نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اسے عربى ميں شماتت كہتے ہيں


🖋ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

آكسفورڈ


سننے ميں آيا ہے كہ مولانا سلمان صاحب حضرت مولانا كليم صديقى پهلتى صاحب فرج الله عنه كے ساتھ اظہار ہمدردى كر رہے ہيں، اس پر مجهے مولانا كى ايك كتاب ياد آگئى: "كليم پهلتى اپنے دعووں اور اعترافات كے آئينه ميں"، اس كے كچه اقتباسات يہاں پيش ہيں:

"محمد كليم پهلتى ... اپنے آپ كو صديقى لكهتے ہيں، وه اپنا نانہالى رشته حضرت شاه ولى الله دہلوى سے جوڑتے ہيں، اہل تاريخ وتحقيق جس كا انكار كرتے ہيں، اور كليم پهلتى كے پاس جس كى كوئى سند بهى نہيں ہے" ص 31 ۔

"آج سے تقريبًا 30 سال پہلے وه ندوه ميں پڑهنے كے لئے آئے تهے ليكن پڑهنے ميں جى نہ لگا، يا كسى اور سبب سے انہوں نے تعليم كا سلسله ترك كرديا، وه ايك كاشتكار كى حيثيت سے اپنے كاموں ميں لگے تهے، پهر غالبا 10/12 سال سے انھوں نے خوابوں كے بارے ميں دعوے شروع كئے ... اور انھوں نے ایک خاص منصوبہ بندى كے ساتھ ان خوابوں اور مبشرات سے حضرت مولانا على مياں مد ظله اور ديگر بزرگان دين كو مطلع كرنا شروع كيا". ص 31، "دوسرى طرف حضرت مولانا سے ۔ ۔. وقتا فوقتا لمبى رقميں لى گئيں" ص 32 ۔

"ان كے تيار كرده جعلى خطوط كا ایک مجموعہ دريافت ہوا، جس نے مجهے حيران كرديا، اور مجهے جهنجهوڑ كر ركھديا، ميں ان كو ديكهنے كے بعد فورًا سمجھ گيا كہ ايک خطرناك منصوبہ جعلسازى، فريب دہى اور دروغ بافى كا خوابوں اور خطوط كے ذريعہ تيار كيا گيا ہے" ص 4 ۔

اس كے بعد مفكر اسلام حضرت مولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه كو خط لكها كہ آپ نے كليم صاحب كو خلافت كيوں دى، اور منجمله دوسرى باتوں كے لكها كه "اب ہمارے نزديک بہت سے قرائن كى بنياد پر يہ بات قطعى ہو چكى ہے كہ وه ايك بہت بڑے فريب سے كام لے رہے ہيں، اور ان سے كوئى بڑا فتنہ جنم لينے والا ہے" ص 10 ۔

مخدوم معظم حضرت مولانا رابع صاحب دامت بركاتہم نے ان كو متنبہ كيا كہ اس سلسله ميں جلد بازى اور شدت پسندى سے اجتناب كريں، اور معاملہ كى تشہير نہ كريں، تو انہوں نے جواب ميں لكها: " اس مسئله ميں جس جوش وخروش كو آپ ضرورت سے زياده فرما رہے ہيں، ہمارے نزديك مسئلہ كى سنگينى كے پيش نظر ۔ ۔ ۔ ۔. وه ضرورت سے زائد نہيں، بلكہ شرعى طور پر ضرورى ہے" ص 16 ۔

"جہاں تک اس كا تعلق ہے كہ ہمارا مزاج يہ ہے كہ جو خيال ميں آئے فورًا اس كو نافذ كرديں، تو الحمد لله جہاں تك ہم سمجهتے ہيں، ايسا نہيں ہے، دوسروں كو جب معلوم ہوتا ہے تو انہيں خيال ہوسكتا ہے كہ شايد ايك دم سے يه بات شروع ہو گئى" ص 16 ۔

حضرت مولانا رابع صاحب نے ان كے متعلق جلد بازى اور شدت پسندى كى جو بات فرمائى تهى وه سب پر عياں ہے، مولانا سجاد صاحب كو آج كل اپنا دوست كہتے پهرتے ہيں، ليكن ان كے متعلق ان كا رويہ كيا رہا ہے، وه ايك طويل داستان ہے، جو آئنده كسى وقت حوالوں كى روشنى ميں بيان ہوگى، ابو بكر بغدادى سے ان كى بيعت اور پهر نقض بيعت كسى سے مخفى نہيں، مسلم پرسنل لا سے كس طرح نكلے اور جلدى جلدى كيسے ايك دوسرا بورڈ بنا ڈالا، پهر ان كے دوسرے پروجكٹس كى طرح اس كا جو حشر ہوا اسے ہندوستان كے مسلمان كبهى فراموش نہيں كرسكتے ۔

حضرت مولانا رابع صاحب نے انھيں مزيد ياد دلايا كہ مولانا كليم صاحب سے لوگوں كو فائده ہو رہا ہے اس لئے احتياط كريں تو انہوں نے مولانا كو لكها: "مرزا غلام احمد قاديانى اور محمد على لاہورى كے ذريعہ بہت سے لوگ اسلام ميں داخل ہوئے، ان كى دعوتى وتربيتى مہم سب كو معلوم ہے، ليكن انہيں كافر قرار ديا گيا، يہ مصلحت غالب نہيں آئى كہ ان سے دينى نفع بهى تو ہو رہا ہے" ص 19 ۔

ان كے استاد مولانا نذر الحفيظ صاحب ندوى رحمة الله عليه نے بهى ان كو متنبہ كيا تو انہيں لكها: "اخير ميں جو آپ نے ارشاد فرمايا كہ حضرت مولانا دامت بركاتہم كى رائے، بصيرت، تجربہ اور علم، اور روحانيت پر ہمارا غير متزلزل ايمان ہے، اگر اس كا مطلب يہ ہے كہ حضرت كى رائے غلط نہيں ہو سكتى ... تو آپ نے شيعہ اماميہ كو بہت پيچهے چهوڑ ديا، اور حضرت مولانا مد ظلہ كو حضور صلى الله عليه وسلم سے بهى والعياذ بالله بڑها ديا" ص 27 ۔

مولانا سلمان صاحب نے مولانا كليم صاحب كے متعلق جو تشہير كى وه ان كے نزديك قطعيت كے درجہ ميں تهى، حضرت مولانا رحمة الله عليه، مولانا رابع صاحب دامت بركاتہم، اور مولانا نذر الحفيظ رحمة الله عليہ كے منع كرنے كے باوجود انہوں نے مولانا كليم صاحب كے متعلق تہذيب سے گرى ہوئى يہ كتاب تصنيف كى، ان كے نسب اور سند كى نفى كى، اور ان پر دروغ گوئى اور جعلسازى كے الزامات لگائے ۔

آج يہ كتاب ميرے ذہن ميں تازه ہوگئى، اور سمجھم ميں نہيں آيا كہ اچانك انھيں كيوں مولانا كہنے لگے، اور صديقى بهى لكهنے لگے، ہم تو اب تك يہى پڑهتے آئے تهے كہ دين كى قطعى باتوں كا انكار كفر ہوتا ہے، تو آخر كيا حضرت مولانا رابع صاحب كى بات صحيح تهى كہ موصوف جلد بازى كرتے ہيں! يا مولانا سلمان صاحب كے پاس كوئى نئى دليل ہاتھ لگ گئى جس نے پرانى بات كو منسوخ كرديا؟ ليكن اہل اصول كا اتفاق ہے كہ خبروں اور واقعات ميں نسخ نہيں ہوتا، پهر دو متضاد قطعى خبريں كيسے وجود ميں آگئيں؟ تاريخ ميں يہ پہلى مثال ہے جس ميں ايک پيش آمده حقيقت منسوخ ہوگئى ہے ۔

كچه لوگ ان كے حاليہ بيان سے متاثر ہو رہے ہيں كہ انھيں مولانا كليم صاحب سے ہمدردى ہے، يہ بات ہمارى سمجه ميں اس لئے نہيں آتى كہ اب مولانا كليم صاحب پر ايک اور فرد جرم عائد ہوگئى ہے، پهر ان كے سلسله ميں نرمى كى كيا وجہ ہے؟ مولانا كليم صاحب تو ناصبى ہيں، اور ناصبيوں سے ان كے تعلقات ہيں، ہمارے دوست اور سينير ندوى عالم مولانا شكيل احمد اعظمى صاحب نے بڑى اہم بات لكهى ہے: "آخری بات مولانا کلیم صدیقی صاحب سے متعلق عرض کرنی ہے کہ وہ الحمد للہ سنت یوسفی ادا کر رہے ہیں یقینا یہ ایک آزمائش کی گھڑی ہے اور ملت کے لوگ اپنے اپنے طور پر حکمت و دانائی سے ان کی مددکے لئے کام کر رہے ہیں۔ مگر میری سمجھ میں بات نہیں آتی کہ کیا ہمارے صاحب شرم و حیا بالکل دھو کر پی گئے ہیں، فتنہ جو طبیعت کا آدمی ہر موقع پر فتنے ہی کی تلاش میں رہتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ آپ کو اس مسئلے سے کیا لینا دینا؟ آپ کیوں ان کی گرفتاری پر چیں بجبیں ہیں ؟ کیا وہ ناصبی نہیں ہیں؟ ناصبی کی گرفتاری پر آپ ناصبیوں کے امام اکبر حضرت مولانا رابع صاحب سے اپیل کر رہے ہیں اور ملت کو ان کے خلاف اکسا رہے ہیں، آپ اپنے طبقہ رافضیت میں جائیے اب آپ کی جگہ مراکز رفض و تشیع اور مزاروں اور قبروں کے صنمکدے ہیں۔ ہم ناصبیوں کو ہمارے حال پر چھوڑئيے" ۔

سوال يہ ہے كہ اگر مولانا سلمان صاحب اس مسئلہ ميں واقعى سنجيده تهے تو انھوں نے جمہورىت كى قدروں كا پاس كرتے ہوئے كوئى احتجاج ومظاہره كيوں نہيں كيا؟ وه وزير اعلى سے ملنے كيوں نہيں گئے؟ جبكہ اپنے چهوٹے چهوٹے مسئلوں كے لئے وه اور ان كے بچے يوگى جى كے چرنوں ميں بيٹهتے رہتے ہيں، حكمراں پارٹى كے كئى اہم لوگوں سے ان كے تعلقات بهى ہيں، اور خود تين چار كم پچاس سياسى پارٹيوں كے صدر بهى ہيں ۔

سب كو معلوم ہے كہ موصوف نے مولانا كليم صديقى صاحب كى رہائى كے لئے اپنا كوئى اثر ورسوخ نہيں استعمال كيا، البتہ آج كل وه اس كوشش ميں ہيں كه جعلسازى، دروغ بيانى اور اپنے اثر ورسوخ سے مولانا سيد جعفر حسنى اور مولانا سيد بلال حسنى جيسے ناصبيوں كو جيل بهجواديں، لا قدر الله ذلك ۔ 

ان سارى باتوں پرغور كرنے كے بعد ہميں قطعى يقين ہوگيا ہے كہ جو لوگ اسے ہمدردى كہ رہے ہيں، وه غلطى پر ہيں، اس طرح كى حركت كو ہمدردى نہيں، بلكه اسے عربى زبان ميں شماتت كہتے ہيں، اور فارسى اور اردو ميں بهى يہ لفظ اسى معنى ميں مستعمل ہے ۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...