نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حفاظت قرآن کے لئے مدارس و مکاتب کا قیام، درس قرآن اور جدید وسائل کا استعمال ناگزیر: مسعود عالم ندوی


قرآن کریم کی حفاظت کےلیے گاؤں گاؤں مکاتب و مدارس کا جال بچھانا، انھیں مستحکم کرنا، درس قرآن کے حلقے لگانا اور جدید وسائل و ذرائع کو مسخر کرنا ضروری ہے: مسعود عالم ندوی


   مدرسہ تفہیم الاسلام بھکھری، پورنیہ میں امت فاؤنڈیشن، سیمانچل، بہار کے اشتراک سے تقریب تکمیل حفظ قرآن کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں حافظ اسعد مرغوب بن جناب مرغوب عالم صاحب نے 13/برس کی عمر میں حافظ محمد احتشام صاحب مدظلہ کی نگرانی میں تکمیل حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی.

حفظ قرآن کی تکمیل کا منظر


    اس موقع پر مولانا مسعود عالم ندوی (صدر: امت فاؤنڈیشن سیمانچل، بہار و ڈائرکٹر: دار البحث والاعلام - لکھنؤ) نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا: قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالی نے لی ہے، اس لیے قرآن کریم چودہ سو برس سے برابر اپنے الفاظ، لب و لہجہ، معانی و افکار اور عملی تقاضوں کے ساتھ محفوظ ہے، ہزار کوششوں کے باوجود آج تک اس میں ذرہ برابر کمی بیشی نہیں کی جاسکی، تینوں جہتوں سے اس کی حفاظت کا عظیم کام اللہ پاک اپنے منتخب بندوں سے لیتاہے، حفاظ و قراء سے الفاظ اور لب و لہجے کی حفاظت ہوتی ہے، علماء و حکماء سے معانی و افکار کی حفاظت ہوتی ہے، اسی طرح دیگر ماہرین اور عام انسانوں سے اس کے عملی تقاضوں کی حفاظت ہوتی ہے، اس طرح قرآن کریم کے ذریعہ امت اور انسانیت کے ہر طبقے کی حفاظت کا کام ہوتا ہے.


    صدر جلسہ نے مزید فرمایا کہ وفادار امت نے ہر دور میں قرآن کریم کو اپنے لیے غذاء، دوا اور شفاء سمجھاہے اور آج بھی وہ قرآن کریم سے وابستہ ہوکر ہی جینا اور مرنا چاہتی ہے اور اسی میں اس کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے. 

    صدر محترم نے قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے کےلیے جدید ذرائع کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر نوجوان اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ کا استعمال قرآن سیکھنے اور سکھانے کے لیے ضرور کرے. کچھ وقت فارغ کرکے حافظ قرآن سے، عالم دین سے اور اپنے موبائل سے قرآن سنے، سیکھے، سمجھنے کی بھی کوشش کرے، جس طرح خاندانی تقریبات، کھیل کود اور سیاحتی ٹور کے لیے ٹیم بناتے ہیں، اسی طرح قرآن کریم کے الفاظ و معانی سیکھنے کے لیے بھی ٹیم بنائے، اس کے لیے "سنڈے میٹ" "ریڈنگ سیشن" اور "ریسائٹیشن آف ہولی قرآن" جیسی *اصطلاحات اور مواقع سے فائدہ اٹھائے اور گاؤں میں اس کا مستحکم نظام قائم کرے- اس کے لیے گاؤں محلے میں موجود حفاظ قرآن، نوجوان علمائے کرام، گریجویٹس، اسکول ٹیچرز اور میٹرک و انٹر کے طلبۂ و طالبات کو آگے آکر کاموں کا چارج لینا ہوگا، بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے درمیان آن لائن قرآنک کلاسیز کو متعارف کرانا ہوگا کیوں کہ قرآن کریم سے ہی عزت اور عظمت رفتہ کی بحالی ہوگی، ورنہ تو امت ذلیل ہوجائے گی۔

سچ کہا ہے علامہ اقبال نے:

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر 

اور  تم خوار  ہوئے  تارک  قرآن  ہوکر


    تقریب کے سرپرست اور مدرسہ تفہیم الاسلام بھکھری کے مہتمم مولانا شہاب الدین قاسمی مدظلہ نے اپنے مختصر اور جامع خطاب میں کہا کہ قرآن کریم کو تجوید کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں، جلدی نہ پڑھیں، اس کےلیے اپنا وقت اور اپنی خدمات پیش کریں. مولانا نے مجلس منتظمہ کے تئیں اپنی طرف سے قدردانی اور تشکر کے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان شاء اللہ یہ ادارہ خطہ میں علم و ادب کے فروغ کےلیے برابر کوشاں رہے گا. 


   مہمان خصوصی جناب الحاج ڈاکٹر محبوب عالم صاحب مدظلہ (صدر: مدرسہ تفہیم الاسلام بھکھری پورنیہ و سابق چیئرمین ادھکیلی پیکس) نے علم اور علماء کی خدمت اور دینی تعلیمی ادارے سے وابستگی کے ثمرات و برکات پر روشنی ڈالتے ہوئے خصوصیت سے سیمانچل کی ممتاز تعلیمی و سماجی شخصیت مرحوم مولانا جواد الحق مظاہری (سابق ناظم اعلی جامعہ صدیقیہ ڈگروا ہاٹ پورنیہ، بہار) کے احسانات کا ذکر کیا اور حاضرین سے کہا کہ ادارہ سے وابستہ رہیں اور برکتوں سے مستفید ہوں. مہمان خصوصی نے نوخیز حافظ اسعد مرغوب کو دعاؤں سے نوازا اور ان کے والدین اور تمام اساتذہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی. 


   حافظ دانش اقبال ندوی ایم ایڈ (رکن تاسیسی: تعلیمی و سماجی بیداری مہم سیمانچل، بہار) نے اپنی گفتگو میں حفظ قرآن کی اہمیت و عظمت پر روشنی ڈالی اور اس طرح کی بابرکت تقریب کے انعقاد پر اپنی دلی مسرت کا اظہار کیا. 


   جناب قاری حامد صاحب (استاذ: مدرسہ فیض القرآن برہری، پورنیہ) نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ قرآن کریم سیکھنے کی کوئی خاص عمر نہیں ہوتی؛ لہذا بچے، جوان، بزرگ مرد و عورت سبھی اس کا علم حاصل کریں؛ کیوں کہ اللہ پاک نے ان کےلیے قرآن پاک کو آسان کردیا ہے. 

   جناب مولانا مرسلین صاحب اور جناب حافظ جہانگیر عالم صاحب (استاذ مدرسہ تفہیم الاسلام بھکھری) نے طلبہ کو محنت کی تلقین کی اور موقع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا. 

ناظم جلسہ حافظ مشکور عالم ندوی

   اس بابرکت اور یادگار تقریب کی نظامت حافظ مشکور عالم ندوی (متعلم: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسیٹی لکھنؤ کیمپس و رکن: تعلیمی و سماجی بیداری مہم سیمانچل، بہار) نے دلچسپ اسلوب میں بڑی برجستگی کے ساتھ کی، ناظم جلسہ کی تمہیدی گفتگو بڑی مؤثر تھی، جس میں مہمانوں کا استقبال، حفاظت قرآن کی اہمیت اور قرآنی علوم سے وابستگی کے سماجی فوائد کا بیان تھا. موزوں اور بر محل اشعار نے بزم قرآنی کے حسن و جمال کو مزید نکھار عطا کردیا تھا. 

تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ   کشا ہے  رازی   نہ  صاحب  کشاف


    میڈیا کوریج اور نظم و انتظام کی ذمہ داری حافظ سعود عالم اشعر (کو - فاؤنڈر: دی خبر و نظر و ڈائرکٹر: النور ایجوکیشن سینٹر بھکھری، پورنیہ ) نے اپنے رفقاء: ماسٹر محمود عالم صاحب (استاذ: مدرسہ تفہیم الاسلام، بھکھری) محمد سلیم (طباخ) سعد مرغوب، مغفور عالم، محمد صادق، محمد معروف، محمد امروز، محمد شاداب، محمد شارق اور محمد اسجد وغیرہ کے ساتھ بحسن و خوبی انجام دی. 


   نوخیز حافظ قرآن اسعد مرغوب کے والد محترم جناب مرغوب عالم صاحب نے اساتذہ کرام، منتظمین مدرسه، امت فاؤنڈیشن کے ممبران، تعلیمی و سماجی بیداری مہم کے ارکان، مہمانان گرامی قدر اور تمام اعزۂ و اقارب کا شکریہ ادا کیا اور رب کریم سے سب کےلیے خیر کی دعاء کی- مہتمم مدرسہ مولانا شہاب الدین قاسمی صاحب مدظلہ کی پر اثر دعاء پر بزم کا اختتام ہوا. 


   اس موقع پر محمود عالم ندوی (چئیرمین ادھکیلی پیکس) ڈاکٹر مبشر الاسلام، انجینئر محمد مزمل حسین (انگلش و میتھ ٹیچر: مدرسہ تفہیم الاسلام بھکھری)، حافظ مصعب عالم، عمر فاروق عرف لڈو (کرکٹر)، مولانا آفتاب عالم ندوی، عاطف حسن ندوی، کامران مطلوب، محمد محتسن، محمد نواب عرف مٹھو، حافظ محمد دلدار، محمداحمد، ماسٹر محمد عاشق اور محمد نوید وغیرہ موجود تھے.


شیرینی کی تقسیم کے ساتھ جناب مرغوب عالم صاحب نے بطور شکرانہ طلبہ، اساتذہ اور مہمانوں کی ضیافت بریانی اور چائے سے کی.


رپورٹ:

سعود اشعر    

(دی خبر و نظر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...