اللقاء الثقافی، لکھنؤ طلبہ و نوجوان اسکالرز کے لیے تشکیل دیا گیا ایک علمی و فکری اور میدانی پلیٹ فارم ہے: مسعود عالم ندوی
(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی اٹھارہویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)
دارالبحث والاعلام - لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 05/ 27 مطابق 25/ شوال المکرم 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
میرا انتخاب، میری تخلیق
میری تخلیق، میرا انتخاب
کی اٹھارہویں نشست کا آغاز محمد شاہ ظفر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) کی تلاوت سے ہوا۔ محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے معروف ادیب، صاحب طرز انشاء پرداز، مؤرخ، نقاد اور غالب شناس مولانا غلام رسول مہر کی مقبول تصنیف "مختصر تاریخ اسلام" سے اپنا انتخاب "قدیم مصر: تہذیب کا پہلا گہوارہ" کے عنوان سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "قدیم زمانے کے متعلق تاریخی کتابیں تو نہیں ملتیں، جن سے ہمیں صحیح حالات معلوم ہوسکیں، کچھ تحریریں یا کتبے اور پرنے آثار کی کھدائی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں نے پہلے پہل ان مقامات پر مل جل کر رہنا سہنا شروع کیا، جہاں پانی کے ایسے خزانے موجود تھے کہ کسی خاص تدابیر اور کوشش کے بغیر ہی کھیتوں کی سیرابی اور فصلوں کی شادابی کا بندوبست ہوسکتا تھا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے ''مصر" آتا ہے، جہاں اب سے کم و بیش سات ہزار سال پیشتر اجتماعی زندگی شروع ہوچکی تھی۔ وہیں انسانی تہذیب کا چراغ پہلے پہل روشن ہو اور مختلف علوم و فنون کی بنیاد پڑی"۔
مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے تاریخی ناول نگار مولانا عبد الحلیم شرر کی کتاب "گذشتہ لکھنؤ" کے "تعارف" سے چند دلچسپ اور منتخب اقتباسات پیش کیے، جس میں رشید حسن خاں، دہلی و لکھنؤ کے درمیان تہذیبی مظاہر و خصوصیات کے فرق کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں:
"دہلی میں مغل حکومت کے اضمحلال کے ساتھ ساتھ، معاشرت کے ہر شعبے میں خرابیاں بڑھنا شروع ہوگئی تھیں، وہ سب کچھ یہاں بھی تھا جو لکھنؤ میں فروغ پذیر صورت میں نظر آتا ہے، وہی سطحی عیش کوشیاں اور وہی مآل سے بےپروائی، لہجے کی شائستگی اور مرصع صفاتی الفاظ کی بہتات، لیکن اس کے باوجود، یہ عناصر یہاں کی معاشرت کا نمایاں جز نہیں معلوم ہوتے، جو اودھ کی اس معاشرت کا امتیازی وصف ہے۔ دہلی کی سلطنت اصل میں ترکوں اور مغلوں کی ورثہ دار تھی۔ ایرانی اثرات یہاں تھے، لیکن ان کی حیثیت حاکمانہ اثرات کی نہیں تھی، یقینا یہاں کے فنون لطیفہ نے، زبان نے اور معاشرت نے ایران کی جمالیاتی دولت اور تہذیبی سرمایے سے بہت کچھ حاصل کیا، لیکن یہ نقش و نگار پردۂ در تھے، یہ آرائش کے اجزاء تھے، تہذیب کی بنیاد ترکوں اور مغلوں کی سنگلاخ روایتوں پر قائم ہوئی تھی، صلابت جن کا جزو اعظم تھی"۔
محمد ذکی احسن فہمی ( معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "قرن اول میں مسجد کی اصل حیثیت" کے عنوان سے اپنی تخلیق پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "قرن اول میں "مسجد" صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت، مسلمانوں کی اصلاح و تربیت اور مسلمانوں کی باہمی مسائل کا تصفیہ و مصالحت کا مثالی و سرگرم مرکز رہا ہے۔ بلاشبہ جتنا متحرک اور مستحکم مسجد کا یہ مذکورہ نظام ہوگا، اتنا ہی دین دار، با اخلاق و باکردار مسلم معاشرہ ہوگا۔ الحمدللہ وطن عزیز کے جن شہروں کی مساجد میں متحرک و منظم کام ہورہا ہے، وہاں پر اس کے مثبت اثرات نظر آرہے ہیں"۔
راقم الحروف محمد مرغوب الرحمن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے جامعہ ازہر مصر کے مایہ ناز خطیباور استاذ ڈاکٹر احمد بصیلی ازہری کے خطبہ کی ایک ویڈیو کلپ بطور انتخاب پیش کیا، اس میں احمد بصیلی نے عمدہ ادبی انداز میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کی ہے۔ شمیم اختر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے سورۂ احزاب کی آخری آیت: "إنا عرضنا الأمانة على السماوات و الأرض و الجبال" کا ترجمہ و تشریح اور اس کا پیغام ذکر کیا۔ محمد فضیل بیگ (سکریٹری: برائے شعبۂ عربی اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مشہور عربی ادیب مصطفٰی لطفی منفلوطی کے اسلوب نگارش کی پیروی کرتے ہوئے اپنی تخلیق پیش کی، جس میں انسانی معاشرے کی حالت زار کو مؤثر ادبی پیرائے میں بیان کیا۔
نشست کی صدارت کرتے ہوئے مسعود عالم ندوی ( ڈائریکٹر: دار البحث و الاعلام، لکھنؤ) نے اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے اغراض و مقاصد اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: "اللقاء الثقافی، لکھنؤ؛ طلبہ و نوجوان اسکالرس کےلیے تشکیل دیا گیا ایک ایسا علمی و فکری اور میدانی پلیٹ فارم ہے، جو ماہرین کی رہنمائی، ایکٹیو گروپس کے تعاون اور فعال اداروں کے ساتھ اشتراک سے کیریئر کونسلنگ، گائیڈنس، زبان و ادب، فکر اسلامی، تاریخ، علوم شرعیہ، علوم ادبیہ، ملکی و بین الاقوامی قانون، تدریس و تحقیق، صحافت و ابلاغ، علوم جدیدہ اور نظم و انتظام جیسے اہم شعبوں میں گذشتہ ایک دہائی سے سرگرم عمل ہے۔ دار البحث و الاعلام، لکھنؤ کے زیر اہتمام اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی صباحی و مسائی، ہفت روزہ و ماہانہ اور ششماہی و سالانہ علمی و فکری نشستیں بہت مؤثر ہوتی ہیں۔ نیز اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے اصول و ضوابط اور اہم بنیادوں پر بھی صدر محترم نے روشنی ڈالی۔
اس موقع پر مذکورہ شرکاء کے علاوہ عبدالقادر محبوب (سکریٹری: برائے شعبۂ انگریزی اللقاء الثقافی، لکھنؤ) کوثر اعظم اور محمد سفیان موجود تھے۔ نیز ممبران اللقاء الثقافی، لکھنؤ: محمد عزیر، شیخ عبداللہ، عاقب سہراب اور عبداللہ فیصل بھی شریک رہے۔
واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے جنرل سکریٹری محمد مرغوب الرحمٰن ندوی نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔
دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: محمد مرغوب الرحمن ندوی
(جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)
29/05/2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں