(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی گیارہویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)
دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 02/ 25 مطابق 22/ رجب المرجب 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کےلئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
میرا انتخاب، میری تخلیق
میری تخلیق، میرا انتخاب
کی گیارہویں نشست منعقد ہوئی، جس کا آغاز محمد عزیر کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ ذکی احسن فہمی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فاؤنڈر، عظیم ریفارمر اور جدید اردو نثر کے بانی سرسید احمد خان کی تحریر" عورتوں کے حقوق" کی تلخیص پیش کی۔ سر سید اپنے اس مضمون میں ترقی یافتہ ممالک اور اسلام کی طرف سے عورتوں کو دیے گئے حقوق کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر، قدر و منزلت عورتوں کی مذہب اسلام میں کی گئی ہے، ان کے حقوق اور ان کے اختیارات کو مردوں کے برابر کیا گیا ہے، اس قدر آج تک کسی تربیت یافتہ ملک میں نہیں ہے۔ مسلمان قانون میں عورتوں کےلیے مردوں کے برابر حقوق و اختیارات تسلیم کئے گئے ہیں، لیکن مسلم سوسائٹی میں عورتوں کے ساتھ ویسے مراتب برتے نہیں جاتے ہیں"۔
• محمد شاہنواز ( سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مشہور عربی اہل قلم مصطفی لطفی منفلوطی کی ادبی تصنیف العبرات سے مارگریٹ (مرغریت) کی ڈائری کا وه حصه پیش کیا، جو خط و کتابت پر مشتمل ہے۔ محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مکاتیب شبلی سے سر سید کے نام علامہ کاخط پیش کیا، جس میں مکتوب نگار نے سفر قسطنطینیہ اور اس کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں" قلمی کتابیں یہاں نہیں ملیں، مصر میں کبھی کبھی ہاتھ آجاتی ہیں، اس لئے صرف مطبوع کتابیں خریدی جاسکتی ہیں، لیکن ان کی تعداد بھی معتدبہ ہے۔ یہاں امام غزالی کی تمام کتابیں اور رسالے موجود ہیں، مکاتبات کا نسخہ بھی ہے۔ بو علی سینا کی اس قدر تصنیفات ہیں کہ کہیں نہ ہوں گی۔ ارسطو وغیرہ کی کتابوں کے اصلی ترجمے نہایت قدیم خط میں موجود ہیں۔ معتزلہ کی کتابیں البتہ ناپید ہیں۔ عبدالقادر جرجانی کی تفسیر ہے پر اس میں کوئی نئی بات نہیں۔ یہاں کا ٹائپ بے انتہا عمدہ ہے، تمام دنیا میں اس کا نظیر نہیں۔ عدنان شمیم نے خدائے سخن میرتقی میر (1723- 1810ء) کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کیا۔ ساتھ ہی ان کی مشہور غزل "پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے" کے منتخب اشعار سے سامعین کو محظوظ کیا، جو مندرجہ ذیل ہیں:
پتا پتا، بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے، گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے
مہر و وفا و لطف و عنایت، ایک سے واقف ان میں نہیں
اور تو سب کچھ، طنز و کنایہ، رمز و اشارہ جانے ہے
• شیخ عبداللہ ابرار نے "صور من حیاۃ الصحابہ“ از ڈاکٹر عبد الرحمن رأفت پاشا سے حبشی النسل، جبیر بن مطعم کے غلام وحشی بن حرب کا سوانحی خاکہ اور ان کے توبہ وکفارہ پر مشتمل ادب پارہ پیش کیا، انہوں نے سید الشہداء، حضور کے پیارے چچا حضرت سیدنا حمزہ ؓ کو جنگ احد میں شہید کرکے رسول اللہ اور مسلمانوں کا دل بری طرح زخمی کیا تھا، لیکن پھر تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور جنگ یمامہ میں نبوت کے جھوٹے دعویدار، مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن مسیلمہ کذاب کو قتل کرکے اپنا کفارہ ادا کیا۔
دار البحث والاعلام، لکھنؤ کی دعوت پر سیمانچل سے دس روزہ تعلیمی ٹور پر آئے ہوئے دو مہمان طلبہ؛ مغفور عالم اور سعد مرغوب نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ایس ایس یو آئی (سیمانچل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا) کے اغراص و مقاصد اور خطے میں اس کی ضرورت و فعالیت پر روشنی ڈالی اور کہاکہ اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے طرز پر ان شاء اللہ ہم لوگ بھی اپنے حلقے میں تحقیقی کام کریں گے۔ اس سے قبل اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے جنرل سکریٹری مرغوب الرحمن ندوی نے دونوں مہمانوں کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے طلبہ ونگ کی طرف سے ڈائری، قلم اور فائل پیش کیا۔
• مہمان اسکالر اور اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے دیرینہ رفیق محمد سالم برجیس ندوی نے "کرپٹو کرنسی: ایک مطالعہ" پر اپنی تحقیق پیش کی۔ کرنسیوں کی مختصر تاریخ اور لین دین کے تبادلے میں اس کے استعمال کو بیان کرتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی، ورچوئل کرنسی، کرپٹو کرنسی کا مختصر تعارف کرایا، ساتھ ہی اس کے ارتقاء کا جائزہ بھی پیش کیا۔ کرپٹو کرنسی کو لانچ کرنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے سنتوش ناکاموٹو کے حوالے سے کہا کہ "کرپٹو کرنسیاں روایتی مالیات یا حکومت کے تعاون سے چلنے والی کرنسیوں کو ختم کرنے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ مزید مالیاتی آزادی کے لیے ہیں. آپ نے مزید کہا کہ ملک عزیز ہندوستان کے فقہاء کے یہاں کرپٹو کرنسی اور جدید مسائل کے حوالے سے فعالیت میں کمی نظر آتی ہے۔ شرح صدر میں ہی دہائیاں بیت جاتی ہیں۔ نوجوان محققین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جمود کو توڑیں۔
• اخیر میں مسعود عالم ندوی ( ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے شرکائے نشست کی کاوشوں کو سراہا، اور "فعالیت میں متبادلات کی اہمیت" پر خصوصی گفتگو فرمائی۔ راقم الحروف نے گزشتہ ہفتے 18/فروری 2022 بمطابق16/ رجب المرجب 1443ھ کو منعقد: اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی مفصل روداد پیش کی۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے جنرل سکریٹری محمد مرغوب الرحمٰن ندوی نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔
• دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: مرزا ریحان بیگ
(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)
25/02/2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں