نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اللقاء الثقافی، لکھنؤ: شخصیت سازی کا بہترین پلیٹ فارم : مفتی محمد عالمگیر ندوی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی اٹھارہویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)

دارالبحث والاعلام - لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 06/ 03 مطابق 02/ ذی قعدہ 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب

کی اٹھارہویں نشست کا آغاز ذکی احسن فہمی کی تلاوت سے ہوا۔ محمد شہنواز ( سکریٹری، اللقاء الثقافی ، لکھنؤ ) نے مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی کتاب "اسلام اور جاہلیت" سے "افراد کے رویے پر اسلامی نظریے کی تاثیر" بطور انتخاب پیش کیا۔  مصنف کتاب لکھتے ہیں" انفرادی زندگی میں اسلامی نظریہ دوسرے جاہلی نظریات کے برعکس ایک نہایت ذمے دارانہ اور نہایت مضبوط رویہ پیدا کرتا ہے، انسان ہر چیز کو خدا کی امانت سمجھتے ہوئے اس میں تصرف کرتا ہے کہ مجھے اس امانت کا پورا حساب دینا ہے۔ خدا کا خوف اور امانت کا احساس وہ چیز ہے جس سے بڑھ کر سوسائٹی کو قابل اعتماد افراد فراہم کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ تصور میں نہیں آ سکتا۔ مزید برآں یہ نظریہ آدمی کو نہ صرف سعی و جہد کا آدمی بناتا ہے، بلکہ اس کی جدوجہد کو خود غرضی، نفس پرستی یا قوم پرستی کے بجائے حق پرستی اور بلند تر اخلاقی مقاصد کی راہ پر لگا دیتا ہے"۔ (اسلام اور جاہلیت ص: 26)

ذکی احسن فہمی (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنے عربی مضمون" المرأة و مكانتها في الإسلام" کہ ذریعے اسلام میں عورتوں کے مقام، اس کے حقوق و اختیارات کے سلسلے میں قرآنی موقف کو بیان کیا۔ محمد شاہ ظفر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اقوال زریں کا انتخاب پیش کیا، جس میں زندگی کے مختلف حادثات و واقعات کے لئے حکمت عملی موجود تھی۔ منتخب اقوال درج ذیل ہیں: (١) اگر آپ مسائل سے نجات پانا چاہتے ہیں تو انھیں حل کرنا شروع کر دیجیۓ (٢) جب آپ کو ہر کسی سے شکایت ہونے لگے تو دیکھ لیجئے کہ خرابی آپ ہی کے اندر تو نہیں ہے (٣) اختلاف کے باوجود کسی سے اچھے اخلاق سے پیش آنا کمزوری نہیں بلکہ بہترین تربیت کی دلیل ہے۔

 راقم الحروف (مرزا ریحان بیگ) نے امیر جماعت اسلامی ہند، فاضل مصنف سید سعادت اللہ حسینی کی کتاب "اصلاح معاشرہ: منصوبہ بند عصری طریقے" کا تعارف کرایا اور باب اول سے منتخب اقتباسات پیش کرنے کی سعادت حاصل کی‌۔ سید صاحب رقمطراز ہیں: " معاشرے کی اصلاح اس وقت ہر دینی جماعت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ بڑی دینی جماعتوں کے ساتھ ساتھ، علمائے کرام اور مصلحوں و دانشوروں کی ایک بڑی تعداد انفرادی طور پر بھی اصلاحی کوششوں میں مصروف ہے، لیکن ان سب کوششوں کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح معاشرہ کا کام بہت زیادہ روایتی بن گیا ہے اور تقریروں اور جلسوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ اس سوال پر از سر نو سنجیدہ غور کرنا چاہیے کہ آج کے دور میں معاشرے کی اصلاح کے تقاضے کیا ہیں اور اس سلسلے میں جدو جہد کے کون سے پہلو مزید توجہ چاہتے ہیں؟ معاشرے کی اصلاح کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ خالص عوامی سطح پر سوچا جائے اور حکمت عملی بنائی جائے۔ بستی کے مخصوص حالات پر غور کرکے وہاں کی خرابیوں کی تشخیص، ان خرابیوں کے اسباب کی تعیین اور اس کے مطابق اصلاح کی حکمت عملی، پھر اس حکمت عملی کو اصلاح کا عمل مکمل ہونے تک صبر و استقلال کے ساتھ روبہ عمل لانا، ہمارے خیال میں اصلاح معاشرہ کے اس اپروچ کی اس وقت اشد ضرورت ہے"۔

شمیم اختر (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)  نے علامہ سید سلیمان ندوی کی مایہ ناز تصنیف "خطبات مدراس" کے چوتھے خطبہ " کاملیت" سے منتخب اقتباسات پیش کیے، جس میں ہمارے لئے بڑی روشنی ہے۔ سید صاحب لکھتے ہیں: " کوئی زندگی خواہ کسی قدر تاریخی ہو جب تک وہ کامل نہ ہو ہمارے لئے نمونہ نہیں بن سکتی۔ کسی زندگی کا کامل اور ہر نقص سے بری ہونا، اس وقت تک ثابت نہیں ہو سکتا جب تک اس زندگی کے تمام اجزاء ہمارے سامنے نہ ہوں۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کا ہر لمحہ پیدائش سے لے کر وفات تک ان کے زمانہ کے لوگوں کے سامنے اور ان کی وفات کے بعد تاریخ عالم کے سامنے ہے۔ ان کی زندگی کا کوئی مختصر سے مختصر زمانہ بھی ایسا نہیں گزرا، جب وہ اپنے اہل وطن کی آنکھوں سے اوجھل ہو کر آئندہ کی تیاری میں مصروف ہوں"۔ محمد عزیر نے پاکستان کے مشہور کالم نگار، شاعر اور صحافی "حسن نثار" کے نعتیہ کلام کی ایک ویڈیو کلپ بطور انتخاب پیش کیا، اس میں شاعر نے مؤثر ادبی اسلوب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کی ہے۔ نمونہ ملاحظہ کریں:

تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا

سانس لیتا تو اور میں جی اُٹھتا

کاش مکہ کی میں فضا ہوتا

ہجرتوں میں میں پڑا ہوتا

اور تو کچھ دیر کو رکا ہوتا

آسمان ہوتا عہد نبوی کا

تجھ کو حیرت سے دیکھتا ہوتا

خاک ہوتامیں تیری گلیوں کی

اور تیرے پاؤں چومتا ہوتا

مجھ کو خالق بناتا غار حَسَن

اور میرا نام بھی حِرَا ہوتا

نور القمر حبیب ندوی نے" تحریک پیام انسانیت: اہمیت، ضرورت، افادیت، طریقۂ کار، دائرہ کار از مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی سے " سازشوں کے ادراک" پر ایک منتخب اقتباس پیش کیا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں" آزادی کے بعد ہی سے ہندوستان میں اندلس کی تاریخ دہرانے کی سازشیں شروع کر دی گئیں، لیکن اللہ ہمارے بزرگوں کی قبروں کو نور سے بھر دے، انھوں نے شروع سے ہی اس سازش کا ادراک کیا اور ہر سطح پر اس کا پوری طرح مقابلہ کیا، لیکن اسوقت جو حالات ہمارے سامنے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب ہمیں مزید توجہ کرنے کی ضرورت ہے"۔

مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر، دار البحث و الاعلام، لکھنؤ) نے سنبھل سے آن لائن خطاب میں اپنے چار روزہ تعلیمی و دعوتی دورہ کی روداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ" رامپور و اطراف اور سنبھل کا خطہ تاریخ کے الگ الگ ادوار  میں علمی، دینی، تہذیبی اور صنعتی خدمات کی وجہ سے ممتاز رہا ہے اور آج بھی کئی جہتوں سے اس خطے کو امتیاز حاصل ہے۔ پرتھوی راج سے لے کر شہنشاہ ہندوستان ظہیر الدین محمد بابر تک کی خصوصی توجہ حاصل کرنے والے اس خطے میں آج بھی بے مثال جلوے ہیں، جو علم و ہنر، بے مثال صنعت اور کامیاب تجارت کی شہادت دیتے ہیں۔ مولانا نے تمام شرکاء اور صدر نشست کے تئیں قدردانی کا اظہار کیا اور واپسی پر مفصل روداد پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی" ۔ نشست کے صدر مفتی  محمد عالمگیر ندوی (رفیق علمی، دار البحث و الاعلام، لکھنؤ) نے احباب کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ" یہ ہفتہ روزہ نشست؛ شخصیت سازی کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے کیوں کہ جب آپ فاضل مصنفین کی کتابوں کو پڑھتے ہیں اور ان سے منتخب اقتباسات نوٹ کر کے پیش کرتے ہیں تو انھیں منتخب شہ پاروں اور فکر انگیز اقتباسات کے ذریعہ آپ کے فکر و فن، ذہن اور دماغ کی تعمیر و تشکیل ہوتی ہے، اس لیے کتابوں کے انتخاب میں اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ مصنف کی فکر صحیح ہو، بلند ہو، زبان شستہ و سادہ اور سطحیت سے پاک ہو"۔

اس موقع پر مذکورہ شرکاء کے علاوہ مسعود عالم قمری، شیخ عبداللہ اور عبد اللہ مجاہد موجود تھے۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے جنرل سکریٹری محمد مرغوب الرحمٰن ندوی نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔

 دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔

 

 بقلم: مرزا ریحان بیگ

(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

                                               03/06/2022۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...