نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

"اصلاح معاشرہ: منصوبہ بند عصری طریقے" سماج کی اصلاح سے وابستہ افراد اور اداروں کےلیے ایک گائیڈ بک: رضی الاسلام ندوی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی دسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) 

دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 02/ 18 مطابق 16/ رجب المرجب 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کےلئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب


کی دسویں نشست منعقد ہوئی، جس کا آغاز ذکی احسن فہمی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے ديوان الحماسة از ابو تمام حبیب بن أوس الطائی (803 - 845) سے بنی عنبر کے ممتاز شاعر "قریط بن أنیف" کی مشہور  نظم " لو کنت من مازن لم تستبح ابلي" کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔

• ذکی احسن فہمی نے امیر جماعت اسلامی ہند، فاضل مصنف جناب سید سعادت اللہ حسینی کی کتاب "اصلاح معاشرہ: منصوبہ بند عصری طریقے" پر ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب کا تبصرہ پیش کیا۔ 136/ صفحات پر مشتمل یہ کتاب اپنے موضوع کی اولین اور منفرد کوشش ہے۔ کتاب میں جہاں ان کمزوریوں اور رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے اصلاحی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں، وہیں اصلاح معاشرہ کا ایک نیا اپروچ تجویز کیا گیا ہے، جس میں جدید معاشرے کی پیچیدہ ترکیب اور ان میں تبدیلی کے ہمہ گیر تقاضوں کا لحاظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح سماجی تبدیلی اور سوشل انجینئرنگ کے جدید طریقوں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ اصلاح معاشرہ کا سماجیاتی اپروچ اصلاح معاشرہ اور درپیش رکاوٹیں، سماجی معمولات، اصلاح معاشرہ اور سوشل انجینئرنگ جیسے اہم اور فکری موضوعات کو مصنف نے سادہ عبارت میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اصلاح معاشرہ کا عظیم فریضہ انجام دینے والوں کے لیے یہ ایک رہنما کتاب ہے جو منصوبہ بند، ترقی یافتہ اور جدید طریقوں کے ذریعے سماج کے اندر بہتر تبدیلی لانے کا خاکہ پیش کرتی ہے۔ 

• عبداللہ مجاہد (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے پندرہ روزہ عربی مجلہ" الرائد" سے عربی خبر کا اردو ترجمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کناڈا کی ایک عدالت نے ایران سے کہاہے کہ وہ یوکرین کے  مسافر بردار طیارہ میں ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو 107/ ملین ڈالر کا معاوضہ ادا کرے۔ معظم علی (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے"ہماری بادشاہی از عبد السلام قدوائی ندوی" سے پہلے خلیفہ راشد حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروقؓ کی حالات زندگی اور ان کے کارناموں کی تلخیص پیش کی۔

• عدنان شمیم نے عظیم شاعر، عالمی ادب میں اردو کی آواز اور خواص و عوام دونوں میں مقبول، نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالبؔ بہادر نظام جنگ (1797 - 1869) کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کرتے ہوئے ان کی مشہور غزل"بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا" سامعین کی خدمت میں پیش کی، جس کا انتخاب مندرجہ ذیل ہے: 


بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا 

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا 

گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی 

در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا 

وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو 

آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا 


• اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے سینئر ممبر وقار احمد ندوی نے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ تفسیر و ادب مولانا سلمان نسیم ندوی زید مجدہ کی عربی تحریر "التطبيع والقيم الإنسانية" کا اردو ترجمہ پیش کیا۔ سادہ عبارت، سہل طرزِ ادا اور لفظوں کے انتخاب کو شرکاء نے خوب سراہا۔ اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے ممبر محمد فضیل بیگ نے عربی کے مشہور ادیب شیخ علی طنطاوی کے اسلوب نگارش کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ڈائری کا ایک ورق پیش کیا، جس میں ڈائری نویس نے رمضان میں آنے والی تیز و تند آندھی اور اس کی تباہ کاریوں کو مؤثر ادبی پیرائے میں بیان کیا۔

• نشست کی صدارت کرتے ہوئے ریسرچ اسکالر جناب قمر الزماں ندوی (ڈائریکٹر: اپنا کتاب ہاؤس، لکھنؤ) نے شرکاء کی متنوع اور عمدہ پیشکش پر خوشی کا اظہار کیا اور حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے مضامین و مقالات کی تصحیح کی، سوالوں کے جوابات دئے اور نشست کے تئیں چند رہنما ہدایتیں بھی دیں۔ راقم الحروف نے 2022/ 02/ 11 کو گرامی قدر استاذ محترم مسعود عالم ندوی زید مجدہ (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) کی نگرانی میں منعقد: اللقاء الثقاقی، لکھنؤ کی مفصل روداد شرکائے نشست کے سامنے پیش کی۔ اس موقع پر فخر الزماں اور عبد الرحمن فیصل بھی موجود تھے۔

• واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقاقی، لکھنؤ کے جنرل سیکریٹری محمد مرغوب الرحمن ندوی نے کی۔ سوال و جواب اور تاثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا۔ 

اخیر میں دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔ 


بقلم: مرزا ریحان بیگ

(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

18/02/2022

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...