جنت الفردوس کا گھر برائے فروخت: حضرت علی رضی اللہ عنہ
النفسُ تبكي على الدنيا وقد علمت
أن السعادة فيها ترك ما فيـــــهـا
انسان کا نفس دنیا حاصل کرنے کے لئے روتا ہے،حالانکہ کہ وہ جانتا ہے کہ دنیاوی لوازمات کو چھوڑنا ہی سعادت ہے۔
یہ صحابی رسول زاہد و عابد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عمدہ قصیدہ کا مطلع ہے۔اس قصیدہ کے لکھنے کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانۂ خلافت میں ایک مالدار شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے گھر کی خریداری کا معاہدہ لکھ دیں۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کا معائنہ کیا تو انھوں نے محسوس کیا کہ دنیا کی محبت نے اسے اندھا کر دیا ہے، اور یہ شخص فکر آخرت سے غافل ہے۔
چنانچہ انھوں نے معاہدہ نامہ میں لکھا "ایک مرنے والے نے دوسرے مرنے والے سے ختم ہو جانے والی دنیا میں ایک فانی گھر خریدا ہے، جس کی چوحدی یہ ہے : ایک جانب موت ہے, دوسری طرف قبر، تیسری چوحدی حساب تک پہنچاتی ہے اور چوتھی جانب جنت ہوگی یا جہنم۔
اس شخص نے کہا : اے علی (رضی اللہ عنہ) یہ کیا ہے؟ میں آپ کے پاس اپنے گھر کا معاہدہ نامہ لکھوانے آیا ہوں اور آپ نے میرے لئے قبر کا معاہدہ لکھ دیا ؟
اس موقع پر عربی زبان کے قادر الکلام شاعر، صحابی رسول حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے برملا اپنے ان مشہور اشعار سے جواب دیا جس کا ترجمہ مع اصل عبارت پیش خدمت ہے:-
"النفسُ تبكي على الدنيا وقد علمت
أن السعادة فيها ترك ما فيـــــهـا"
" نفس دنیا کے حصول میں روتا ہے حالانکہ کہ وہ جانتا ہے کہ دنیاوی لوازمات سے بےرغبتی اختیار کرنا ہی سعادت ہے "
لا دار للمرءِ بعد الموت يسكنـــهـا
إلا التي كانَ قبل الموتِ بانيـــــها
موت کے بعد رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں،سوائے اس گھر کے جس کو موت سے قبل بنایا گیا ہو۔
فإن بناها بخير طاب مسكـنـــــــه
وإن بناها بشر خاب بانيـــــــــها
اگر اسے اچھے اعمال سے تیار کیا ہے تو وہاں رہنا خوشگوار ہوگا، اگر برے اعمال سے تیار کیا ہے تو اس گھر کا رہنے والا سخت گھاٹے میں ہوگا۔
أموالنا لذوي الميراث نجمعُهـــــــا
ودورنا لخراب الدهر نبنيــــــــهـا
ہمارے مال جس کو ہم جمع کرتے ہیں وہ تو وارثین کے لئے ہیں، اور ہمارے گھر جس کو ہم مزین کرتے ہیں ایک دن ویران ہو جائیں گے۔
أين الملـــــوك التي كانت متسلطنة
حتى سقاها بكأس الموت ساقيــــهـا
کہاں ہیں وہ شہنشاہ جنھیں بادشاہت مل گئی تھی؟ بالآخر انھیں بھی ساقی نے موت کے برتن کا جام پلا دیا۔
لا تركِـنَنَّ إلى الدنيا وما فيهــــــــا
فالموت لا شك يُفنينا ويُفنيـــــــها
تم دنیا اور دنیا کی رنگینی میں گم نا ہو جانا، خود کو آخرت سے غافل نہ کرنا۔کیونکہ موت ہمیں اور دنیا کی ہر چیز کو فنا کرکے رہے گی۔
ان اشعار کو سن کر وہ آدمی زار وقطار رونے لگا۔ اور اس نے عزم کیا کہ اپنے مال ودولت کو فقیروں اور محتاجوں پر خرچ کردے گا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر مزید چند اشعار کہے جو درج ذیل ہیں:
إنما المكارم أخلاقٌ مطهـــــــــرةٌ
الـدّين أولها والعقل ثانيهـــــــــــا
بے شک بلند مقام پاکیزہ اخلاق ہے
جس کا پہلا زینہ دین داری ہے اور دوسرا عقل۔
والعلم ثالثـــــــها والحلم رابعــــــهـا
والجود خامســــها والفضل سادســــــها
تیسرا علم، چوتھا بردباری،
پانچواں فیاضی، اور چھٹا فضل ہے۔
والبرّ سابعــــــها والشكر ثامنــــــهـا
والصبر تاسعــــــها واللّين باقيــــــهـا
اور ساتواں نیکی ہے آٹھواں شکر، نواں صبر اور باقی ماندہ حصہ نرمی کا ہے۔
والنفس تعلم أني لا أصادقــــــهـا
ولست أرشدُ إلا حين أعصيــــهـا
دل ودماغ کو یہ بات معلوم ہے کہ میں رشد و ہدایت کو نہیں پا سکتا جب تک کہ اپنی نفسانی خواہشات پر کنٹرول نا کروں۔
من يشتري الدارفي الفردوس يعمرها
بركعةٍ في ظلام الليل يحييــــهـا
کون ہے جو اللہ کے سامنے تاریک راتوں میں سجدہ ریز ہو کر جنت الفردوس میں ہمیشہ ہمیش رہنے کے لئے گھر خریدنا چاہتا ہے؟
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و مافیہا کی ایسی چیزوں سے بچائے جو ہمارے آخرت کو برباد کر دے، اللہ ہم سب کو فکر آخرت کی توفیق عطا فرمائے۔
بشکریہ: میم میگزین عربی
ترجمانی: شمسیہ مومناتی، شمع مومناتی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں