نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات و اعزازات کا انعقاد


مؤرخہ 25 / مارچ 2022 مطابق 21 شعبان 1443ھ بروز: جمعہ خیر النساء بہتر ہال ندوہ روڈ، لکھنؤ میں اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات و توصیفی اسناد کا انعقاد ہوا، جس میں اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے عہدیداران و ممبران، طلبہ و اسکالرز اور مستفدین و وابستگان کو انعامات اور توصیفی و اعزازی اسناد سے نوازا گیا۔ اس باوقار سالانہ تقریب میں طلباء و اسکالرس نے مختلف عناوین پر نمائندہ مضامین و مقالات، تبصرے ترجمے اور نظمیں پیش کیں، جن سے شرکاء بہت محظوظ ہوئے۔ 


نامور محقق فیصل احمد ندوی ( استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ ) نے دار البحث والاعلام، لکھنؤ کی علمی و ادبی کاوشوں کے تئیں اپنی قدر دانی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ: " ندوۃ العلماء جن متعین اہداف اور بلند ترین مقاصد کےلیے قائم ہوا تھا، دارالبحث والاعلام، لکھنؤ اپنے پلیٹ فارم سے ان کی بعض اہم جہات پر کام کر رہا ہے، جس کی شدید ضرورت ہے۔ زمانہ شناسی، زمانہ کے ساتھ ہم آہنگی، حالات سے باخبری اور ذرائع ابلاغ جیسے سے دیگر اہم شعبوں کے لیے افراد سازی ایک قابل قدر کام ہے۔ مولانا نے وقت کی پابندی اور اس کے درست استعمال پر بھی خصوصی توجہ مبذول کرائی.


تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر محمد ادریس قاسمی ندوی (اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ عربی، لکھنؤ یونیورسٹی) نے طلبہ و اسکالرز کے تعلیمی مظاہرے اور نظم و ضبط کو خوب سراہا، مزید آپ نے اس کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ارباب اختصاص سے سے کسب و استفادہ کی خصوصی تلقین کی۔ مفتی رحمت اللہ ندوی ( استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ: " تنوع کے ساتھ توازن و اعتدال لازمی ہے"، مزید فرمایا کہ: "مقالہ نگار اپنے علم میں گہرائی پیدا کریں اور حوالے کے اہتمام کو لازم پکڑیں"۔ 

اس کے علاوہ اسکالرز: قمر الزمان ندوی، کے۔ آر۔ فیضی اور ضیاء الرحمن کریمی ندوی نے اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی علمی خدمات پر روشنی ڈالی اور اس کے علمی و ثقافتی سرمایوں کی حفاظت، نشر و اشاعت اور اللقاء کے تمام شرکاء و مستفدین کی تنظیم ِ نو کا عزم ظاہر کیا۔ محمد مرغوب الرحمن ندوی ( جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ ) نے شرکاء خدمت میں اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی 2020 تا 2022 کی مفصل رپورٹ پیش کی۔ 


 تقسیم انعامات کا سیشن بہت حوصلہ افزا رہا، جس میں سب سے پہلے عہدیداران کو مہمان خصوصی مولانا فیصل احمد ندوی بھٹکلی اور معزز مہمان مفتی رحمت اللہ ندوی نے اپنے دست مبارک سے شیلڈ کے علاوہ کتاب، ڈائری اور قلم پر مشتمل فائل سے نوازا۔ اس کے بعد اسکالرز، وابستگان اور سرگرم طلبہ کی عزت افزائی؛ مختلف مہمانوں کے دست مبارک سے میڈل اور فائل دے کر کی گئی۔ 


تقریب کی نظامت کرتے ہوئے ہوئے دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کے ڈائریکٹر مسعود عالم ندوی نے تمام مہمانانِ گرامی قدر اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ: " اللقاء الثقافی،لکھنؤ ایک ایسا علمی و فکری اور میدانی پلیٹ فارم ہے؛ جو ماہرین کی رہنمائی، ایکٹو گروپس کے تعاون اور فعال اداروں کے اشتراک سے زبان و ادب، فکر اسلامی، تاریخ، علومِ شرعیہ، ملکی و بین الاقوامی قانون، تدریس و تحقیق، صحافت و ابلاغ، استقبال و ترسیل وفود، نظم و انتظام، کیریئر کونسلنگ، گائیڈنس جیسے اہم شعبوں میں گذشتہ ایک دہائی سے سرگرم عمل ہے، اس یونٹ کی کوکھ سے اب تک دسیوں تعلیمی و سماجی یونٹ نکل کر میدانِ عمل میں مصروف کار ہیں۔ اس باوقار علمی اور تربیتی پلیٹ فارم کی قدر افزائی کےلیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں"۔  

کلمات تشکر اور دعائے ماثورہ کے ساتھ تقریب کا اختتام ہوا۔ 


*بقلم: مرزا ریحان بیگ*

*( سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ )*

25/03/2022۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...