مؤثر ترین شخصیات کی سات اہم عادتیں؛ امریکی ماہر تعلیم اسٹیفن آر کووے کی ایک رہنما کتاب: اسامہ طیب ندوی
ڈاکٹر شاداب منور موسی صاحب کی تصنیف "ٹیکنالوجی اور ہم" اردو زبان میں ڈیجیٹل ٹیک پر ایک چشم کشا اور جامع پیشکش: گوہر اقبال ندوی
(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی نویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)
دارالبحث والاعلام - لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 02/ 11 مطابق 09/ رجب المرجب 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
میرا انتخاب، میری تخلیق
میری تخلیق، میرا انتخاب
کی نویں نشست منعقد ہوئی، اس کا آغاز عبدالقادر محبوب کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ راقم الحروف نے علمی نشستوں کی تاریخ و اہمیت بتلاتے ہوئے بعد نماز عشاء متصلا روزانہ منعقد ہونے والی نشست میں زیر درس رسالہ "دینیات" پر اپنا تبصرہ عربی زبان میں پیش کیا۔ عظیم المرتبت اسلامک اسکالر اور انقلابی مفکر مولانا سید ابو الاعلی مودودی (1903-1979) کے انوکھے اسلوب بیان کا تذکرہ کرتے ہوئے کتاب کی خصوصیات پر درج ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی: "امور دین، عبادات، احکام شریعت کی حکمتوں کی سمجھ اور عقائد کی درستگی کے لیے نوجوانوں کو یہ رسالہ ضرور پڑھنا چاہیے۔ یہ رسالہ فقہی مسائل کی تفصیلات میں نہیں الجھاتا بلکہ عام فہم اسلوب، منطقی طرز استدلال اور عقلی و نقلی دلائل سے اسلامی عقائد و احکام کو ذہن نشین کراتا ہے"۔
• عبداللہ مجاہد نے کویت سے شائع ہونے والے عالمی شہرت یافتہ علمی و سماجی مجلہ " المجتمع" کی ایک عربی خبر کا رواں اردو ترجمہ پیش کیا، جس سے جنوبی سوڈان میں حکومت نواز سیکورٹی فورسز اور اپوزیشن گروپس کے درمیان ہونے والی ناقابل بیان مسلح اور پرتشدد جھڑپوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان مسلح جھڑپوں میں جنگی جرائم تک کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے سینئر ممبر عبدالقادر محبوب نے زیر مطالعہ علامہ شبلی نعمانی کی شہرۂ آفاق تصنیف "موازنۂ انیس و دبیر" سے اپنا انتخاب پیش کیا اور کہا کہ" استعارات و تشبیہات حسن کلام کا زیور ہیں، لیکن اس میں جب تکلف اور تصنع شروع ہوتا ہے تو اثر میں کمی آجاتی ہے"۔
• محمد عزیر نے ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی تحریر "أنتم أكبر من أن تخط لكم ثغور يا أهل فلسطين" کا رواں اردو ترجمہ "یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے" کے عنوان سے پیش کیا۔ تحریر میں غاصب یہودیوں کے ظلم و جبر اور ان کی سفاکی کو بیان کرنے کے ساتھ، جانباز فلسطینیوں کی جرأت و پامردی، ایمانی غیرت اور حکمت و دانائی کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ زبان کی سلاست اور لفظوں کے انتخاب کی شرکاء نے خوب داد دی۔ اللقاء الثقافی، لکھنو کے ممبر حسان عمر نے سیاحت ماجدی از عبدالماجد دریا بادی سے اپنا منتخب اقتباس پیش کیا، جس میں مصنف کتاب نے دریا گنج سے جڑے تاریخی واقعات کو منفرد ادبی اسلوب میں بیان کیا ہے۔ مفسر دریابادی اپنے ایک علمی مقالے "تفسیر قرآن کے جدید تقاضے" میں لکھتے ہیں کہ جدید مفسر کو تاریخ سے، جغرافیہ سے، اثریات (آرکیالوجی) سے، مذاہب غیر سے، دنیا کے دیگر علوم و فنون سے اور آخر میں سائنس کی موٹی موٹی تعلیمات سے ضرور واقف ہونا چاہیے۔
• محمد شاہ ظفر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مصر کے نامور محدث، محقق، فقیہ اور ماہر حیوانیات علامہ کمال الدین دمیری (1341-1405) اور صاحب طرز انشاء پرداز مصطفی لطفی منفلوطی (1876-1924) کا مختصر اور جامع تعارف عربی زبان میں کرایا۔ سینئر ممبر اشرف حسین نے نامور محقق اور مؤرخ احمد امین کی تألیف۔ "إلى ولدي" سے ایک منتخب اقتباس پیش کیا، جس میں جمال حسی( پھولوں کی شگفتگی، غنچوں کا تبسم، سبزہ کی لہلہاہٹ اور خوشبو کی مہک) کے ساتھ ساتھ جمال معنوی ( ظلم و جبر سے نفرت، عدل و انصاف سے محبت، تنگدستی اور بدحالی سے دوری، خوشحالی و آسودگی میں توازن) کو بھی اپنانے کی تعلیم دی گئی ہے۔
• عدنان شمیم نے علامہ اقبال (1877-1938) کا سوانحی خاکہ پیش کرتے ہوئے اس نابغہ روزگار شاعر کے منتخب کلام کا ایک عمدہ نمونہ بعنوان" تعلیم اور اس کے نتائج ( تضمین بر شعر ملا عرشی)" پیش کیا۔ نمونہ کلام ذیل میں درج ہے:
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقّی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
• اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے ممبر محمد فضیل بیگ نے مصطفی لطفی منفلوطی کے اسلوب نگارش کی پیروی کرتے ہوئے اپنا عربی مقالہ" الإحسان" کے عنوان سے پیش کیا، جس میں فقیروں اور بے بسوں کی امداد کے وقت ان کی حقیقت کو پہچاننے کی تعلیم دی گئی ہے۔ عمدہ اسلوب بیان اور شستہ زبان کی شرکاء نے خوب تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مضمون نگار، منفلوطی کے قلم سے قلم ملانے میں کافی حد تک کامیاب نظر آئے۔ شیخ عبداللہ ابرار نے "صور من حیاۃ الصحابہ" از ڈاکٹر عبد الرحمن رأفت پاشا سے صحابی جلیل، محب رسول، سیدنا ابوطلحہ انصاری اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنھما کی شادی پر مشتمل ادب پارہ پیش کرتے ہوئے ادب اسلامی کی جمالیات سے روشناس کرایا۔
• مہمان اسکالر جناب اسامہ طیب ندوی نے مشہور امریکی مصنف، ماہر تعلیم Stephen Covey کی مشہور زمانہ تصنیف" The 7 Habits of Highly Effective People پر اپنا تبصرہ پیش کیا۔ کتاب میں مذکور ساتوں عادات کو مختصراً عام فہم اسلوب میں سمجھانے کی کوشش کی جو حسب ذیل ہیں: فعالیت، مسائل کی تفہیم، مقاصد و ترجیحات کی تعیین، ہر ایک کے لیے خیر اور ان کے استحصال سے بچنے کی فکر، سننے کی عادت اور اس کے لیے صبر، وسیع ذہن اور سننے کی خواہش، جماعت کے ساتھ کام کرنے کا جذبہ، مقصد کے حصول کے لیے وسائل کی تسخیر۔ ان تمام عادات کی پیروی سے ہم موثر شخصیات کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔ کتاب کی اہمیت واضح کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس کتاب کا مطالعہ ایک والد، ایک استاد، ایک شوہر، ایک منتظم، ایک طالب علم کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا۔
• مہمان اسکالرگوہر اقبال ندوی نے ڈاکٹر شاداب منور موسی کی مایۂ ناز تصنیف "ٹیکنالوجی اور ہم"(ناشر: وہائٹ ہاؤس پبلشرز) پر کیا گیا اپنا تبصرہ پیش کیا۔ یہ کتاب اردو زبان میں ٹیکنالوجی پر مہیا مواد میں بہترین اضافہ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے متعلق بحث میں اولین پیشکش ہے۔ مصنف نے کتاب کو چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے، جن میں نہ صرف ڈیجیٹل ٹیک کی لت کے انسانی ذہن و دماغ، صحت، خاندان اور معاشرے پر پڑرہے برے اثرات کا تجزیہ پیش کیا ہے، بلکہ ٹیکنالوجی کے اس نہج پہ پروان چڑھنے یا چڑھائے جانے کے عمل، اس کی تاریخ و سیاست اور مقاصد کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا میں دلچسپی رکھنے والوں کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے؛ تاکہ اس کی اچھائیوں سے مستفید اور مضر اثرات سے بچا جا سکے۔
• اخیر میں صدر محترم مسعود عالم ندوی ( ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے سبھوں کی کاوشوں کو سراہا، شرکاء کے تئیں قدردانی کا اظہار کیا اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ محمد شاہنواز ( سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) گزشتہ ہفتے 4/فروری 2022 بمطابق2/ رجب المرجب 1443ھ کو منعقد: اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی مفصل روداد پیش کی۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے جنرل سکریٹری محمد مرغوب الرحمٰن ندوی نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔
دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: مرزا ریحان بیگ
(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)
11/02/2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں