نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پانچواں سالانہ اسلامک کوئز کمپٹیشن و عید ملن سماروہ کا انعقاد


تقسیم انعامات کا ایک منظر

اسکول و کالج کے بچے اور بچیوں میں دینی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی ہیلپنگ ہینڈ مظفرہ کی جانب سے سالانہ اسلامک کوئز کمپٹیشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس سال کوئز کمپٹیشن کے ساتھ برادران وطن کی قربت، اسلامی تہذیب میں ان کو شریک کرنے اور امن و بھائی چارگی کو فروغ دینے کے لئے عید ملن سماروہ کا بھی انعقاد کیا گیا۔


پانچواں اسلامک کوئز کمپٹیشن عیدگاہ مظفرہ میں ۲ شوال ۱۴۴۳ ھ مطابق 4 مئی 2022 بروز بدھ منعقد ہوا۔ اس کوئز کمپٹیشن کی صدارت جنرل سیکریٹری جمعیت علماء بیگوسرائے مولانا صابر نظامی صاحب قاسمی نے کی، اس پروگرام کے مشرف مولانا غالب اسراری ندوی تھے۔ حکم کے فرائض مولانا ضیاء الامین خان ندوی اور مولانا ظہیر الاسلام مظاہری نے انجام دئے۔ کوئز کی پہلی نشست کا آغاز مولانا طفیل احمد قاسمی کی تلاوت سے ہوا، جبکہ دوسری نشست میں تلاوت قاری توصیف نے کی۔ کمپٹیشن کی نظامت مولانا مظہر الحق قاسمی نے کی۔

سامعین و مساہمین

کوئز میں ضلع بیگوسرائے کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں اسکول و کالج کے طلبہ وطالبات نے حصہ لے کر سوالات کے جوابات دئے، دلچسپی کے لئے وقتاً فوقتاً سامعین سے بھی سوالات کئے گئے اور درست جواب دینے والوں کو فوری انعامات سے نوازا گیا۔ تمام مساہمین کو تشجیعی انعامات اور پوزیشن حاصل کرنے والوں کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔


تقسیم انعامات سے قبل حکم صاحبان اور موجود علماء کرام نے اپنے تاثرات و خطابات سے سامعین کو مستفید فرمایا۔


کوئز کمپٹیشن کے کنوینر مولانا کلام رضا فیضی نے ہیلپنگ کا تعارف اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس گروپ کا نام اور کام قرآن و حدیث سے مستفاد ہے۔ وہ تمام آیتیں اور احادیث جن میں انسانیت کی خدمت نفع رسانی اور فلاح کی بات کہی گئی ہے وہ ہیلپنگ ہینڈ کا مینی فیسٹو (manifesto) ہے۔

غربت کا خاتمہ، تعلیم کا فروغ، انصاف کا قیام اور ترقی کی راہ پر کوشش اس گروپ کے چند بنیادی مقاصد میں سے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج اسلامک کوئز کمپٹیشن کا انعقاد بھی گروپ کے ایک اہم مقصد تعلیم کے فروغ کے تحت ہو رہا ہے۔ انھوں نے موجود سامعین بطور خاص ہیلپنگ ہینڈ کے تمام ممبران کا شکریہ ادا کیا اور مبارکباد پیش کی۔


مولانا مظہر الحق قاسمی نے ہیلپنگ ہینڈ کی جانب سے اسلامک کوئز کے انعقاد کو سراہا اور اس کے کارکنان کو مبارکباد پیش کی، انھوں نے مزید فرمایا کہ اس پروگرام سے نہ صرف اسکول و کالج کے مسلم طلبہ میں دینی تعلیم سے دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ بلکہ غیر مسلم طلبہ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ غیر مسلم طلبہ و طالبات کی ایک جماعت نے اس پروگرام کو براہ راست دیکھا۔


مہمان خصوصی مولانا غالب اسراری ندوی نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام بہت اہم ہیں، اس کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے ، اور عوام الناس کو اس پروگرام کے انعقاد میں اور دیگر فلاحی و رفاہی کاموں میں ہر طرح سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔ 

عید ملن سماروہ میں برادران وطن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ضیاء الامین خان ندوی چترویدی نے کہا کہ انسانیت کی کامیابی مذہبی کتابوں پر عمل کرنے میں ہے، تمام مذاہب کی کتابیں اچھائیوں کا حکم دیتی ہیں اور برائیوں سے روکتی ہیں، قرآن مجید ان تمام مذہبی کتابوں میں سب سے آخری مکمل اور جامع مذہبی کتاب ہے۔ لہذا تمام مذاہب کے ماننے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مذہبی کتاب کے ساتھ آخری اور کامل مذہبی کتاب قرآن مجید کو بھی پڑھیں اور اپنے معاشرہ کو سب مل کر ایک مثالی معاشرہ بنائیں۔

عید ملن سماروہ میں شریک برادران وطن

صدر محترم نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ دین کی محنت مختلف طریقوں سے ہو رہی ہے، مکاتب و مدارس میں دین کی آبیاری ہو رہی ہے مگر اسلامک کوئز کا انداز بالکل مختلف ہے، اس کے ذریعہ ایسے طلبہ جو دینی علوم سے بالکل ناواقف ہیں، اور جن تک دینی تعلیمات کو پہونچانا مشکل ہے، ان تک آسان انداز میں دینی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش ہو رہی، جس سے ہر عام و خاص طلبہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے آئندہ اسلامک کوئز کے پروگرام کا ایک منظم خاکہ بھی پیش کیا جس سے مزید طلبہ و طالبات مستفید ہو سکیں۔صدر محترم نے سامعین کے سوالات کا جواب بھی دیا اور سوال سے متعلق برمحل رہنمائی فرمائی۔

تمام طلبہ کو تشجیعی اور پوزیشن حاصل کرنے والے مساہمین کو خصوصی انعامات سے سرفراز کرنے کے بعد صدر محترم کی دعاء کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...