نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ملک میں اقلیتوں کےحقوق کی پاسداری ضروری :تسنیم فرزانہ


(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سیریز کی دوسری نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) 


دارالبحث والاعلام - لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى - لکھنؤ کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2021/ 12/ 24ء مطابق 19/جمادی الاولی 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرز کے لیے ايک نئی تخلیقی سیریز بعنوان: 

   میرا انتخاب، میری تخلیق

   میری تخلیق، میرا انتخاب

     کی دوسری نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس کی ابتدا محمد شاہ ظفر کی تلاوت سے ہوئی، محمد شاہنواز نے مشہور عربی اہل قلم مصطفی لطفی منفلوطی کی ادبی تصنیف العبرات سے مارگریٹ (مرغریت) کی ڈائری کا وه حصه پیش کیا، جو خط و کتابت پر مشتمل ہے، جس میں ڈائری نویس نے اپنے دوست ارمان کے ساتھ بیتے ہوئے ایام کی روداد بیان کرتے ہوئے، لمبی جدائیگی اور طویل علالت کے بعد دوبارہ ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ واقعی ڈائری کا یہ حصہ بہت مؤثر اور تعبیر سے دلچسپی رکھنے والے شائقین ادب کے لیے نہایت سبق آموز ہے۔

     مرزا ریحان بیگ نے اپنا رواں عربی روزنامچہ پیش کیا، جس میں قلمکار نے اپنی صبح و شام اور لکھنؤ میں استاد محترم مسعود عالم ندوی (حفظہ اللہ!) کی معیت میں قیام کا دلکش نقشہ کھینچا ہے اور مربی گرامی قدر کی علمی و فکری رہنمائی پر ہدیہ تشکر پیش کیا ہے۔

     مرغوب الرحمن ندوی نے معروف عالم دین، مایۂ ناز مفکر ومحقق پروفیسر محسن عثمانی ندوی کی شہرۂ آفاق کتاب مشاہیر علوم اسلامیہ اور مفکرین و مصلحین پر اپنا وقیع تبصرہ اور مرتب کا سوانحی خاکہ پیش کیا، جس سے مبصر کی علمى کاوش اور ذوق نظر کی عکاسی ہو رہی تھی، اسی طرح محمد عزیر نے اپنے موئے قلم سے ایک یادگار علمی نشست کی روداد بیان کی، جس سے نوخیز قلمکار کے ادبی ذوق اور فکری نشستوں کی افادیت وعظمت کی خوشبو آرہی تھی. 


مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر : دارالبحث والأعلام۔ لکھنؤ۔) نے ھادیہ ای۔ میگزین کے یوٹیوب چینل سے گروپ ڈسکشن پر مشتمل ایک ویڈیو بعنوان :نیا تبدیل شدہ قانون شادی کی عمر کم از کم 21/سال ۔ کا انتخاب پیش کیا، جس میں قانون، نفسیات، میڈیکل اور نسائی ضروریات کی تکمیل سے وابستہ ماہر فن خواتین اس حساس موضوع پر اظہار خیال کررہی تھیں۔ مولانا نے شرکاء نشست کو اسی چینل سے ایک آڈیو بعنوان: ملک میں اقلیتوں کے حقوق اور ان کی پاسداری بھی سنایا، جس کی قلم کار : تسنیم فرزانہ اور وائس اوور: نزہت سہیل پاشا تھیں. مذکورہ یوٹیوب چینل کا تعارف کراتے ہوۓ مزید فرمایا: میڈیا میں خواتین کی فعالیت کے حوالہ سے یہ ایک مثالی چینل ہے، خواتين کے مسائل کو زیر بحث لانا، ان کو حل کرنا، اسلام اور مسلم سماج پر اٹھنے والے اعتراضات کے اثر سے مسلم خواتین کو بچانا اور دیگر متعلقه امور میں رہنمائی فراہم کرنا اس ای- میگزین کے مقاصد ہیں. واضح رہے کہ ہادیہ ای۔میگزین کے مشمولات میں اخلاقی، سیاسی، نظریاتی، فکری مضامین، صحت و صلاح، ادب، تربیت اولاد، شخصیت و نفسیات، آرٹس اور کلچر بھی شامل ہیں۔ جو نئی نسل اور تعلیم یافتہ خواتین کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے ایک نمونه کا پلیٹ فارم ہے۔

     اس موقع پر عبداللہ فیصل، عبدالرحمن فیصل، عبد العلی اور محمد رضوان بھی موجود تھے۔

     واضح رہے کہ اس کامیاب علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی کے جنرل سکریٹری محمد مرغوب الرحمن ندوی نے کی۔ سوال وجواب اور تاثرات و تصحیح کے سیشن سے بھی خوب استفادہ کیا گیا، جس سے محفل کا حسن دوبالا ہوگیا۔ 

دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر پر نشست کا اختتام ہوا۔

بقلم: محمد شہنواز

(سکریٹری: اللقاء الثقافی - لکھنؤ)

24/12/2021

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...