| اوزدمیر بیقدار(درمیان میں) |
سائنسداں اوزدمیر بیرقدار 18/اکتوبر 2021ء پیر کو 72/ سال کی عمر میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔إنا لله وإنا إليه راجعون!!
ترک ڈرون انڈسٹری کے بانی، باکمال مسلم سائنسداں اوزدمیر بیرقدار کی پیدائش 1949ء میں استنبول کے ضلع سارییر کے ایک گاؤں گاریبتشی میں ہوئی۔ ان کے والد اوزدمیر ایک ماہی گیر تھے، جن کا تعلق طرابزون کے علاقے سورمینی سے تھا۔
بیرقدار نے (Robert College) سے گریجویشن کیا۔ اعلی تعلیم کے لیے 1969ء میں استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی کا رخ کیا اور 1972ء میں اعلی نمبرات سے ٹیکنیکل انجینئرنگ کا کورس مکمل کیا۔
تعلیم سے فراغت پاکر ایک عالمی موٹر ساز ادارہ Federation International Automobiles" میں معاون کے طور پر دو سال تک کام کیا اور انجن سازی کے ماہر ہوگئے۔ انھوں نے ترکی میں صنعتی شعبہ میں تکنیکی ڈائرکٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا، جہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی اور نئی نئی فیکٹریاں قائم ہوئیں۔ جن میں Burdur Traktor, Istanbul Segman, Uzel وغیرہ اہم ہیں۔
1984ء میں بیرقدار نے Bayraktar Baykar Makina نامی ایک کمپنی قائم کی، جس کا مقصد یہ تھا کہ گاڑیوں کی در آمد کو محدود کرنے کے لیے ترک ریاست کی کوششوں میں شرکت کی جائے۔
بیرقدار نے ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور ان منصوبوں کو بروئے کار لانے کے لیے، ڈیزائن کے مرحلے سے لے کر اسے اولین شکل دینے تک اور مینوفیکچرنگ سے لے کر سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی تک وہ بڑے فعال و سرگرم رہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ (جو تقریبا بیس برسوں پر محیط ہے) ترکی کی دفاعی خود مختاری کے لیے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر وقف کردیا؛ کیوں کہ انھیں ملک کے تئیں ذمہ داری کا مکمل احساس تھا۔ خاص طور سے ملک کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے سلسلہ میں اپنے عالی مقام استاذ پروفیسر نجم الدین اربکان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کےلیے ترک صدر حافظ رجب طیب اردوغان کی طرح ہی وہ بھی بڑے فکرمند تھے۔ نتیجتا ترکی کی فضائیہ کے لیے بائیکر کمپنی کی تیار کردہ Bayraktar Mini" UAV" پہلی فضائی سواری بن گئی، جو بغیر پائلٹ کے بآسانی پرواز کرسکتی تھی۔
سائنسداں بیرقدار نے 2005ء اور 2009ء کے درمیان جنوب مشرقی اناطولیہ میں ترک فوج کے ساتھ مل کر کی جانے والی تحقیق اور ترقی کی مضبوط قیادت کی ہے۔
فی الوقت ترکی کے پاس چار قسم کے جنگی طیارے ہیں۔ جن میں سے دو طیارے بائیکار کمپنی کے ہی تیار کردہ ہیں اور دیگر دو ترکی ایئر اسپیس انڈسٹریز کارپوریشن نے تیار کیے ہیں۔
رواں سال 2021ء میں کاراباخ کو آرمینیا کے قبضے سے آزاد کرانے میں ان کی کمپنی کے تیار کردہ ڈرون ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا تھا، جس کی وجہ سے آزر بائیجان کے صدر الہام علییف نے انھیں ایوارڈ سے نوازا تھا۔
وفات کے موقع پر ترکی کے وزیر صحت فخر الدین کوکا بائرکتار نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: آج ترکی ایک ایسی مرکزی شخصیت اور فعال و سرگرم سائنسداں سے محروم ہوگیا، جو اپنی قوم کے لیے منفرد خواب سجاتا تھا اور اس کو بروئے کار لاکر خوشی کا اظہار کرتا تھا۔ ان کی زندگی مصائب و مشکلات کے سامنے ایک چیلنج تھی۔
واضح رہے کہ سائنس داں اوز دمیر بیرقدار اپنے استاذ نجم الدین اربکان اور ان کے بے شمار فیض یافتگان کی طرح بہترین مربی اور افراد سازی کے ماہر بھی تھے، جنھوں نے اسلامی خطوط پر کئی نسلوں کی تربیت کی، چنانچہ جہاں وہ ایک طرف ترکی میں ڈرون ٹیکنالوجی کے بانی تھے، تو وہیں دوسری طرف ان میں اللہ تعالی کا خوف، نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت بھی اعلی درجہ کی تھی، نمازوں کی پابندی، روزہ کا اہتمام، تلاوت کا شوق، درود شریف کی کثرت بھی بے مثال تھی، تواضع و انکساری، خوش اخلاقی و ملنساری اور ہر طرف سے کٹ کر اپنے کام میں یکسوئی کےلیے ان کی نظیر پیش کی جاتی تھی. یہی وجہ ہے کہ دین و دنیا کی یہ جامعیت ان کی اولاد و احفاد اور تلامذہ میں بھی بدرجۂ اتم پائی جاتی ہے.
ہندوستان میں میزائل مین اے. پی. جے عبد الکلام اور پاکستان میں ایٹمک سائنسداں عبد القدیر خان کی وفات کے بعد ترکی میں ڈرون ٹیکنالوجی کے موجد اوزدمیر بیرقدار کی وفات امت اور انسانیت کے لئے ناقابل تلافی خسارہ ہے.
اللهم اغفر له وارحمه وارزق أهله الصبر والسلوان يا أرحم الراحمين!!
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کےلیے
ترتیب و ترجمانی: سالم برجیس ندوی |
(رفیق علمی دار البحث والاعلام - لکھنؤ)
(بشکریہ الجزیرہ عربی)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں