان بیگ(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے عربی زبان میں مختلف اخبارات و رسائل اور عربی نیوز چینل کے حوالے سے پیغمبرِ اسلام پر توہین آمیز تبصرے کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے مظاہرے پر مختلف عربی اخبارات اور نیوز چینلز کی رپورٹ کی تلخیص پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "بھاجپا قومی ترجمان نوپور شرما اور دہلی یونٹ کے میڈیا انچارج نوین جندل کے متنازعہ ریمارکس کے خلاف اکثر اسلامی ملکوں نے ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائی۔ اس کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش، مالدیپ اور وطن عزیز کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے اپنے مظاہروں کے ذریعے گستاخان رسول کی گرفتاری کی مانگ کی"۔


نور القمر ندوی(ممبر:اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "حضرت عائشہؓ کی رسول اکرمﷺ سے شادی پر تنقید کی تاریخ اور اسباب" پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: "سترہویں صدی کی ابتداء تک حضرت عائشہ ؓ کی چھوٹی عمر میں شادی کے مسئلے کو کسی مغربی مصنف نے نہیں اٹھایا، بلکہ  17ویں صدی کے آخر میں  ہمفری پریڈاکس( Humphrey Prideaux) نے اپنی کتاب

”The true nature impostur, fully displayed in the life of Mahmet"

میں اس کا تذکرہ کیا کہ: ڈی ایس مارگولیوتھ (D.S. Margoliouth) مبینہ طور پر پہلا شخص تھا، جس نے اس شادی کا ذکر توہین آمیز انداز میں کیا اور وہ بھی ایک جملہ معترضہ کے طور پر، جس کا اصل مقصد رسول اللہ ﷺ کی غزوہ بدر کے بعد غریبی کے حالات کو اجاگر کرنا تھا"، انھوں نے مزید کہا کہ: "حضرت عائشہؓ کی شادی اپنے زمانے کے معمول سے مطابقت رکھتی تھی، جو کسی قانون یا عقلی توجیہ کے خلاف نہیں تھی، ان کی سوانح حیات اور  زندگی کاڈھنگ اس سے کہیں برتر و اعلی تھا کہ اس بات پر بحث کی جائے کہ ان کی عمر کیا تھی اور کیا ہونی چاہیے تھی۔ قانون اسلامی کی ترویج و اشاعت اور اسلامی طرز زندگی کی کامیابیوں میں حضرت عائشہؓ کی شخصیت کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ ہم اس حقیقت کی داد دینے پر مجبور ہیں کہ یہ شادی الہامی وحی کے ذریعے  وقوع پذیر ہوئی، جس کا ذکر خود رسول اللہﷺ نے حضرت عائشہ سے کیا"۔ واضح رہے کہ یہ مضمون اصلا انگریزی زبان میں وقار اکبر چیمہ نے تحریر کیا ہے، علی ایمن رضوی نے اس کو اردو قالب عطا کیا اور نور القمر ندوی نے اردو ترجمہ کی تلخیص پیش کی۔


شیخ عبداللہ(ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے  "يا أيها الذين  آمنوا لا ترفوا أصواتكم إلی آخر الآية"  کی تفسیر پیش کی، جس میں مؤمن کو نبی کریم ﷺ سے بات چیت کرنے کے متعلق رہنما ہدایات دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: اے ایمان والو! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کیا کرو اور نہ ان سے ایسے زور سے بات کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال ضائع نہ ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو"۔ نوخیز قلم کار محمد فضیل بیگ نے اپنا عربی روز نامچہ پیش کیا، جس میں موصوف نے رمضان میں رونما ہونے والے واقعہ کی ایسی کامیاب منظر کشی کی، جس سے پتہ چل رہا تھا کہ ہم ایک بار پھر اس منظر کو اپنی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں، تیز آندھی کا چلنا، بادل کا گرجنا، مینہ کا برسنا، درختوں کا گرنا اور لوگوں کا حیران و پریشان ہونا؛ سب اس طرح ضبط تحریر میں آگیا تھا جیسے کسی ماہر فن فوٹو گرافر نے پورے منظر کو اپنے کیمرے میں قید کرلیا ہو۔ واقعی روزنامچہ کا اسلوب، شیریں، سہل اور اسبلا کی روانی لیے ہوئے تھا۔

  

عبد القادر محبوب نے اپنے انگریزی مضمون ‌میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر لکھی گئی ان تصنیفات کا جائزہ لیا، جن میں تحقیق و تنقید کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے سیرت نگاری کی گئی ہے۔ محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "علم کا خزانہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا" کے عنوان سے مقالہ پیش کرتے کہا کہ: نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد انسانیت پر دو خواتین کا بڑا احسان ہے، ایک خاتون حضرت خدیجہ الکبری ہیں، دوسری خاتون حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، جنھوں نے نبوی تعلیمات کو محفوظ رکھا اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کیا۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: ۷٤٨ء) نے سیر اعلام النبلاء میں لکھا ہے کہ: "میرے علم میں نہیں ہے کہ امت محمدیہ میں بلکہ پوری جنس خواتین میں ان سے زیادہ علم والی کوئی ایسی خاتون ہو، جنھوں نے انوکھی پرورش وپرداخت، ادبی نشونما، فطری قابلیت وصلاحیت، وسعت ظرفی کے علاوہ علمی نمونہ، تعقیب وتصحیح اور منہجی ضوابط قائم کیا ہو۔


محمد معظم نے عبد السلام قدوائی ندوی مرحوم کی نصابی کتاب "ہندوستان کی کہانی" سے انتخاب بعنوان "آزاد ہندوستان" پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "15/اگست 1947 کو ہندوستان آزاد ہوا اور آزادی کے بعد کچھ عرصے تک نو آبادیاتی حکومتوں کی طرح برطانیہ کی طرف سے گورنر جنرل مقرر ہوتا رہا، لیکن 26/جنوری 1950 کو ہندوستان نے ایک مکمل آزاد جمہوری حکومت کی شکل اختیار کی، ڈاکٹر راجندر پرشاد اس کے پہلے صدر اور جواہر لال نہرو وزیر اعظم منتخب ہوئے"۔ محمد شائق بن عتیق نے اردو ماہنامہ "پیام سدرہ" سے مطالعہ کتب پر بہترین انتخاب بعنوان: "بہترین ہم نشیں کتاب اور ہمارا رویہ" از محمد اعظم شرقی ندوی بطور انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "تعلیم و تعلم سے وابستہ افراد اور تربیت کے میدان کے مربی ہمیشہ اپنی نسلوں سے یہی کہتے رہے ہیں کہ "خیر الجلیس فی هذا الزمان الکتاب" لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارا قیمتی وقت، لا یعنی، غیر موضوع اور لا طائل بحثوں میں بری طرح الجھ گیا ہے، اگر علم ہے بھی تو وہ ناقص اور سطحی ہے"۔


بحیثیت صدر مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے نشست کی خصوصیت پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ: "کچھ ادارے ہوتے ہیں، جہاں انسانی زندگی کو سہل اور صبا رفتار بنانے کےلیے اعلی درجے کی مشینیں ڈھلتی ہیں، کچھ ادارے وہ ہوتے ہیں جہاں انسان کے بدن اور جسم و جان کو توانائی ملتی ہیں، امراض کا ازالہ ہوتا ہے، اسی طریقے سے کچھ شخصیات، ادارے اور نشستیں اس طرح کی ہوتی ہیں جہاں عقلوں کو روشنی اور توانائی ملتی ہے، صحیح اور غلط کی تمیز پیدا کرائی جاتی یے، انسانیت کی رہنمائی اور قیادت کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ دارالبحث والاعلام، لکھنؤ  اور اس کی طلبہ ونگ اللقاء الثقافی، لکھنؤ جیسی ہماری نشستیں اسی قبیل کی ہیں جہاں ذہن و دماغ ڈھلتے ہیں، قلوب کو پاکیزگی عطا ہوتی ہیں، افکار و خیالات کو صحیح رخ دیا جاتا ہے، عمل کے نئے نئے گوشیں وا کئے جاتے ہیں اور استقامت و پامردی کے ساتھ ان پہ چلایا جاتاہے، تاکہ مختلف میدانوں میں قیادت کے خلا کو پر کیا جاسکے۔


مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے گزشتہ ہفتے10/ 17/ 2022 کی مفصل روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی۔ اس موقع پر عاقب سہراب، محمد حذیفہ اور مغفور عالم بھی موجود تھے۔  واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے  سکریٹری محمد شہنواز نے کی۔ سوال وجواب کے موقع پر ایک مضمون "بہترین ہمنشین کتاب اور ہمارا رویہ" پر شرکاء نے اپنے سوالات رکھتے ہوئے کہا: کہ کیا ہم کسی کتاب کو اپنا آئیڈیل بنا سکتے ہیں؟ صدر محترم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ لوگ  اپنے اپنے اعتبار سے کبھی کتاب اور کبھی شخصیت کو اپنا آئیڈیل بناتے ہیں اور بسا اوقات کسی شخصیت سے شدید اختلاف کے باوجود ان کے کسی پہلو کو اپنے لیے نمونہ بناتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی میں کچھ کر گذرنے کےلیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔

دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔


 بقلم: محمد ذکی احسن فہمی

(معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

                                                        24/06/2022 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...