| بقلم: مولانا زین الحق ندوی: فائل فوٹو🖋 |
مؤرخہ ۱۳،فروری بروز اتوار بعد نماز مغرب شہر لکھنؤ کے قدیم
علاقہ چوپٹیاں میں واقع مدرسہ اسلامیہ محمدیہ میں مولانا محمد سلمان صاحب ندوی،مولانا
محمد خبیب صاحب حسینی ندوی اور مولانا
محمد عفان صاحب ندوی (اساتذہ مدرسہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ) کی معیت میں راقم السطور
کی حاضری ہوئی۔
اس ادارہ کے مہتمم مولانا محمد فیض صاحب ندوی ہیں،جو
دارالعلوم ندوۃ العلماء سے ۲۰۱۱ء میں فارغ ہوے،فی الوقت خواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی
میں شعبہ اردو میں ریسرچ اسکالر ہیں،اللہ نے مولانا کو علمی،فکری،اخلاقی اور
انتظامی صلاحیتوں کا جامع بنایا ہے۔ راقم السطور کے مولانا محمد فیض صاحب سے تقریبا
گزشتہ چھ سالوں سے عمدہ مراسم ہیں،اور کئی ملاقاتیں اس ادارہ میں بھی ہوچکی ہیں،آج
ملاقات کے علاوہ ادارہ میں جاری تعلیم کا مشاہدہ بھی مقصود تھا،اس لئےبذریعہ فون
صبح ہی رابطہ کیا اور بعد نماز مغرب سات
بجے ملاقات کا وقت طئے ہوا۔
ہم سب بعد نماز مغرب سات بجے پہنچے،مولانا نے
پرتپاک استقبال کیا،اس ادارہ کے منتظم محمد شارب صاحب تشریف لائے ہوے تھے ان سے بھی
ملاقات ہوئی،محمد شارب صاحب ریئل اسٹیٹ ڈویلپر(real estate developer )ہیں،لیکن
موصوف خدمتِ دین کے لئے انتہائی سرگرم عمل و مخیر ہیں،طلبہ و اساتذہ کو سہولیات
فراہم کرنے اور ادارہ کی ضروریات کی تکمیل کے لئے بڑے فکر مند رہتے ہیں،c c tvکیمرے نصب ہیں جن کے ذریعہ بذات خود آن لائن
نگرانی رکھتے ہیں۔
مدرسہ اسلامیہ محمدیہ ایک غیر اقامتی ادارہ ہے،جس
میں شعبہ ناظرہ و شعبہ حفظ قائم ہے،جس میں گیارہ سو سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں،
صبح،ظہر بعد اور مغرب بعد تینوں وقت تعلیم ہوتی ہے،شعبہ ناظرہ کے طلبہ حسب سہولت
کسی ایک وقت آتے ہیں جبکہ شعبہ حفظ کے طلبہ کی حاضری تینوں وقت لازمی ہے،دس سال سے
زائد بچیوں کے لیے نقاب لازمی ہے، اور معلمات کےذریعہ بڑی بچیوں کے لئے تعلیم کا
نظم ہے۔تجوید پر خصوصی توجہ ہے اور قراءت کی مشق کے ساتھ ساتھ اردو زبان (خوشخطی
اور کتابت کی مشق پر خصوصی توجہ) اور اسلامیات کے نام سے ادارہ کا تیار کردہ نصاب
زیر تعلیم ہے،خطابت، نعت وغیرہ کی بزموں کا انعقاد نیزوقتا فوقتامختلف مسابقات بھی
منعقد کئے جاتے ہیں۔
ایام تعطیل میں بھی تعلیمی رشتہ منقطع نہ ہونے
پائے اس کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے جاتے ہیں،مثلا home workکے ساتھ ساتھ روزانہ اسلامی تاریخ سے متعلق دو
سوال ارسال کئے جاتے ہیں اور مدرسہ کھلنے پر ان سولات پر مشتمل اسلامی کوئز کا
انعقاد کیا جاتا ہے۔
اس ادارہ کے سینئیر استاذ حافظ عبداللہ صاحب ندوی
نے پورے ادارے کا معاینہ کرایا، یہ ادارہ 2008ءمیں جناب شارب صاحب کی کاوشوں
سے قائم ہوا،گزشتہ چند سالوں سے تعلیم و
تربیت اور تہذیب و ثقافت کے بلند معیار سے کافی معروف ہے۔
راقم السطور تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ رہا،جن سرگرمیوں
کا مشاہدہ کیا اور واقف ہوا اس کے قابل ذکر پہلو یہ ہیں:
۱۔ ترغیب و تشویق:
خوف کے بجائے صرف شوق دلاکر طلبہ کو پڑھانا،punishment کے
بجائے counselling کے ذریعہ
طلبہ کو تعلیم پر یکسو رکھنا، پٹائی(ضرب)بالکل ممنوع ہے،ترغیب کے لئے مختلف شکلیں
اختیار کی گئی ہیں،مثلا ماہانہ مستقل حاضری
پر ہر درجہ میں جتنے بچے بھی ہوں،سب کو سرٹیفکیٹ کے ساتھ 50 روپئے نقد انعام۔
۲۔ نظافت:
اسلامی وضع و قطع کے ساتھ سب ایک صاف و ستھرے
لباس (dress)میں
طلبہ کی تعلیم کا نظم ہے۔ دفتر سے کے کر درجہ تک وضو خانہ سے لے کر جوتے رکھنے تک
نظافت و سلیقہ مندی کا مثالی نمونہ ہے۔
۳۔ نگرانی:
تعلیم،تربیت اور نظافت کے اہتمام پر منتظم و
مہتمم کی مکمل نگرانی،ماہانہ تعلیمی رپورٹ کا مستحکم نظام،cctv کیمرےکے
ذریعہ مکمل و مستقل نگرانی،کمیوں کی تلافی اور مستقبل کی بہتری کے لئے حسب موقع
انتظامیہ و اساتذہ کی میٹنگ،( اتفاق سے آج بھی میٹنگ تھی،اور ہم سب کی حاضری کے
وقت سات بجے ختم ہوئی۔
۴۔ تعلیمی معیار کی بلندی کی تدبیریں:
تعلیم و تربیت کے معیار کی بہتری کے اسباب معلوم
کرنے پر انتظامیہ نے کہا اس کا کریڈٹ اساتذہ کو جاتاہے،یہ سب ان کا اپنی ذمہ داری
کے تئیں سنجیدہ رہنے کا اثر ہے۔اس کے لئے ہماری کوشش صرف دو رہتی ہیں:
(الف)
تقرری کے وقت حسن انتخاب: تدریس کے لئے فکر مندی اور اہلیت کے ہونے نیز
ادارہ کی ترقی کے لئے مخلص ہونے کو ہم ترجیح دیتے ہیں،محض ضرورت مند ہونے اور
رابطہ کی بناء پر آنے والے کو ہم ترجیح نہیں دیتے،
(ب)
تدریس کے لئے یکسوئی فراہم کرنا:انتظامیہ کی جانب سے اساتذہ کا ہر ممکن تعاون
کرنا،تدریس کے علاوہ اساتذہ سے تحصیل(چندہ)وغیرہ غیر تدریسی کام کا بار نہ ڈالنا۔
۵۔ مستحکم
و اپڈیٹ نظامِ تعلیم:
غیر حاضر طلبہ کے سرپرستوں سے وجہ دریافت
کرنے،اور تعلیمی و تربیتی رپورٹ دینے کے کام پر دفتر میں دو کارکن موجود ہیں،چار
اضافی استاذ ہیں،جو رخصت پر رہنے والے اساتذہ کی جگہ پر متبادل استاذ کے طور پر
درس دیتے ہیں،تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہونے پائے۔
الوداعی ملاقات کے وقت مہتمم صاحب کا یہ کہنا بڑا
متاثر کن رہا کہ معاینہ کے دوران جو کمیاں آپ نے دیکھیں ہیں،وہ بتائیں تاکہ بہتری
کا سلسلہ جاری رہے اور تلافی کی جاسکے۔بلاشبہ ادارہ کی کاوشیں قابل تحسین بھی ہیں
اور قابل تقلید بھی۔تاریخ گواہ ہے کہ جو ادارے بھی تقاضۂ وقت کے اعتبار سے وسائل
اختیار کرتے ہیں،اور ترجیحات طے کرتے ہیں،ان کی افادیت اور نافعیت کا سلسلہ ترقی کی
راہ پر گامزن رہتا ہے۔ اللہ اس ادارہ کو
مزید ترقیات سے نوازے،ہم سب کو خوب سے خوب تر کی تلاش میں پیہم کوشاں رہنے
اورتقاضئہ وقت کے اعتبار سے ترجیحات طئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں