نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سیکولر پارٹیوں کا ظاہری سیکولرزم

 سیکولر پارٹیوں کا ظاہری سیکولرزم

کافی عرصہ سے یہ آواز مسلسل اٹھ رہی ہے کہ سیکولر پارٹیاں اب مسلمانوں کا نام لینے سے بھی ڈرنے لگی ہیں۔ دہائیوں تک مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے کے بعد اب جب ہندتوا کی خونخوار آندھی چلی ہے تو اپنا وجود بچانے کے چکر میں خود سیکولر پارٹیاں نیم خونخوار بننے کی راہ اختیار کرنے کی حماقت کررہی ہیں۔ اس کی مثال کئی واقعات سے مل جاتی ہے۔ سی اے اے این آر سی تحریک سے لے کر ابھی حال ہی میں آصف کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ میں آپ یوپی اور دیگر ریاستوں کی سیکولر پارٹیوں کا موقف دیکھ لیں۔ سی اے اے این آر سی تحریک میں تو ان پارٹیوں نے انگلی کٹوا کر نہیں بلکہ اپنی انگلیوں میں سوئی چبھو کر شہیدوں میں نام لکھوانے کی کوشش کی۔ ایسے میں ایک بات تو بہت واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ جن لوگوں کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہندوتوا کا خونی ورژن منہ کو لگ چکا ہے وہ لوگ سیکولر پارٹیوں کے دکھاوے کے ہندتوا کو تو قطعی پسند نہیں کریں گے، اور انتخابات میں انہیں ان ہندوتوا نوازوں سے کوئی ووٹ نہیں ملے گا۔ یہی بات ششی تھرور نے اپنے ایک مضمون میں کانگریس کو نصیحت کرتے ہوئے واضح طور پر لکھی تھی کہ اگر کسی کو نقلی اور اصلی مال میں کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جائے تو وہ اصلی مال کو چنے گا، نہ کہ نقلی مال کو۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ جنہیں ہندتوا ہی پسند ہے وہ بی جے پی کا اصلی ہندوتوا قبول کریں گے، نہ کہ سیکولر پارٹیز کا نقلی ہندوتوا۔ کانگریس و سپا اور دیگر سیکولر پارٹیوں کی بقا بھی اسی میں ہے کہ اپنے آپ کو ہندو نواز ثابت کرنے کے بجائے مکمل طور پر سیکولر ثابت کریں۔ یہاں پر سیکولر ثابت کرنے کرنے کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی گود میں آکر بیٹھ جائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف وہ مکمل مورچہ لیں اور مذہب کی وجہ سے ظلم سہنے والوں کی آواز بنیں۔ آئین ہند بھی یہی کہتا ہے جس کی مکمل پاسداری کبھی کسی نے نہ کی۔

دوسری طرف مسلمانوں سے جب یہ نام کی ہی سہی سیکولر پارٹیاں دوری بنائیں گی تو مسلمان بھی ان سے نا امید ہو کر مختلف پارٹیوں میں اپنے ووٹ تقسیم کرے گا جس سے نہ کسی سیکولر پارٹی کا کوئی فائدہ ہوگا اور نہ خود مسلمانوں کو ہندوستانی طرز سیاست اور طرز حکومت میں اس کا کوئی فائدہ حاصل ہوگا، نتیجتا یہ سیکولر پارٹیاں سال بہ سال اپنا وجود کھونے لگیں گی اور پھر پورے ہندوستان میں خونی ہندوتوا ورژن ہی مکمل راج کرے گا۔

سیکولر پارٹیوں کو اتنی موٹی سی بات پتہ نہیں کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ ان کا ظاہری اور اندرونی طور پر سیکولر رہنا ہی ان کے وجود کا ضامن ہے، ورنہ مسلمانوں کا نقصان تو اس ملک میں ہمیشہ سے ہوتا ہی آیا ہے لیکن اب وہ سیکولر پارٹیاں خود اس طوفان کی چپیٹ میں آکر ختم ہوجائیں گی، یا انہیں مکمل ہندوتوا وادی ہی بننا پڑے گا۔ اس ملک میں مسلمانوں کا جو نقصان ہونا ہے وہ تو آزادی کے بعد سے ہو ہی رہا ہے اور اس نقصان میں مسلسل اضافی بھی ہے لیکن خونی ہندتوا کا مکمل غلبہ براہ راست اس ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ بنے گا۔ یہ کس طرح ہوگا اسے سمجھنے کے لیے خوشونت سنگھ کی "د اینڈ آف انڈیا" کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے. اس کتاب میں خوشونت سنگھ نے بہت واضح انداز میں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ سیکولر پارٹیوں کی منافقت کی وجہ سے ملک میں ہندو انتہا پسندی اس درجہ کو پہنچی اور آگے بھی وہ اسی روش پر چلتے رہے تو اس کا نتیجہ اس ملک کے لیے بہت بھیانک ثابت ہوگا۔ 

(29/مئی/2021)

اسامہ طیب: فائل فوٹو


                                                                                                                                                    


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...