🖋: کے۔ آر۔ فیضی
اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کو پانی سے پیدا کیا ہے، پانی سے بنی مخلوق کا پانی کے بغیر تصور ناممکن ہے۔ اس لئے تمام جانداروں کی زندگی خدا کی ایک عظیم ترین نعمت پانی کی مرہونِ منت ہے۔ "وجعلنا من الماء کل شئی حی"۔
عالم انسانیت کو اللہ نے جن ذرائع سے پانی عطا کیا ہے ان میں ایک آبشار بھی ہے۔ آج پہلی دفعہ قدرتی آبشار (Waterfall) دیکھنے کا موقع ملا۔ اور یہ آبشار تھا کاکولٹ آبشار (Kakolat Falls) جو بہار کے نوادہ ضلع میں واقع ایک قدرتی آبشار ہے۔
ہندو عقائد کے مطابق ایک صوفی سَنْت کی بد دعاء کی وجہ سے اسی آبشار کے نیچے ایک بادشاہ نے سانپ بن کر زندگی گزاری تھی۔ بعض قصہ گو نے یہ بھی کہا ہے کہ کرشنا اپنی رانیوں کے ساتھ اس آبشار میں نہانے آیا کرتے تھے۔
لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس قدرتی آبشار کو دیکھ کر ایک مومن سیاح کے دل میں خدا کی قدرت پر یقین مضبوط تر ہوتا ہے۔ قرآن و احادیث کی بے شمار باتیں اس کے ذہن و دماغ میں گردش کرتی ہیں۔ اور ان آیات و نصوص کی دلیل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔
| جانبِ منزل |
ہمارا سفر گوگل میپ لوکیشن کے سہارے شروع ہوا، گوگل میپ لوکیشن بھی کیا خوب ایجاد ہے، آپ ساری دنیا کے راستے اپنے فون کی اسکرین پر دیکھ سکتے ہیں، ایک ہی منزل کے مختلف راستے اور اس کی حالیہ صورتحال سے واقف ہو سکتے ہیں، دوران سفر مستقل اپنی رفتار، منزل مقصود کی مسافت، اور صوتی پیغامات آپ کی رہنمائی کرتی ہیں۔ یقیناً اسے ایک مصنوعی رہنما کہا جا سکتا ہے جو عارضی منزل کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت خواہ عارضی ہو یا دائمی وہ من جانب اللہ ہوتی ہے۔ "ومن یھدی اللہ وفھو المھتد" (جسے اللہ ہدایت وہی ہدایت یافتہ ہے)۔
تقریباً دو گھنٹے کے سفر کے بعد متعدد نشیب و فراز سے گذرتے ہوئے ہماری گاڑی عظیم سیاہ پہاڑی سلسلے کے دامن میں داخل ہو چکی تھی۔ دور سے بہت نزدیک دکھنے والا پہاڑ نزدیک جاتے ہوئے گویا دور ہوتا جا رہا تھا۔ البتہ منزل کی جانب پیہم دوانی نے اب پہاڑ کے خدو خال کو نسبتاً واضح کر دیا تھا۔ بالآخر آبشار سے کوئی دو سو میٹر قبل گاڑی پارک کر دی گئی۔
| رفقاء سفر |
باہر نکل کر اب بلند وبالا پہاڑ کا مشاہدہ کیا جا رہا تھا، بلند و بالا پہاڑوں کے سلسلے کو دیکھ کر خیال آیا کہ کیا یہی وہ پہاڑ ہے؟ جسے کھود کر عالیشان مکان بنانے والی حضرت صالح کی قوم، نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کر دی گئی۔ "وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ" [سورة الحجر: 82-83]
کیا اس قدر بلند پہاڑ اللہ کے حکم کے خلاف حضرت نوح کے بیٹے کو پناہ دینے سے عاجز رہے؟ قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ﴾ [سورة هود: 42-43].
یہ تو وہی پہاڑ ہے جو اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾ [سورة الحج: 18]
حضرت داؤد کے ذکر و ورد میں ساتھ دینے والا پہاڑ۔ "وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ﴾ [سورة الأنبياء: 79]
کیا ایسا عظیم الجثہ پہاڑ بھی قرآن کی تاب نہیں لا سکتا؟ ﴿لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ﴾ [سورة الحشر: 21].
جاہل اور بے وقوف انسانوں نے اس امانت کو اٹھایا جس امانت سے پہاڑ نے انکار کیا:﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا﴾ [سورة الأحزاب: 72].
یہ بھی خیال آیا کہ ایسا مضبوط پہاڑ اللہ کی تجلی سے ریزہ ریزہ ہو سکتا ہے: "فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا" [سورة الأعراف: 143]
یہ جان کر کے لوگ کسی کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں پہاڑ غصہ سے پھٹ جانا چاہتا ہے: "تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا" أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا﴾ [سورة مريم: 88-91].
| داخلہ کا دروازہ |
یہ باتیں ذہن و دماغ میں آہی رہی تھیں کہ احباب کی جانب سے آگے بڑھنے کا مطالبہ ہوا۔ آبشار تک جانے کے لئے ایک گول دروازہ سے داخلہ ہوا، سامنے ایک پتلی سی سڑک کے دونوں جانب سایہ دار درختوں کا گھنا سلسلہ تھا، بلندی سے گر کر نہر کی شکل میں آبشار کا پانی گھنے درختوں کے نیچے سے نکل رہا تھا، غیر مرتب پتھروں کے درمیان سے بہتے پانی کی آواز بہت سنہری معلوم ہو رہا تھی۔
ہریالی، پانی، سایہ اور باغات کا یہ خوشنما منظر "جنت تجری من تحت الأنھار" کا ڈیمو پیش کرہا تھا۔ واقعی باغات، ہریالی، بہتا پانی، سایہ اور بلندی کچھ ایسے مناظر ہیں جن کی جانب انسان نہ چاہتے ہوئے کھنچتا چلا جاتا ہے۔
| آبشار تک جانے کی سیڑھی |
آبشار تک لے جانے والی پتلی سڑک، چوڑی اور کشادہ سیڑھیوں تک ختم ہو رہی تھی، پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے حضرت ام درداء کی سنت ذہن میں آگئی، وہ جب پہاڑوں پر چڑھتی تو اپنے ساتھ والوں سے کہتی کہ پہاڑ کو میرے رب کی بات سنا دو، لوگ پوچھتے رب نے کیا بات کہی ہے؟ تو وہ یہ آیت پڑھتیں ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا "اور تجھ سے پہاڑوں کا حال پوچھتے ہیں سو کہہ دے میرا رب انہیں بالکل فنا کر دے گا"۔
تقریباً سو سیڑھیوں کے بعد قدرت کا وہ منظر نگاہوں کے سامنے تھا جس کی خاطر یہ سیاحت ہو رہی تھی۔ تیز آواز کے ساتھ دودھ کی مانند صاف و شفاف پانی کوئی ڈیڑھ سو فٹ کی بلندی سے گرتا جارہا تھا۔ تین-چار فٹ گہرا تقریباً سو اسکوائر فٹ کے ایک تالاب نما سوئمنگ پول نے یہاں کے منظر کو مزید دلچسپ بنا دیا تھا، اسی سوئمنگ پول میں آبشار کا پانی جمع ہو رہا تھا، ایک جانب جمع شدہ پانی کے نکلنے کا ایسا قدرتی ڈیم تھا جس سے پانی بل کھاتا اٹھلاتا دو ڈھائی سو فٹ نیچے نہر کی شکل اختیار کر گنگا میں ضم ہونے کے لئے روا دواں تھا۔
آبشار کے سامنے سوئمنگ پول کے باہر ہم سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، اور استمزاج کر رہے تھے کہ غسل کرنا ہے یا نہیں؟ بالآخر یکے بعد دیگرے سب کے سب تالاب میں اتر گئے، پانی کافی ٹھنڈا تھا، البتہ جسم نے اپنے درجۂ حرارت کو بڑھایا اور اب پانی نارمل معلوم ہو نے لگا۔ آبشار کے نیچے جانا یہاں کی پر لطف سیاحت کا آخری درجہ تھا، اس کو بھی آزمایا۔
پانی کی طاقت کا بلا واسطہ اندازہ اس سے پہلے نہیں ہوا تھا، پانی اتنی تیزی اور قوت سے نیچے آرہا تھا کہ اس کا برداشت کرنا محال ہو رہا تھا، البتہ جسم کے مستحکم اور مضبوط حصوں پر اس چوٹ کا احساس سفر کی تھکان اور درد کو کم کرنے والا تھا۔ آدھے گھنٹے نہانے کے بعد بادل ناخواستہ ہم باہر نکل چکے تھے۔
ارادہ تو راجگیر کے مزید مشہور مقامات کی سیاحت کا تھا، جن میں وشو شانتی استوپ، اسکائی واک، مخدوم کنڈ، رجو مارگ وغیرہ قابل ذکر تھے، لیکن بعض احباب کی طبیعت ناساز ہونے لگی تھی، لہذا وہاں سے گھر واپسی ہوئی۔
اس سفر کی پانچ نفری جماعت میں امیرِ جماعت حافظ مستقیم صاحب، مولانا شاکر نظامی، مفتی ضیاء الرحمن کریمی اور سائق جنید کے علاوہ مجھے بھی شامل کیا گیا تھا۔
ایسے تحریریں اب مستقل آتی رہیں تو اچھا ہے، خوشی ہوتی ہے۔
جواب دیںحذف کریںہم نے بھی آبشار کے مزے لے لیے۔ اس سے قبل واٹر فال کا مزا لیا تھا، مگر آبشار سے ایک الگ ہی لطف آیا۔😍
شکریہ سالم برجیس
حذف کریںماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریںبہت عمدہ تحریر، خوشکن تصاویر، ویڈیوز اور ان پر لگے بہترین کیپشن، ایسا لگا کہ گویا میں بھی ان قدرتی مناظر کا بالمشافہ لطف اٹھا رہا ہوں۔
اللّٰہ کرے زور قلم اور زیادہ
شکریہ عالمگیر
جواب دیںحذف کریں