نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

الیکٹرانک گیمز : اہم شرعی ضابطے اور آداب

 

حذیفہ مدثر: فائل فوٹو

تحریر: ڈاکٹر مسعود صبری 

ترجمانی: حذیفہ مدثر ندوی

الیکٹرانک گیمز کا شرعی حکم ان کی کیفیت پر موقوف ہے،اسلامی شریعت کے ماہرین کے یہاں یہ اصول موجود ہے کہ ’’الحکم علی الشيئ فرع عن تصورہ ‘‘ (کسی چیز کی مکمل تصویر سامنے آنے کے بعد ہی اس پر حکم لگا)۔ چنانچہ ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ سارے گیمز اپنے اپنے موضوع کے مطابق ہوتے ہیں، لہذا صرف گیم ہونے کی وجہ سے ان پر ایک جیسا حکم نہیں لگایا جا سکتاہے۔ مثال کے طور پر کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کا استعمال ہے،تو صرف اس کے استعمال پر حکم نہیں لگے گا ،بلکہ اس کے استعمال کی کیفیت دیکھی جائے گی،آیا اس کا استعمال خیر کے لئے ہو رہا ہے یا شر کے لئے،پھر اسی اعتبار سے اس پر حکم لگے گا۔ اسی لیے ہم کو ہر گیم کے بارے میں تحقیق کرنا پڑے گی، اس کے منفی اور مثبت اثرات معلوم کرنا پڑیں گے،تاکہ ہم کوئی صحیح رائے قائم کرسکیں۔ 


موجودہ زمانے میں کھیلے جانے والے الیکٹرانک گیمز میں زیادہ تر ضرر اورمفاسد ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے بدترین نفسیاتی اثرات بچوں پر پڑتے ہیں اور یہ بات ہر ایک کو معلوم بھی ہو جاتی ہے۔


الیکٹرانک گیمز پر حکم لگانے کا اصول یہ ہے کہ ہر گیم میں بس اس کے دائرے میں حکم لگے گا، یعنی اس گیم کے نفع ونقصان کو دیکھا جائے گا،کیوں کہ بہت سارے گیمز تربیتی ہوتے ہیں،جن میں کئی فائدے ہیں، تو وہ جائز ہوں گے ،اور اگر ان گیمز میں مفاسد زیادہ ہیں،تربیتی واصلاحی پہلو بالکل مفقود ہیں یا برائے نام ہیں تو وہ ناجائز ہوں گے،اپنی قباحت اور بدترین تاثیر کی وجہ سے حرام تک پہنچ جائیں گے،کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’لا ضرر ولا ضرار‘‘ (نہ تم خود بلاوجہ نقصان اٹھاؤ اور نہ بلاوجہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ) 


ہم یہ بات جانتے ہیں،کہ کچھ گیمز ایسے ہوتے ہیں جن کومتعدد آلات ووسائل اور مشینوں کی مدد سے کھیلا جاتا ہے ،لہذا ایسے گیمز کے مقاصد کو دیکھ کر ان کے اصول وضوابط مقرر کیے جائیں گے، چنانچہ فقہاء نے ایک اصول یہ متعین کیا ہے کہ’’للوسائل حکم المقاصد" یعنی وسائل وآلات کے مقاصد کے پیش نظرہی ان پر کوئی شرعی حکم لگے گا۔

 


الیکٹرانک گیمز کے اصول و ضوابط:

اصلا تو گیمز کا شرعی حکم ایک قاعدہ کے مطابق جواز کا ہے اور وہ قاعدہ یہ’’الأصل في الأشياء الإباحۃ‘‘ ترجمہ: تمام اشیاء میں اصل حکم مباح ہونے کا ہے۔ البتہ کچھ ایسے شرعی ضابطے اور اصول ہیں، جن سے گیمز کے سلسلے میں بڑی اہم رہنمائی ملتی ہے، ان میں سے کچھ اہم اصول یہاں ذکر کئے جاتے ہیں:


   (۱) پہلا اصول یہ ہے کہ وہ گیمز اسلامی عقائد اور اسلامی شریعت میں بیان کردہ،صریح امور کی خلاف ورزی نہ کرتے ہوں جیسے’’سیطرہ‘‘(بالادستی/حکمرانی) ہے ،جس کو لوگ زمینی ایلین (Ealian) کہتے ہیں، یعنی وہ گیم ایلین کی حکمرانی و بالادستی پر مبنی نہ ہو ،یا وہ ایسے گیمز نہ ہوں جن میں زمین پر آباد لوگوں اور آسمانی خداؤں کے مابین جنگ کا نظارہ پیش کرتے ہوں،یا وہ یہود و نصاری کے عقائد کی جانب راغب کرنے والے ہوں، یا ایسے دوسرے عقائد کی طرف دعوت دینے والے ہوں جو اسلامی عقائد و شریعت سے متصادم ہوں، ٹکرا رہے ہوں، یعنی اسلامی عقائد میں خلل پیدا کرنے والے اور اسلامی شریعت سے متصادم ہونے والے مناظر،ڈائلاک ،تصویریں اور کارٹون ان گیمز میں اگر پائی جاتی ہیں،تو ان پر حرام ہونے کا فتوی لگے گا۔کیوں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے’’وَمَنْ يَّتِّبِعْ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِيْ الْآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ‘‘(آل عمران:۸۵) ترجمہ: جو کوئی شخص اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے دین کی پیروی کرے گا تو اس کا وہ دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا،اور وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا )۔


   (۲) دوسرا اصول یہ ہے کہ وہ گیم شریعت میں قطعیت کے ساتھ حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرنے والے نہ ہوں، جیسے کہ جادو ،جادوگر اور مداری کا کھیل ہے، یا چوری و زناکاری ہے، یا اس جیسے اعمال جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے ،اسی سلسلے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ‘‘(الشوری:۳۷) ترجمہ :اور وہ لوگ جو گناہ کبیرہ سے اور گندے کاموں سے بچتے ہیں۔(تو وہ قابل تعریف ہیں، اللہ کے محبوب ہیں)۔


   (۳) تیسرا اصول یہ ہے کہ ان گیمز میں ایسی کوئی بات نہ ہو جو مسلمانوں کی ناپسندیدگی اور ان کو تکلیف پہنچانے کا باعث بنے،یا وہ گیمز اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کرنے والے ہوں، مثال کے طور پر ایسا ہو کہ گیم میں پلیئر(Player) کو اس بات پر آمادہ کیا جا رہا ہو کہ وہ کعبہ کو منہدم کرے یا مسجد نبوی یا کسی بھی مسجد پر میزائل داغے یا اسی طرح کی کوئی غیر شرعی شرط پوری کرے،تو اس کی لیول(Level/field) پار ہوگی۔چنانچہ مقدسات کی تعظیم کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے ’’ذَٰلِکَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَٰتِ ٱللَّہِ فَھُوَ خَيْرٌ لَّہ، عِندَ رَبِّہِ‘‘(الحج:۳۰) ترجمہ :اور جو شخص اللہ کی حرمت والی اشیاء کی تعظیم کرے گا،تو اللہ کے نزدیک اس کا یہ عمل بہت بہتر ثابت ہوگا۔


   (٤) چوتھا اصول یہ ہے کہ وہ گیمز کافروں کی تعظیم و تکریم اور مسلمانوں کی تحقیر و تذلیل کرنے والے نہ ہوں اور بچوں کو کافروں کی ٹیم سلیکٹ(Select) کرنے پر ابھارنے والے نہ ہوں،اس لیے کہ وہ ٹیم بہادر اور طاقتور ہےاور مسلمانوں کی ٹیم کے خلاف جیت جاتی ہے اور مسلمانوں کی ٹیم بظاہر کمزور اور بزدل ہوتی ہے،انہی باتوں کے بارے میں قرآن کچھ یوں بیان کرتا ہے ’’لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ ‘‘(المائدہ:۵۱)اللہ تعالی ایمان والوں کو مخاطب کرکے فرمایا رہا ہے،کہ اے ایمان والو! ترجمہ: یہود و نصاریٰ کو اپنا یار و مددگار نہ بناؤ،یہ خود ہی ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور تم میں سے جو شخص ان سے دوستی کرے گا،تو وہ ان ہی میں سے ہوگا۔


   (۵) پانچواں اصول یہ ہے کہ وہ گیمز حرام کھیلوں پر مبنی نہ ہوں جیسے کہ قمار(جوا)اور سود ہے۔اس سلسلے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ‘‘ (المائدہ:۹۰) ترجمہ :بے شک شراب،جوا اور بتوں کے ڈھیر اور جوئے کے تیر، یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں،لہذا ان سے بچو،تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔


   (٦) چھٹا اصول یہ ہے کہ وہ گیمز بچوں کے دلوں میں سختی و جھنجھلاہٹ اور دوسروں کے خلاف انتہا پسندی کے جذبات پیدا کرنے والے نہ ہوں،کیوں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں’’وَلَا تَعْتَدُوٓاْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ‘‘ ترجمہ : اور تم ظلم و زیادتی نہ کرو،بے شک اللہ تعالی ظالموں کو پسند نہیں کرتے ہیں۔


    (۷) ساتواں اصول یہ ہے کہ اس امت کے منتخب افراد کی ذمہ داری یہ بنتی ہے،کہ وہ بچوں کے لئے کچھ ایسے تربیتی گیمز بنائیں،جو تفریحی ہوں اور مفید بھی ہوں،کیوں کہ یہ کوئی حکمت و دانائی کی بات نہیں ہوتی ہے، کہ ہم اپنے بچوں کو ان مضر گیمز کھیلنے کے لیے بالکل فری (Free) چھوڑ دیں اور ان کے لئے کوئی مفید،مناسب اورمباح گیم تیار نہ کریں،سچی بات تویہ ہے کہ اس امت کے پاس تجربے اور مال و دولت کی کمی نہیں ہے،بس شعور اورعزم وارادے کی کمی ہے۔


   (۸) آٹھواں اصول یہ ہے،کہ یہ بھی کوئی سمجھداری کی بات نہیں ہے، کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کے گیمز سے دور رکھ کر کریں، یہ نظریہ صحیح نہیں ہے،کیوں کہ اس طرح کے گیمز موجودہ زمانہ کی زبان وآلات اور وسائل میں سے ایک ہے۔


    ہمارے لئے کرنے کا کام یہ ہے،کہ ہم مضر وسائل کے بدلے میں مفید وسائل امت کے سامنے پیش کریں،کیوں کہ سارے گیمز میں ہمیشہ ایک ہی جیسا حکم نہیں لگے گا،بلکہ ان کے مقاصد،موضوعات اور ان کے منفی و مثبت اثرات کے پیش نظر حکم لگے گا،چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نبی بنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاعری کو اپنے معاشرہ میں رائج پایا،جو کہ اس زمانے کا فن تھا،جس میں شراب اور دوسرے محرمات کی مدح سرائی ہوتی تھی ,اس کی ناپسندیدگی و کراہت اور حرمت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعر و شاعری کے وجود پر ناجائز اور حرام ہونے کا فتوی نہیں لگایا،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی نشرواشاعت کے طور پر اس فن کو استعمال فرمایااور اسلام کے دفاع کے لیے شاعری سے کام لیا،لہذا یہ نبوی منہج ہے، جس کی ہم کو آج بہت ضرورت ہے۔


اسلامی شریعت کے ماہرین نے اصول کی کتابوں میں یہ بات تحریر فرمائی ہے،کہ مفتی کے آداب میں سے یہ ہے،کہ اگر کسی چیز پر حرمت کا فتوی لگے،تو مفتی اس کا جائز و مباح متبادل پیش کرے۔


ان الیکٹرانک گیمز کا مسئلہ یہ ہے،کہ اس میں بات صرف حرام وحلال کی نہیں ہے،بلکہ یہ گیمز مکمل طور پرنسل انسانی کے مربی ہیں،امت کے نوجوانوں کا مستقبل اس سے جڑا ہوا ہے،چنانچہ موجودہ زمانے کے وسائل و اسباب کے ذریعے باہمی تعاون کے ساتھ اس نسل کی تربیت کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سقراط کا مشہور مقولہ ہے۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف بھی اس کی نسبت کی جاتی ہے،کہ’’تم اپنی نئی نسل کو اپنی پرانی روش پر چلنے پر مجبور نہ کرو،کیوں کہ ان کا زمانہ تمہارے زمان سے بالکل مختلف ہوگا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...