نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سوشل میڈیا بہت مؤثر اور فعال پلیٹ فارم ہے، نوجوان اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں: حذیفہ مدثر ندوی

 سوشل میڈیا بہت مؤثر اور فعال پلیٹ فارم ہے، نوجوان اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں: حذیفہ مدثر ندوی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی چھٹی نشست کا خیرالنساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) 


دارالبحث والاعلام - لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى - لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 01/ 21 مطابق 17/جمادی الاخری 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

میرا انتخاب، میری تخلیق 

میری تخلیق، میرا انتخاب

کی چھٹی نشست منعقد ہوئی، جس میں تلاوت کی سعادت عبدالقادر محبوب نے حاصل کی، محمد ذکی احسن نے معروف ادیب، صاحب طرز انشا پرداز، مؤرخ، نقاد اور غالب شناس مولانا غلام رسول مہر کی مقبول تصنیف "مختصر تاریخ اسلام" سے قدیم مصری تہذیب و تمدن اور بابل و نینوی کی سیاسی و سماجی شخصیات کے افکار و خیالات، احساسات و جذبات کی تصویر کشی کرتے ہوئے مذکورہ تہذیب کے عروج و زوال کو مؤثر اسلوب میں سامعین کے سامنے پیش کیا۔ حسان عمر نے مایۂ ناز انشاء پرداز، مفسر قرآن مولانا عبد الماجد دریابادی کے مشہور سفرنامہ "سیاحت ماجدی" سے متفرق اقتباسات پیش کئے، تاج المساجد کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ: تاج المساجد بھوپال میں واقع ایک بڑی اور عالیشان جامع مسجد ہے، یہ مسجد فن تعمیر کی شاہکار شمار کی جاتی ہے، پوری مسجد سرخ پتھر سے تعمیر ہوئی ہے، اس کےشمالی دالان کا سنگ بنیاد نائب سفیر سعودی عرب شیخ محمد یوسف نے رکھا، اس کا افتتاح تین یا چار مارچ کو ہوا، جس میں مذکورہ سفیر، انس یاسین، مولانا عبد الماجد دریابادی اور دیگر حضرات موجود تھے، واقعتا یہ جامع مسجد، دہلی کی جامع مسجد اور حیدرآباد کی مکہ مسجد سے بڑی ہے۔ موصوف نے بھوپال، پٹنہ کے اسفار پر مشتمل سفرنامے کے اقتباسات بھی  پیش کیے، جس کا بیانیہ اس قدر پرکشش تھا کہ سامعین مسحور ہو کر رہ گئے۔ 

شیخ عبداللہ نے پندرہ روزہ عربی میگزین "الرائد" سے ایک خبر کا رواں اردو ترجمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق اومیکرون ملک بھر میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایک بڑی تعداد اس کی زد میں ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دوسرے وائرس کے مقابلے میں یہ وائرس بہت تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس کو تشویش ناک قرار دیا ہے اور کہا کہ جنوبی افریقہ سے دوسرے متعدد ممالک تک یہ پہنچے گا، جن میں ہالینڈ، جرمن، آسٹریلیا، کناڈا، امریکہ اور پاکستان وغیرہ کے علاقے خصوصا شامل ہیں۔ اسی طرح عبداللہ مجاہد "الرائد" سے منتخب کردہ عربی تعبیرات و ادبی جملوں کے ساتھ سامعین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا انتخاب پیش کیا۔ نوجوان اہل قلم عبدالقادر محبوب نے تنقید نگاری کی لغوی اور اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے کہا: تنقید نگاری کے لغوی معنی پرکھنے، برے بھلے، کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے کے ہیں۔ اصطلاحی تعریف: ادب یا ادبی نگارش کے محاسن و معائب کا اندازہ کرکے اس پر رائے قائم کرنا ہے۔ تنقید نگاری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ادبی نگارشات کے بہت سے گوشے جو عام طور پر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں سامنے آجاتے ہیں، ادبی ذوق کی نشوونما ہوتی ہے اور مطالعے کے لئے کتابوں کے انتخاب میں سہولت ہو جاتی ہے۔

اللقاء الثقافی - لکھنؤ کے نو منتخب سکریٹری (برائے شعبۂ اخبارات و رسائل) مرزا ریحان بیگ نے سید  زبیر احمد کی انگریزی تحریر شمال مشرق کے سرسید محبوب الحق سے ایک ملاقات کا سلیس اردو ترجمہ پیش کیا، جس میں مترجم نے ممدوح کی حیات اور ان کے نمایاں کارناموں سے حاضرین کو روشناس کرایا، جس سے عصر حاضر کی اس ممتاز علمی شخصیت کی سیرت و صورت اور فکر و عمل سرسید سے تقریبا ہم آہنگ نظر آئی۔ 

محبوب الحق صاحب کی ولادت یکم دسمبر 1983 کو آسام کے ضلع کریم گنج، پاتھرکنڈی، پوربوگول میں ہوئی۔ تہذیب و ثقافت کے علمی اور عالمی مرکز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انھوں نے اعلی تعلیم حاصل کی، وہاں رہ کر اپنے تعلیمی خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کیا، انھوں نے بی ایس سی (کیمسٹری) میں فرسٹ پوزیشن کے ساتھ سیکنڈ رینک حاصل کی، ان کے بے مثال کارناموں میں ایک نمایاں کارنامہ مشہور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میگھالیہ کو 350 میٹر کی وسیع و عریض زمین پر قائم کرنا ہے، جو ہندوستان میں دوسرے نمبر کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی ہے۔

 محمد شاہ ظفر نے متعدد کتب و رسائل کے مصنف پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی کی نصیحت آموز تحریر "خیانت" کو خوبصورت لہجہ میں پیش کیا۔ محمد عزیر نے بائیولوجی سے "آنکھ“ پر ایک رہنما اور معلومات افزا تحریر کے ساتھ شرکاء کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیگر جانوروں اور پرندوں کے مقابلے میں انسانی آنکھوں کے خصوصی امتیاز کو سائنسی تحقیق کی روشنی میں بیان کیا. واقعی یہ تحریر چشم کشا اور  احسان شناس بنانے والی ہے۔ اللقاء الثقاقی کے جنرل سکریٹری محمد مرغوب الرحمن نے معروف شاعر ساقی امروہی کا مختصر سوانحی خاکہ کے ساتھ ان کے نمونۂ کلام پر مشتمل ایک مؤثر ویڈیو پیش کیا، نمونۂ کلام  ذیل میں درج ہے:


یہ حادثات نہ سمجھیں ابھی کہ پست ہوں میں

شکستہ ہو کے بھی، ناقابلِ شکست ہوں میں

متاعِ درد سے دل مالا مال ہے میرا

زمانہ کیوں یہ سمجھتاہےکہ تنگدست ہوں میں

یہ انکشاف ہوا ہی نہیں کبھی مجھ پر

خودی پرست ہوں میں یاخدا پرست ہوں میں

نہ پاسکیں گے جوانانِ بادہ مست مجھے

خود اپنی ذات میں خُم خانۂ الست ہوں میں

قبول کس نے کیا میری سرپرستی کو

بظاہر ایک قبیلے کا سرپرست ہوں میں

ملا ہے فقر تو ورثے میں جدِ امجد سے

مجھے یہ فخر ہے ساقیؔ کہ فاقہ مست ہوں میں 

اس انتخاب سے شرکاء بہت محظوظ ہوئے اور خوب داد دی۔ محمد معظم نے اپنا انتخاب بعنوان: "شاہین باغ کا احتجاج“ سامعین کی خدمت میں پیش کیا، جس میں مضمون نگار نے 2019 میں سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں ملک بھر میں ہونے والے احتجاجات خصوصا شاہین باغ احتجاج کا اپنے مضمون میں منصفانہ جائزہ لیا، پولیس کی ظلم و زیادتى اور حکومت کی ناروا پالیسی کی جم کر تردید کی۔

نشست کی صدارت کرتے ہوئے دارالبحث والاعلام۔ لکھنؤ کے رفیق علمی اور ریسرچ اسکالر حذیفہ مدثر ندوی نے فرمایا کہ: میرے لئے سعادت کی بات ہے کہ میں بھی اس علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقاقی - لکھنؤ کے خوشہ چینوں میں ہوں اور مستقل استفادہ کرتے ہوئے استاذ محترم کی عنایت سے آج اس باوقار و پائیدار تربیتی نشست کی صدارت کا شرف حاصل کررہاہوں۔ آپ تمام شائقین علم وادب اس علمی، فکری اور ادبی نشست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں۔ صدر محترم نے "شوشل میڈیا بینی" کے عنوان پر اپنی تخلیق پیش کرتے ہوئے کہا کہ: عام طور سے "اخبار بینی" کے مقابلے میں "شوشل میڈیا" زیادہ مقبول ہے، موجودہ زمانے میں ہر شخص فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ کا استعمال اچھی طرح جانتا ہے، بلکہ بعض تو اس کے معلم بھی ہوتے ہیں اور متعلم بھی۔ بچہ پیدا ہی ہوتا ہے اور وہ ابھی خود سے کھانے پینے پر قدرت بھی نہیں رکھتا ہے، لیکن صاحب کو انڈرائڈ فون چلانا آتا ہے، وہی اس کا کھلوناہے، جی ہاں! یہ ایسا کھلونا ہےجو ہر ایک کو بہلاتاہے، روتے ہوئے کو ہنساتا ہے، ہنستے ہوئے کو رلاتا ہے اور حقیقت میں یہ کھلونا نہیں بلکہ یہ ایک دنیا ہے، جہاں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ضروری ہے۔ صدر محترم نے اپنی تخلیق میں شوشل میڈیا بینی کے۳/ قسموں کو مثالوں سے واضح بھی کیا۔ 

مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام۔ لکھنؤ) کے زیر نگرانی 2022/ 01/ 14 کو منعقد: اللقاء الثقاقی۔ لکھنؤ کی مفصل روداد محمد شہنواز نے شرکائے نشست کے سامنے پیش کی، سامعین نے بغور سنا اور داد و تحسین سے نوازا۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقاقی۔ لکھنؤ کے جنرل سیکریٹری محمد مرغوب الرحمن نے کی، سوال و جواب اور تاثرات و تصحیح کا سیشن بھی دلچسپ رہا۔ 

 اخیر میں دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر پر نشست کا اختتام ہوا۔ 

بقلم: محمد شہنواز

(سکریٹری: اللقاءالثقاقی۔ لکھنؤ) 

21/ 01/ 2022

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...