نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

الکحل اور اس سے تیار شدہ اشیاء کی طہارت راجح ہے: مفتی عالمگیر ندوی



خان محبوب طرزی کی تحریریں نئی نسل کےلیے قابل تقلید ہیں: ایس ایم حسینی

(طلبہ اور اسکالرز کے لئے تخلیقی اور تربیتی سیریز کی ساتویں نشست کا خیرالنساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) 


دارالبحث والاعلام۔ لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقاقی۔ لکھنؤ کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 01/ 28ء مطابق 24/ جمادی الاخریٰ 1443ه‍ بروز: جمعہ بوقت: 00: 08 ۔ 00 :09 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرز کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:


میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب


کی ساتویں نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔ محمد ذکی احسن کی تلاوت سے شروع ہونے والی اس بزم میں، محمد معظم نے ہندوستان پر مسلم حکمرانی کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلم حکمرانوں نے یہاں کے باشندوں کو تہذیب وثقافت، عدل وانصاف کا درس دیا، مذہبی آزادی دی اور حکومت کرنے کا طریقہ سکھایا، لیکن افسوس کہ آزادی کے بعد ملک کی جو تاریخ مرتب کرکے سرکاری نصاب میں شامل کی گئی، اس میں سراسر جانبداری سے کام لیا گیا، حالاں کہ انصاف پسند غیر مسلم مؤرخین نے جو تاریخ مرتب کی، اس میں ان حکمرانوں کے اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مذہبی رواداری اور عدل وانصاف کی ایسی مثالیں ملتی ہیں، جو متعصب مؤرخین کے الزام سے میل نہیں کھاتیں۔ 


اللقاء الثقاقی۔ لکھنؤ کے ممبر محمد حسان عمر نے سیاحت ماجدی از عبد الماجد دریا بادی سے نہایت مؤثر ادبی اقتباسات سامعین کی خدمت میں پیش کیا، موصوف نے جہاں حیدرآباد کی قدیم تاریخی عمارتوں کے نقوش وآثار کے مٹنے کا تذکرہ کیا، وہیں جدید حیدرآباد کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جدید حیدرآباد بھی انڈین یونین کی اقبال مندی اور فیروز بختی کا پرچم لہراتا ہوا نظر آتا ہے: پچاسوں نئی کوٹھیاں، نئے بنگلے، کالج اور اسپتال جدت و تازگی کا حق ادا کرتے ہوئے نظروں کے سامنے آجاتے ہیں، نیز سامعین کو مشہور کتب خانہ سالارجنگ سے متعارف کرایا، مزید بتایا کہ نوادر کے اعتبار سے یہ کتب خانہ مشہور تر ہے اور آج بھی علمی فیض رسانی کا کام انجام دے رہی ہے، یہ مقبول لائبریری پرانی تاریخی لائبریریوں کی یاد تازہ کراتی ہے۔ عبداللہ مجاہد نے پندرہ روزہ عربی رسالہ الرائد سے ایک رپورٹ پیش کیا، پیش کردہ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتہ پہلے سے صدر "سلوا کیر“ کے وفادار فوجیوں اور سوڈان کے سابق نائب صدر "ویک ماچار“ کے حامیوں کے مابین جھڑپیں چل رہی ہیں، جس کے بعد سے ملک بھر میں پر تشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے، پرتشدد واقعات اور خدشات کے پیش نظر، اقوام متحدہ نے جنوبی سوڈان کے شہریوں کی ہر ممکن مدد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اللقاء الثقافی۔ لکھنؤ کے سکریٹری (برائے شعبہ اخبارات و رسائل) مرزا ریحان بیگ نے اپنی ڈائری کا ایک ورق پیش کیا، جس میں دائری نویس نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک تاریخی حادثے کا تذکرہ کیا اور حادثات سے ہونے والے رنج و الم اور حاصل شدہ سبق کو خوبصورت ادبی پیرائے میں بیان کیا، واقعی ڈائری کا یہ ورق دلچسپ اور سبق آموز تھا۔ 


اللقاء الثقاقی۔ لکھنؤ کے جنرل سیکریٹری محمد مرغوب الرحمن ندوی نے SIO کی جانب سے منعقدہ 27 جنوری 2022 بروز: جمعرات لکھنؤ و اطراف کے  اردو مسابقۂ خطابت میں کی گئی اپنی انعام یافتہ تقریر کا ویڈیو پیش کیا، یہ تقریر اپنے مواد  اور اسلوب خطابت کے اعتبار سے خوب تھی، عنوان تھا: انسانیت مسیحا کی تلاش میں۔ شیخ عبداللہ نے بھی مذکورہ انعامی مسابقہ میں کی گئی اپنی اردو تقریر کا ویڈیو پیش کیا، موصوف کا بیانیہ بھی قابل تعریف تھا۔ محمد ذکی احسن نے عالمی شہرت یافتہ کویت سے شائع ہونے والے ادبی مجلہ المجتمع سے ایک اداریہ کا سلیس اردو ترجمہ پیش کیا. سیاسی اصلاحات کی ضرورت اور مثالی اسلامی ریاست کے عنوان سے سیاسی اصلاحات میں مذہب اسلام کے موقف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: اسلام ایک ہمہ گیر اور آفاقی دین ہے، اس میں اصلاح کی حیثیت صرف سیاسی نہیں ہے، بلکہ سیاسی اصلاح ایک ایسا ہمہ گیر اور اعلی سطحی فیصلہ ہوتا ہے، جو سربراہ مملکت اور عوام اپنے سیاسی اداروں کے ذریعے کرتے ہیں، مزید کہا کہ سیاسی اصلاح کوئی انوکھی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ تو فکر اسلامی اور شریعت اسلامی کا اٹوٹ حصہ ہے، اسلام میں سیاسی اصطلاحات کا اصل مسئلہ ایک ایسی مملکت کی تشکیل و تعمیر ہے، جو شہریوں کے لیے خوشحالی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کرسکے، تاکہ شہری آزادی کی فضا میں سانس لیں اور اجتماعی خوشحالی کے ماحول میں زندگی گزاریں۔ 


اللقاء الثقاقی۔ لکھنؤ کی جانب سے مدعو نوجوان فکشن نگار، ابھرتے ہوئے قلم کار سید محمود الرحمن حسینی نے دارالبحث والاعلام۔ لکھنؤ سے اپنی علمی، فکری اور قلمی وابستگی کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عمیر منظر پروفیسر مولانا آزاد نیشنل یونیورسیٹی لکھنؤ کیمپس کی مشہور کتاب خان محبوب طرزی (لکھنو کے ایک مقبول ناول نگار) پر اپنا وقیع جائزہ پیش کیا، جس میں ڈاکٹر صاحب کی کاوشوں کو سراہا، خان محبوب طرزی کی علمی، فکری اور ادبی مضامین و ناول نگار کے نمایاں کارناموں کو پرکشش انداز میں بیان کیا، جس سے خان محبوب طرزی جیسے نامور ادیب اور اردو دنیا کے مقبول ناول نگار کی ہمہ گیر شخصیت کا پتہ چلتا ہے، طرزی کی تحریر نئی نسلوں کے لیے لائق تقلید ہے۔ مہمان اسکالر ایس ایم حسینی نے ہندی نظم گو منیش جی کی چار ہندی نظموں (سرحد کے پھول۔۔۔ حاصل۔۔۔ ایشور/اللہ۔۔۔ ہم زندہ ہیں) کا سلیس اردو ترجمہ پیش کیا، مذکورہ نظموں کی ترجمانی سے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ موصوف اپنی اصل آزاد شاعری پیش کر رہے ہیں۔ 

اللقاء الثقاقی۔ لکھنؤ کے رفیق علمی اور اسلامک اسکالر مفتی محمد عالمگیر ندوی نے کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں بھی اس علمی، فکری اور تربیتی نشست کا خوشہ چیں ہوں، مستقل استفادہ اور استاد محترم کی عنایت سے آج اس باوقار تربیتی نشست میں بحثیت اسکالر حاضری ہوئی. مہمان اسکالر نے مشہور فقہی کتاب  لباب النقول في طه‍ارة العطور الممزوجة بالكحول از عیسی بن عبداللہ بن محمد بن مانع الحمیدي مترجم: مولانا عبدالوحید واحد فیاضی جلال پوری کے تجزیہ پر مشتمل اپنا علمی و تحقیقی مقالہ سامعین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے الکحل جیسے اہم مسئلہ پر اپنی مدلل بات رکھی اور کہا کہ الکحل ایک خفیف و دقیق مادہ ہے، جو اکثر چیزوں میں قدرتی طور پر فرق مقدار کے ساتھ پایا جاتا ہے، عطریات سازی، کمیاوی مادوں خصوصا صفائی والی اشیاء، پلاسٹک، کپڑوں، غالیچوں اور رنگوں وغیرہ میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے، الکحل کے سلسلے میں علماء و فضلاء کے دو گروہ ہیں: ایک گروہ الکحل اور اس کے تیار شدہ اشیاء کو نجس مانتا ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ الکحل نشہ آور ہے اور ہرنشہ آور چیزیں حرام ہے، لیکن یہ علمی گروہ خود تضاد کا شکار ہے، اس لئے کہ یہ حضرات بہت سی الکحل سے بنی ہوئی چیزوں کو مباح قرار دیتے ہیں، مثلا دوا، کلیننگ مواد اور رنگ وغیرہ۔ دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ الکحل اور الکحل سے بنی تمام چیزیں پاک ہیں، ان کی دلیل یہ ہےکہ الکحل کی نجاست کے بارے میں کوئی نص موجود نہیں ہے اور الكحل كو آلات کی مدد سے پاک مادوں سے نکالا جاتا ہے، اس لیے اس کو نجس کہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، البتہ تمام علماء و فقہاء کے نزدیک الکحل کا پینا حرام اور ناجائز ہے۔ مہمان اسکالر مفتی محمد عالمگیر ندوی کی یہ تحریر تحقیقی اور چشم کشا ہے۔ 


نشست کی صدارت کرتے ہوئے مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر دار البحث و الاعلام- لکھنؤ) نے تمام طلبہ اور اسکالرز کی تخلیقات و انتخابات پر قدردانی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ احباب پوری تیاری کے ساتھ آرہے ہیں، اپنی تخلیقات و انتخابات کو خوش اسلوبی سے پیش کررہے ہیں، ماشااللہ مستقل ہر نشست میں ایک پر ایک شاندار اور چشم کشا ترجمے سامنے آرہے ہیں۔ 

مزید فرمایا کہ عزیزی ایس ایم حسینی نے جس نظریے کے ہندی نظموں کا سلیس اردو ترجمہ پیش کیا، واقعی وہ تو دوسری دنیا کو ہمارے سامنے اجاگر کرتا ہے، ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے لوگ مایوس ہیں اور کہتے ہیں کہ ہندؤوں میں سنگھ وادیوں کی اکثریت ہے، لیکن منیش کی یہ نظمیں، یہ فکر اور یہ خیالات ان تمام باتوں کو جھٹلاتے ہیں، لہذا ضرورت ہے کہ ہم اس خیال کے حامل دانشوروں کی تلاش کریں اور ان کی مثبت فکر کو عام کریں، مزید فرمایا کہ ریسرچ اسکالر مفتی محمد عالمگیر ندوی کا مقالہ بہت تحقیقی اور علمی ہے، اس کی تفہیم سے بہت سے مسائل حل ہوں گے ان شاء اللہ۔ ہم اپنے دونوں اسکالرز کے تئیں قدر دانی کا اظہار کرتے ہیں، کہ وہ اپنی علمی، فکری، ادبی تخلیقات و تحقیقات کے ساتھ تشریف لائے اور نشست کی رونق میں اضافہ کیا۔ اس  موقع پر مشفق و کرم فرما جناب مولانا عباد الرحمٰن صدیقی ندوی حفظہ اللہ (ڈائریکٹر: جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات- لکھنؤ) نے فرمایا کہ عام طور پر بڑے بڑے جلسے ہوتے ہیں، بھیڑ ہوتی ہے، واہ واہی ہوتی ہے اور پھر سب ختم ہو جاتا ہے، اس طرح کی علمی، فکری اور تربیتی نشست جہاں روزانہ الگ الگ علمی و تحقیقی، ادبی اور فکری موضوعات پر مطالعہ ہو، تجزیہ ہو، گروپ ڈسکشن ہو اور ان کاموں کی اشاعت کی فکر بھی کی جاتی ہو، اب اس پابندی سے کہاں ہوتی ہے! خال خال ہی اس کی مثال ملے گی، میں دل کی گہرائیوں سے ان علمی کاوشوں کا قدر داں ہوں اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہوں، اللہ تعالی  استقامت عطا فرمائے، آمین۔ یاد رکھیے کہ یہ نشستیں شرکاء کی تعداد اور زرق وبرق میں بہت کم ہیں، لیکن ان کے اثرات ان شاءاللہ دیرپا اور انقلابی ہوں گے، وما توفیقی الا باللہ۔ 


 راقم الحروف محمد شاہنواز نے گزشتہ ہفتہ 21/ جنوری 2022 کو منعقد: اللقاء الثقافی- لکھنؤ کی مفصل روداد شرکاء کی خدمت میں پیش کی۔ اس علمی، ادبی، فکری،  تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی- لکھنؤ کے جنرل سیکرٹری محمد مرغوب الرحمن ندوی نے کی۔ سوالات و جوابات اور تاثرات و تصحیح کا  سیشن بھی دلچسپ رہا، جس سے نشست کی افادیت دو چند ہو گئی۔ آخر میں دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر پر نشست کا اختتام ہوا۔ 


واضح رہے کہ حسان عمر (ممبر اللقاء الثقافی - لکھنؤ) کے ایک مطالعاتی پروجیکٹ کی تکمیل پر صدر محترم مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دار البحث و الاعلام- لکھنؤ) نے موصوف کو مبارکباد دیتے ہوئے مٹھائی پیش کی جس میں اللقاء الثقاقی۔ لکھنؤ کے تمام رفقاء اور حاضرین شریک ہوئے اور سبھوں نے دعاؤں سے نوازا.

                                                                                                                                            بقلم: محمد شہنواز

 (سکریٹری: اللقاءالثقافی۔ لکھنؤ)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...