نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امتحان کی تیاری کےلیے وقت کی تنظیم، غذا ميں توازن، مناسب نيند اور منصوبہ بندی ضروری ہے: مسعود عالم ندوی

دعاء، تلاوت، ورزش اور صبح کی بیداری سے امتحان کی تیاری میں مدد ملتی ہے: محمد عزیر

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی آٹھویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) 

دارالبحث والاعلام - لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى - لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 02/ 04 مطابق 02/ رجب المرجب 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب

کی آٹھویں نشست منعقد ہوئی، جس میں تلاوت کی سعادت محمد عزیر نے حاصل کی۔ محمد ذکی احسن نے مطالعہ کی اہمیت و ضرورت کے پیش نظر ایک مؤثر تحریر سامعین کے سامنے پیش کی اور بتایا کہ انسان کو متوازن رکھنے میں بہت سے عوامل کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، مگر سب سے بڑا اور فیصلہ کن کردار مطالعہ کا ہوتا ہے، اس سے انسان میں قائدانہ بالغ نظری پیدا ہوتی ہے، اس کے لیے وقت کا تعین، مطالعہ کی عادت اور واضح منصوبہ سازی ضروری ہے۔ اللقاءالثقافی۔ لکھنؤ کے جنرل سکریٹری محمد مرغوب الرحمن ندوی نے اپنی ذاتی ڈائری کا ایک ورق پیش کیا، جس میں ڈائری نویس نے رسائل و جرائد کی افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کا بین الاقوامی جریدہ" ماہنامہ اردو دنیا" نئی دہلی پر اپنا تبصرہ پیش کیا اور بتایا کہ یہ جریدہ نثری ادب کا رکھوالا ہے، محققین اور ریسرچ اسکالر کے لئے مشعل راہ ہے، اس میں مختلف موضوعات پر معلوماتی، پر مغز اور فکر انگیز مضامین ہوتے ہیں۔ معظم علی نے علامہ اقبال کی مشہور تصنیف "بال جبرئیل" سے ایک سبق آموز غزل پیش کی، جس میں شاعر نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک محب کے لئے محبوب کے وصل کی آرزو سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں، محبت کو مال و دولت سے تولا نہیں جاسکتا۔ غزل کے چند اشعار پیش ہیں:


متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی

مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں

کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی 


محمد عزیر نے "امتحان کی تیاری کیسے کریں؟“ کے عنوان پر اپنا وقیع انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے طلباء امتحان کی تیاری میں اس طرح منہمک ہوجاتے ہیں کہ صحت و تندرستی، سونے جاگنے، کھانے پینے، ملاقاتیں، ورزش اور ڈائری نویسی تک کو بالکل بھول جاتے ہیں، لیکن یہ طریقۂ کار بہتر نہیں ہے، بلکہ امتحان کی تیاری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مذکورہ امور کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اللقاءالثقافی۔ لکھنؤ کے ممبر فضیل بیگ نے مفکر اسلام علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تصنیف "ردة ولا أبابكر لها“ کے اسلوب کی پیروی کرتے ہوئے اپنا عربی مقالہ پیش کیا، اس کی فصاحت و بلاغت اور اثر آفرینی نے باذوق سامعین پر ایک کیفیت طاری کردی۔ عدنان شمیم نے علامہ سیماب اکبر آبادی (1880_1951) کا سوانحی خاکہ پیش کرتے ہوئے ان کے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا، جو درج ذیل ہے:


اے اہل وطن! جان وطن بن کے دکھا دو

تم خاک کے ذروں کو بھی انسان بنا دو

انسان وہ ہے علم کی جس میں ہو تجلی 

حیواں کو کبھی علم ملا ہو تو بتا دو

خود بھی پڑھو بننے کے لئے عالم و کامل

ان پڑھ کوئی مل جائے تواس کو بھی پڑھا دو 


اللقاء الثقافی- لکھنؤ کے سکریٹری برائےشعبۂ اخبارات و رسائل مرزا ریحان بیگ نے اپنے شعبہ کی مفصل رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللقاءالثقافی۔ لکھنؤ کے تحت سہ ماہی "فکر و تحقیق" نئی دہلی، "معارف" اعظم گڑھ، "زندگئ نو“، "بچوں کی دنیا“، "اردو دنیا“، "تعمیر حیات“، "ایوان اردو“، "الرائد“، "البعث الاسلامي“، "صحافت“، "اخبار مشرق“، "انقلاب“، "سہارا“، "آگ“، "دی ہندو“، "دی انڈین اکسپريس“ اور "دینک جاگرن“ وغیرہ جیسے علمی، ادبى، تحقیقی، سیاسی اور سماجی اخبارات و رسائل آتے ہیں، جو ہمیں باشعور بنانے کے لیے یہاں موجود ہوتے ہیں، ان بیش بہا علمی سرمایے سے خوب خوب استفادہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اللقاءالثقافی۔ لکھنؤ کے ممبر عبد اللہ مجاہد نے سورة اللهب کی تلاوت کی، جس میں اہل ایمان کےلیے تقویت کی خوشخبری اور اہل کفر کےلیے دائمی ذلت کی وعید ہے۔ 


ریسرچ اسکالر جناب مولانا قمر الزماں ندوی (ڈائریکٹر: اپنا کتاب ہاؤس- لکھنؤ) نے اللقاءالثقافی۔ لکھنؤ سے اپنی طویل علمی و فکری اور انتظامی وابستگی کا تذکرہ کیا، شرکاء کی متنوع پیشکش پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: "نو منتخب عہدیداران و ممبران کی حسن کارکردگی، عمدہ تنظیم اور معیاری انتخابات و تخلیقات نے بہت مسرور کیا، بلکہ اس حوالے سے نمایاں ترقی نظر آرہی ہے، یہاں حاضری اور اس سے نسبت میرے لئے باعث افتخار ہے“۔ نشست کی صدارت کرتے ہوئے مسعود عالم ندوی(ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام۔ لکھنؤ) نے پیش کردہ مقالات و مضامین کی تصحیح کی، سوالوں کے جوابات دیئے اور امتحان کے تعلق سے رہنما ہدایتیں دیں۔ مولانا عباد الرحمن صدیقی ندوی (ڈائریکٹر: جامعہ خدیجہ الکبری للبنات- لکھنؤ) نے شرکاء کے تئیں قدر دانی کا اظہار کیا اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ 


راقم السطور محمد شہنواز نے گزشتہ ہفتہ 28/جنوری 2022 کو منعقد: اللقاءالثقافی۔ لکھنؤ کی مفصل روداد شرکاء کے سامنے پیش کی۔ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی- لکھنؤ کے جنرل سیکرٹری محمد مرغوب الرحمن ندوی نے کی۔ سوالات و جوابات اور تاثرات و تصحیح کا سیشن بھی دلچسپ رہا، جس سے شرکاء نے خوب استفادہ کیا۔ 

دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر پر نشست کا اختتام ہوا۔


بقلم: محمد شہنواز

(سکریٹری:اللقاءالثقافی۔لکھنؤ)

            04/02/2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...