| مولانا محمد وثیق ندوی: فائل فوٹو |
🖋:محمد وثیق ندوی
رب العالمین کی طرف سے سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی کا مرتبہ عطا کیے جانے پر آپ کو پوری انسانیت کے لیے عظیم رہبر کی اور وسیع ترین دائرہ میں عظیم ترین رہنما کی حیثیت عطاء کردی گئی اور اس کا دائرہ قیامت تک وسیع کردیا گیا، اس طرح آپ کو جو مرتبہ ملا، وہ تو ملا،لیکن مزید یہ ہوا کہ انسانوں کو اس پستی اورگمراہی سے نکالنے کا کام بھی انجام پایا جس کی شدید ضرورت سامنے آچکی تھی، آپ کی پیدائش کے وقت سارا عرب اورسارا عجم ایسی اخلاقی پراگندگی اور ظلم وچیرہ دستی کے حالات تک پہونچ گیا تھا کہ انسانوں کا بحیثیت انسان کے تشخص ختم ہوتا جارہا تھا اورگویا انسان اپنے انسانی تشخص سے محروم ہونے کے دہانے پر پہونچ گیاتھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے آپ کی شکل اور شخصیت میں عظیم مصلح پیدا کیا اور وحی الٰہی کے ذریعہ سے انسانوں کو انسانیت کے مقام پر لانے کی ذمہ داری آپ کے سپرد کی، جس کو آپ نے بصورت اکمل پورا کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عظیم پیغمبر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم معلم ومربی بھی تھے اورآپ کا طرز تعلیم و تربیت اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تھا {ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ}[سورۃ النحل، آیت ۱۲۵](اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے۔)و { وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا إِلَی اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ} [سورہ فصلت ، آیت ۳۳]اور اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں۔
چنانچہ اس کے اثر سے آپ کو وہ خصوصیت حاصل ہوئی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اسطرح کیا ہے {فَإِذَا الَّذِیْ بَیْْنَکَ وَبَیْْنَہُ عَدَاوَۃٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیْمٍ}[سورہ فصلت، آیت ۳۴-۳۵](پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوجائے گاجیسے دلی دوست، اور یہ انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں، اور اسے سوائے بڑے نصیبے والوں کے کوئی نہیں پاسکتا)۔
اس طرح معلم انسانیت کی حکیمانہ دعوت ، ہمدردانہ نصیحت کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن دوست بن گئے، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس طرز عمل کو اختیار کرنے میں آپ کو جس تحمل اورصبر سے کام لینا پڑا وہ بھی غیر معمولی تھا اور وہ اللہ تعالی کی عنایت خاصہ کی بدولت آپ ہی کے بس کی بات تھی، چنانچہ اصلاح ونصیحت کے متعلق واقعات آپ کی سیرت میں جابجاملتے ہیں، جن میں صبروبرداشت ، تحمل وبردباری ،محبت اوراپنائیت کی پوری روح کار فرما نظر آتی ہے۔
اسلامی دعوت کے آغاز پر مکہ کے مسلمانوں نے ۱۳ سال اہل مکہ کے درمیان جس طرح گزارے، وہ ان کے سخت ترین دن تھے۔ مسلمانوں کو ان کے اللہ رب العالمین کی طرف سے اور معلم انسانیت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت تھی کہ وہ اپنی اس ایمانی زندگی میں صبر و ضبط سے کام لیں اور مخالفین کی ایذارسانی خواہ کتنی ہی سخت ہو برداشت کریں، نماز کا سہار لیں اور کسی پر ہاتھ نہ اٹھائیں، قرآن کریم میں فرمایاگیا ہے {کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ}[سورہ نساء:۷۷] (اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو اور نماز قائم کرو) اور یہ تاکید کی گئی ہے کہ ایمان و ترک شرک کی اپنی دعوت میں کسی کے ساتھ جبرواکراہ سے کام نہ لیں، صرف دعوت دیں {لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْن}[سورہ بقرہ:۲۵۶] (دین میں کوئی زورزبردستی نہیں)۔مسلمانوں نے ان دونوں ہدایتوں پر عمل کیا۔ چنانچہ مکہ مکرمہ کی تیرہ سالہ مدت میں ان کے اعزہ اور ان کے بڑوں کی طرف سے جو سختی اور ایذارسانی کی گئی اس کی وجہ سے وہ سخت ترین حالات سے گزرے، حتی کہ بعض صحابہ کرامؓ کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا، ذلت ، ایذا اور سب و شتم اور جسمانی ایذا کا سلسلہ۱۳ سال تک چلتارہا اور مسلمان صبروتحمل سے کام لیتے رہے۔
دعوت اسلامی کے ابتدائی دور میں اسلام لانے والوں میں اکثر مکہ کے کافروںکے عموماً عزیز واقارب اور خاندانی لحاظ سے ہمسر تھے، اگر جواب دیتے تو ان کو پریشان کر کے رکھ دیتے اور انتقام لینے پر آتے تو ان کی خلوت وجلوت میں ان کی جانوں کے لیے خطرہ بن جاتے اور طاقت میں ان سے کم نہ تھے۔ لیکن وہ اپنے پروردگارعالم اور نبی رحمت کی اطاعت میں صبر کرتے رہے، تاکہ دینی دعوت جو رب العالمین کی وحدانیت اور اطاعت کی تھی، کوکسی دنیاوی منفعت کا کام نہ سمجھا جائے اور نہ دوسروں پر بڑائی اور محض اقتدار کی طلب سمجھا جائے، بلکہ شرک و کفر کی ظلمتوں سے نکال کر آسمان و زمین اور ساری مخلوقات کو پیدا کرنے والی واحد ذات کی عبادت و اطاعت کی روشنی میں لایاجائے { لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ}[سورہ ابراہیم:۱](تاکہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں) اور جیسا کہ حضرت ربعی بن عامرؓ نے رستم کے دربار میں کہا تھا :’’ اللّٰہ ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادۃ العباد إلی عبادۃ اللہ وحدہ، و من جور الأدیان إلی عدل الإسلام و من ضیق الدنیا إلی سعتہا‘‘ (اللہ نے ہم کو اس لئے بھیجا ہے تاکہ بندوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کو صرف خدائے واحد کی عبادت کی طرف لائیں ، دیگر مذاہب کے ظلم وزیادتی سے نکال کر اسلام کے عدل وانصاف کی طرف لائیں اور دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کی وسعت کی طرف لائیں) ایسی صورت میں اگر جبر کا طریقہ یافوراً انتقام کا طریقہ اختیار کیا جاتا تو یہ بھی اقتدار اور دنیاوی منفعت جیسی تحریک سمجھ لی جاتی، اور اس کی دعوتی حیثیت اور اس کا مخلصانہ و ہمدردانہ انسانی پہلو دب جاتا۔
چنانچہ خود معلم انسانیت نے ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں اور سختی کا طریقہ نہیں اختیار کیا، اور اپنے ماننے والوں کو بھی اسی پر عمل کرایا اور جب حالات ناقابل برداشت حد تک پہونچ گئے، اور جانوں کو خطرہ لاحق ہوگیا تو اللہ تعالی کے حکم سے ترک وطن کرکے اپنے ایمان اور اپنی جانوں کو بچانے کی تدبیر کی، جس کے لیے مسلمانوں کی ایک تعداد فوری طور پر مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوئی، اور حبشہ کی طرف ترک وطن کرکے چلی گئی، پھر مزید افراد نے جب جب مجبوری محسوس کی اور مدینہ جانے کی گنجائش معلوم ہوئی تو وہاں منتقل ہونے لگے، ان کی اس منتقلی میں بھی ان کو خطرات اور شدید تکلیفوں سے گزرنا پڑا، اور پھر جب محسن انسانیت کو جان کا خطر پیش آگیا تو ان کو بھی رب العالمین کی طرف سے ہجرت کی اجازت دی گئی اور وہ بھی اس اجازت پر مدینہ منتقل ہوگئے، اور وہاں مسلمانوں کا مستقر بناکر دعوت دین کا مخلصانہ کام جاری کیا۔
مکی زندگی سے دواہم فائدے مسلمانوں کو حاصل ہوئے، ایک یہ کہ نیک مقصد اور اپنے پروردگار کی اطاعت کی خاطر ہر طرح کی تکلیف برداشت کرنے کی ہمت اور اپنے مذہبی فرض کے لیے ہر طرح کی قربانی کے لیے آمادگی پیدا ہوئی، اس طرح یہ تیرہ سالہ مدت اس مسلم جماعت کے لیے اعلی تربیتی عمل بن گئی، اور وہ دین کے ایسے مخلصانہ سپاہی بن گئے کہ جو مقصد کے لیے ہر طرح کی قربانی دے سکتے تھے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ جب ان سب کو ترک وطن کرکے ایک متعین جگہ کو اپنا مستقر بنانا پڑا، تو وہاں ان کو اسلام کو قبول کرلینے والوں کے تعاون سے اجتماعی حیثیت دینے کا موقع ملا، اور وہ ایک متحدہ طاقت بن گئے، جو چھوٹی طاقت سے شروع ہوکر بڑی طاقت بننے لگی، اور بتدریج ایسی طاقت بنی کہ اپنے نبی کو اپنا قائد سمجھتے ہوئے اس کے اشاروں پر چلنے والے اور اس کے حکم پر بے تکلف اپنی جانیں قربان کردینے والے بن گئے۔
مدنی عہد میں دشمنان اسلام سے ہونے والی تمام لڑائیوں میں مسلمانوں کا رویہ یہی رہا کہ وہ امت دعوت ہیں، اپنے پروردگار کو ایک ماننے اور اپنے طورطریق کو اس کے حکموں کا پابند بنانے کی طرف توجہ دلانے اور کفروشرک کی ظلمتوں سے نکال کر حق وصداقت کی روشنی میں لانے کا کام ان کو انجام دینا ہے، اس لیے وہ دشمن کے مقام پر جاکر حملہ آور نہیں ہوئے، وہ اپنی طاقت کے زور سے کسی کی دنیاوی وجاہت و عزت چھیننا پسند نہیں کرتے تھے، لیکن اگر کوئی طاقت خدا کی اس زمین پر خدا کے حکموں کے خلاف بغاوت اور سرکشی اور اپنے انسانی بھائیوں کے ساتھ ظلم و حق تلفی کا رویہ اختیارکرے تو اس کو اس سے بازرکھنے کے لیے ضروری اقدام کرنا ضروری سمجھتے تھے، چنانچہ مسلمانوں کی طرف سے رہبرانسانیت اکی قیادت میں یہ کام اتنے اچھے طریقہ سے انجام پایا کہ مدینہ کی دس سالہ مدت میں مسلمانوں کو کئی جنگوں کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کو ان کے علاوہ مختلف مہموں کے لیے جو کوششیں کرنا پڑیں ان سب میں مسلمانوں ہی کو کامیابی ملتی رہی، لیکن ایسی احتیاط اور حکمت سے کام انجام پایا کہ انسانی جانوں کا نقصان ان تمام مہمات میں صرف ایک ہزار سے کچھ تھوڑا زیادہ رہا، مسلمانوں کے ۴۵۹ افرادشہید ہوئے اوردشمنوں کے بھی ۴۵۹ آدمی ہلاک ہوئے ، اور اللہ تعالی کے آخری نبی حضرت محمد نے اپنے پروردگار کی طرف سے جو پیغام اپنی وفات سے صرف ۲۳سال قبل سنانا شروع کیا تھا اور جس کے لئے ۱۳سال تک مکہ میں انفرادی سطح پر آپؑ کو اور آپ کے ماننے والوں کو طرح طرح کی تکلیفیں جھیلنا پڑی تھیں، اور مدینہ میں دس سال تک دشمن کی مسلح کارروائیوں کا مقابلہ کرنا پڑا تھا پورے جزیرۃ العرب میں عام طورپرمان لیاگیا، جزیرۃ العرب کے سب باشندے اس کے حلقۂ بگوش ہوگئے، اور آپؑ نے اپنی ۶۳سالہ حیات طیبہ کو انسانیت کو دینی و اخلاقی تباہی سے بچانے کے کام میں کامیابی کے ساتھ پوراکرکے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔
سیرت نبویؑ کے اس مختصر جائزہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ دعوت اسلام کی بنیاد صبروبرداشت ، عفوودرگزر، اخلاق حسنہ اور انسانی غمخواری وہمدردی پر ہے ، نہ کہ جبرواکراہ اور جنگ وتشدد پر ، جیساکہ یورپ دعویٰ کررہا ہے کہ اسلام اپنی تعلیمات کی بنیاد پر نہیں؛ بلکہ تلوار کی دھار اور نیزہ کی نوک پر پھیلا ہے، اور پوری دنیا ایک رٹے رٹائے سبق کی طرح اس جھوٹ کو دھرائے چلی جارہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ محسن انسانیت ا کی زندگی میں جنگ اور انتقام یا تشدد کی کارروائی کا مقابلہ کیا جائے تو محبت، امن اور سختیوں اور تکلیفات کو جھیلنے اور زیادتی کرنے والوں کو معاف کرنے کا عنصر غالب نظر آئے گا اور وہی اس کی بنیادی خصوصیت معلوم ہوگی، خود آپ نے فرمایا کہ "بعثت لأتمم مکارم الأخلاق‘‘ ۔(مؤطا امام مالک)
قرآن کریم نے آپ ا کو رحمت للعالمین کے وصف سے یاد کیا اور یہ آپ ا کی سب سے بڑی خصوصیت بتائی، وہ کہتا ہے{فَبِمَا رَحْمَۃِ مِنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَاَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ ، فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِيْ الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ علَی اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ المُتَوَکِّلَیْن} [سورہ آل عمران: ۱۵۹]پھر یہ اللہ کی رحمت ہی کے سبب سے ہے،کہ آپ ان کے ساتھ نرم رہے، اور اگر آپ تند خو سخت طبع ہوتے تو وہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہوگئے ہوتے، سو آپ ان سے درگزر کیجئے اور ان کے لئے استغفار کردیجئے، اور ان سے معاملات میں مشورے لیتے رہئے، لیکن جب آپ پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ رکھیئے، بیشک اللہ ان سے محبت رکھتا ہے جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں)۔
لہٰذا ضرورت آج اس بات کی ہے کہ جتنے وسیع پیمانے پر اور جس منصوبہ بند طریقہ سے محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو نشانہ بنایا جارہا ہے اتنے ہی وسیع پیمانے پر اور اتنی ہی منصوبہ بندی سے حقائق کو سامنے لایا جائے اور سیرت نبوی کے ان پہلوؤں کو بار بار سامنے لایا جائے جو سب سے زیادہ پرکشش اور جاذب نظر ہیں اوردنیاکو اس وقت سب سے زیادہ اسی کی ضرورت ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں