دعوتِ دین کی راہ
🖋:کلام رضا فیضی
( دعوت وتبلیغ کی محنت کے تحت علماء کرام کی خصوصی نشست سے جناب ڈاکٹر علی شفیق ندوی صاحب کا خطاب، ذیل میں خطاب کے اہم نکات پیش کیے جا رہے ہیں۔)
نحمد الله ونشكره ونصلي على رسوله الكريم، أما بعد؛
فيقول الله تعالى: (فبشر عبادی الذین یستمعون القول فیتبعون أحسنہ):
اس آیت میں بشارت اور خوشخبری دی گئی ہے، اس کو جو بات متوجہ ہو کر سنے گا۔ کہنے والا کتنا ہی کم علم اور گنہگار ہو، بات کس کی کی جارہی ہے، اللہ رسول کی، اسلیے توجہ وعظمت کے ساتھ اور عمل کی نیت سے سنی اور سنائی جائے۔
علماء چونکہ انبیاء کے وارث ہیں: علم وفکر، دعوت وعمل اور مقصد زندگی کے اعتبار سے وہ انبیاء کے جانشین ہیں، اسلیے انکو انبیاء کی زندگی، انکا فکرو عمل سامنے رکھنا ہوگا، اسی لیے اللہ تعالٰی نے انبیاء کا تذکرہ وسیع پیمانے پر، جابجا اپنی کتاب عظیم میں فرمایا ہے۔
سورہ یوسف میں ایک نبی کی پوری زندگی، بلکہ پورا مشن کا، اتار چڑھاؤ کا صاف لفظوں میں تذکرہ کرنے کے بعد، اللہ جل جلالہ نے فرمایا:"قل ھذہ سبیلی أدعو الی اللہ علی بصيرة أنا ومن اتبعني"، اسمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی سنت کا ذکر ہے، جسکو آپ سے محبت ہو وہ اسکو اپنائے۔
🌹 (قل) کا مقولہ لہ ذکر نہیں کیا، عموم کو بتانے کے لیے، یعنی سب سے کہیے کہ رسول اللہ کا راستہ کیا ہے۔ خواہ کالا ہو سفید ہو، امیر ہو غریب ہو، ایران کا ہو یا امریکہ کا ۔۔ اور قیامت تک آنے والوں سے کہیے بتائیے: ( هذه سبيلي) یہ ہے میرا راستہ، مشار الیہ واضح ہے: یعنی میری زندگی تمہارے سامنے ہے، اور حضرت یوسف کی زندگی بھی تمہارے سامنے کھلی کتاب ہے، یہی زندگی، یہی مقصد، یہی مشن، یہی دعوت وفکر ہم نبیوں کا، اور ہمارے پیچھے چلنے والوں کا راستہ ہے:
(أدعو إلى الله) کہ میں دعوت الی اللہ کی محنت کروں، ایک اللہ کی طرف اسکی کتاب اور اسکے حکموں کی طرف بلاؤوں ۔۔کسی گروہ یا کسی جماعت، یا کسی مسلک، یا کسی اجتہادی مکتب فکر کی طرف نہیں، بلکہ ( الی اللہ)، کہ ہم اور سب کے سب ایک اللہ کی طرف دعوت دینے والے بن جائیں۔
(على بصيرة) پوری بصیرت اور پورے یقین کے ساتھ ۔۔ داعی کا یقین مضبوط ہوتا ہے ۔۔ کیوں کہ جو ایک اللہ سے ہونے کی، یقین کی، اور اعمال میں کامیابی کی دعوت چلائے گا، سب سے پہلے اسکا یقین بنے گا، کہ دنیا دھوکہ ہے، یہاں کی طاقت، مال ودولت، عزت وذلت سب دھوکہ ہے، اور نماز وعبادت میں، گشت وتعلیم میں، اطاعت وفرمانبرداری میں ہی کامیابی ہے، دنیا کے مال ودولت میں نہیں ۔۔
(أنا ومن اتبعني) صرف میرا کام نہیں ہے دعوت دینا، قربانی دینا، یقین کے ساتھ کام کرنا، بلکہ جو میرا وارث وجانشین ہو، میرے راستہ اور طریقہ کا متلاشی ہو، میری سب سے بڑی سنت کو اپنانا چاہتا ہو۔
تو اس طرح داعی اللہ کا پکا سچا بندہ بن جائےگا ، نبی سچا وارث بن جائیگا، شرط یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ قربانی کے ساتھ جان مال وقت دین کو دے۔
صحابہ کرام جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ستاروں سے تشبیہ دی ہے، انھوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، ان کی قربانیوں کے سامنے ہماری کیا حیثیت ہے؟۔ حضرت خباب بن الأرت کا واقعہ یاد ہوگا۔ حضرت عمر نے ایک بار اپنے زمانہ میں ان سے پوچھا کہ کچھ بتاؤ کیسی دشواری ہوئی اسلام کی راہ میں، انھوں نے واقعہ بتانے کے بجائے اپنی پیٹھ کھول کر دکھا دی تو وہاں گوشت نہ تھا، چمڑا نہ تھا، صرف ہڈی تھی۔ ایسی قربانی تھی۔ انھوں نے جان، مال، وقت، نیند ، آرام سونا جاگنا سب قربان کیا۔
ہجرت کے موقع پر سب کچھ چھین لیا گیا، گھر، دکان، جائداد، یہاں تک کہ بیوی بچے چھن گئے۔ جب ایسی قربانی دی تو یقین بنا اور اللہ تعالی کی غیبی مدد شامل حال ہوگئی۔۔ ان کو مدینہ میں انصار ملے جنھوں نے مواخات کے بعد اپنا سب کچھ مہاجرین پر لٹایا یہاں تک کہ بیوی کو بھی طلاق دے کر اپنے مہاجر بھائی کو دینا چاہا۔ اخلاص ایسا تھا کہ جن صحابہ کو اللہ نے دنیا میں دین کی بنیاد پر انعامات سے نوازا تو وہ صحابہ ڈرتے تھے کہ کہیں ہمارے اعمال کا بدلہ، اعزاز و اکرام دنیا میں ہی نہ مل جائے۔ ایسا ایمان مضبوط تھا کہ سب کچھ آخرت میں چاہئے تھا، یہاں دنیا میں کچھ نہیں چاہتے تھے۔
حضرت عمر نے بارہا نبي پاک سی سنا کہ وہ جنتی ہیں، حضور کے ساتھ ہوتے، حضور کثرت سے فرماتے : میں ابو بکر اور عمر، أحد پہاڑ جب شدت شوق سے جھومنے لگا تو احد پہاڑ سے حضور نے کہا تھا کہ ٹھہر جا، تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور ایک شہید ہے۔ وہ رات رو رو کر گذارتے تھے اور دن میں بندوں کے مسائل و ضروریات پوری کرتے رہتے۔ امام بھی تھے، محدث ومفتی بھی، قاضی، خطیب، امیر المومنین بھی وہی سارے کام کا ایک شخص کا دیکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
ایک شخص نے حضرت عمر کو اس وقت روکنا چاہا جب وہ تھکے ماندے سارے کام کو پورا کرکے گھر لوٹ چکے تھے، عمر نے انھیں ایک کوڑا مار دیا کہ جب اس کام کے لئے بیٹھتا ہوں، جب قضایا حل کئے جاتے ہیں، اس وقت نہیں آتے، وہ صاحب واپس لوٹ گئے، بعد میں حضرت عمر کو احساس ہوا اب رونا شروع کر دیا، اور اپنے نفس کو خوب ملامت کیا۔ ایک امیر المومنین کی یہ حالت تھی۔
حضرت عمر نے دعاء مانگی تھی کہ مدینہ میں شہادت کی موت عطا فرما، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ تو بعید بات ہے کہ مدینہ تو اب مامون ہے یہاں شہادت کیسے ہو سکتی ہے، لیکن ان کو جب ابو لؤلؤہ مجوسی نے برچھی ماری تو یہ دعاء پوری ہوئی۔
اللہ تعالیٰ ایسی دعائیں جو بظاہر متضاد یا نا ممکن لگتی ہیں، اپنے نیک ومقبول بندوں کے دل میں ممکن کردیتا ہے ۔۔ مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی باتیں بھی اسی طرح کی ہوا کرتی تھیں ۔ جب بنگلہ والی مسجد کے ساتھ آنے والی جماعتوں کے قیام کے لیے مرکز کی تعمیر ہورہی تھی تو فرمانے لگے کہ یہاں عرب سے آنے والی جماعتیں ٹھیریں گی، یہاں یورپ وغیرہ سے ۔ لوگ سن کر ہنس رہے تھے کہ دلی والے تو سنتے نہیں، عرب ویورپ کا خواب دیکھنا ؟؟ بہت جلد وہ جو بہکی بہکی باتیں لگتی تھیں، حقیقت میں بدل گئیں ۔۔
تبلیغ کا کام نہایت جامع کام ہے، اس کام کے دلائل واضح ہیں قرآن و حدیث میں، عرب کے مشہور عالم ومفتی اعظم سعودیہ، شیخ ابن باز نے تبلیغ کا بڑا دفاع کیا ہے، انھوں نے ایک رسالہ میں اعتراف کیا ہے کہ میں اس نتیجہ پر پہونچا ہوں کہ اللہ کی اس کام پر ایسی مدد ہے کہ تم جتنی مخالفت کر لو وہ ختم ہونے سے رہی۔ اس کی مثال ایک شعر سے دی:
كناطح صخرة يوما ليوهنها
فلم يضرها وأوهى قرنه الوعل
(مخالف) اس جنگلی بکرے کی طرح ہے جو پہاڑ کو اپنی سینگوں سے مار رہا ہے، تو نقصان بکرے کی سينگ کو ہی ہونا ہے۔اس کام کی مخالفت جس نے بھی کی ہے اللہ نے اس کو ذلیل ورسوا کیا ہے۔ آپ نے دیکھا خود اس ملک میں مولانا سعد صاحب کے خلاف پوری میڈیا ، سارا زمانہ ہو گیا لیکن کام ہوتا رہا، اور نہایت سکون کے ساتھ مولانا اپنے کام انجام دیتے رہے۔
ابھی میرے دل میں اس کام کی مثال آرہی ہے، ہوسکتا ہے وہ مثال موجب اشکال ہو، اور علماء تو علماء ہوتے ہیں، اشکال کرنے کا حق ہے، ہوسکتا ہے آپ کہیں مثال سن کر : یہ تبلیغی بہت غلو کرتے ہیں۔ اسلیے مثال سے پہلے یہ آپ کو بتادوں کہ یہ گنہگار صرف تبلیغی نہیں ہے، علم سے بھی مضبوط رشتہ ہے، بلکہ بندہ کی بعض کتابیں (الاعجاز العلمی فی القرآن، اور الفقہ المیسر) عرب وعجم کے اداروں میں پڑھائی جاتی ہیں۔۔ مختلف ممالک میں پڑھائی جا رہی ہیں، بندہ کی ایک کتاب علم المنطق اور استدلال پر قصیم یونیورسٹی میں پڑھائی جاتی ہے ۔۔ جہاں بندہ اسسٹنٹ پروفیسر رہ چکا ہے، اور کچھ عرصہ مسجد نبوی میں پڑھائی جاتی رہیں جہاں بندہ درس دیتا رہا ہے۔ تو میں صرف جماعتی نہیں ہوں، بلکہ اللہ کے فضل سے پوری بصیرت کے ساتھ بات کر رہا ہوں۔
مثال یہ ہے کہ علماء اور بزرگوں کی کوششوں کی مثال پچھلے انبیاء کی طرح ہے جب نبی علاقائی ہوتے تھے، ان کے علاقے متعین تھے زمانہ محدود تھا، بسااوقات ایک وقت میں ایک سے زائد نبی بھی ہوئے۔
لیکن تبلیغی جماعت کا کام مکمل اجتماعی ہے، اسکی مثال خاتم الانبیاء والمرسلین کی نبوت سے دی جاسکتی ہے ، جسکا علاقہ بھی لا محدود، زمانہ بھی لا محدود، زمان ومکان لا محدود ۔
خلفائے راشدین کے بعد اجتماعیت کمزور ہوتی چلی گئی، عباسی زمانہ میں بعض حکومتیں الگ ہو گئیں، جب کام اور اجتماعیت کمزور ہوگئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے علماء، تصوف کے اکابرین اور بزرگان دین سے کام لیا ۔۔ اتنا کام لیا کہ پورا کا پورا علاقہ اسلام لے آتا، تائب اور ہدایت یافتہ ہوتا۔ خواجہ نظام الدین اولیاء، خواجہ معین الدین چشتی وغیرہ کے نام بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مراکش میں میں نے دیکھا کہ بے شمار شہر اور اسٹیشنوں کے نام بزرگوں کے نام پر تھے، کہ انھوں نے ان علاقوں میں بڑا کام کیا۔
اس کے بعد اللہ نے اجتماعیت کے ساتھ تبلیغی جماعت سے جو کام لیا ہے وہ عالمی کام ہے، یہ اللہ کا فیصلہ ہے، کہ کچھ فیصلے آسمانی ہوتے ہیں، اس کی کامیابی اور وسعت کے پیچھے آسمانی قوت کارفرما ہیں۔ پیارے نبی کے کام کی لامحدودیت اور وسعت اس کام میں جھلکتی ہے، اب اس کام کا دائرہ لامحدود ہے۔ عمومی اعتبار سے لوگوں کی زندگیوں میں جو تبدیلیاں اس کام کے ذریعہ سے پیدا ہو رہی ہیں، سچی بات یہ ہے کہ کسی اور کام کے ذریعہ وہ بات پیدا نہیں ہو رہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جماعت کا اثر کہاں ہو رہا ہے, میرے والد غیر عالم تھے، آی ایس آفیسر تھے، (LIC) ڈپارٹمنٹ میں بڑے عہدہ پر فائز تھے، کیوںکہ انشورنس فقہی نقطہ نظر سے قابل ترک ہے اسلیے جب انھوں نے سن بہتر (1972) میں حضرت علی میاں کے ساتھ حج کیا تو اس نوکری کو چھوڑنے کا عزم کیا۔۔ سب چھوڑ کر جماعت میں جانے کا ارادہ کیا، اور اس کے بعد ایسی تبدیلی آئی کہ ان کے تمام بیٹے حافظ و عالم ہوئے، اور چار مفتی بھی ہیں، تو تبلیغ کے ذریعہ اللہ نے کس طرح ایک غیر عالم کے گھر میں علمِ دین کو زندہ کیا، تو علم بھی زندہ ہورہا ہے، عمل بھی ۔۔ ہاں فرشتہ نہیں بن رہا ہے کوئی ۔۔
دعوتِ انبیاء کا اصول ہے: (قل لا أسألكم عليه أجرا)، بلکہ اپنی جان اپنا مال اپنا وقت لگا کر کام کرو ۔۔ صحابہ نے تو پیٹ پر پتھر باندھ کر کام کیا ہے ۔
والد محترم تبلیغ کے لیے دنیا کے ہر قابل ذکر ملک گیے ہیں، چونکہ سال میں چھ مہینے لگاتے تھے، اور گھر پر بھی صبح سے شام تک عبادت ودعوت کے تقاضے پورے کرتے اسلیے نوکری بھی چھوڑ دی، اور جائیداد بیچ کر دین کے لیے لگاتے گیے ۔ دنیا کا کوئی اہم ملک نہیں جہاں دعوت کی محنت لے کر نہ گیے ہوں، امریکہ، جاپان، چائنا، اسٹرالیا، یورپ ممالک، افریکن ممالک، یہاں تک کہ افریقہ کے جنگلوں میں بھی کئی بار چار مہینے لگائے ۔۔
یہیں پیچھے چوراہے پر تقریبا 7 ہزار اسکوائر فٹ کا پلاٹ تھا ۔۔(بیان نورانی مسجد، عنبر گنج میں تھا) جو والد محترم کا آخری پلاٹ بچا تھا اسکو بھی بیچدیا ۔ بیچ کر دین کا کام کیا ۔
آج لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور تو ہے کہ دین بیچ کر دنیا بنانے والے ہیں ۔ لیکن دنیا بیچ کر ، دین کا کام کرنے کا تصور نہیں ہے ۔ جائداد بیچ کر دین کا کام کرنا قربانی ہے۔
اس کام کے ذریعہ اللہ جڑوں میں پانی پہونچا رہا ہے، مدارس میں جو بچے پہونچ رہے ہیں ان کا بڑا حصہ اسی جماعت کے کام کا ثمرہ ہے۔ ہمیں گشت میں اس اعزاز سے نکلنا چاہئے کہ نبی نے اس کام کو کیا ہے۔ اگر میری وجہ سے کسی کو توبہ کی توفیق ملی تو وہ میرے لئے صدقہ جاریہ ہوگا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، مکہ میں مدت دراز محنت ۔۔ طائف کے واقعہ کہ اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبوت سے قبل مکہ والوں نے ان کو صادق، امین اور نہ جانے کن کن القاب سے نوازا، لیکن اس کے باوجود جب آپ طائف پہونچے تو ان کے ساتھ بڑی زیادتیاں کی گئیں، حالانکہ یہ عرب کی فطرت کے خلاف بات تھی کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام نہ کریں، بات دراصل یہ ہے کہ دل پر جب چوٹ لگتی ہے تو پھر کام کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے، مجھے سال لگاتے ہوئے اس کا احساس ہوا کہ آپ اپنے علم کے ساتھ اپنی جان و مال کے ساتھ لوگوں کے در پر دستک دیتے ہیں پھر بھی دھتکار دیئے جاتے ہیں۔
بہر حال ضرورت ہے کہ ہم عزم کریں کہ ہم بھی اپنی جان، مال اور وقت لگائیں گے ۔۔ اور با مقصد زندگی گزاریں گے، یعنی سب سے بڑا مقصد دعوت الی اللہ کو اپنائیں گے ۔ میں ہمیشہ یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں علم کی بلندیوں کے ساتھ اس کام میں موت تک لگائے رکھے ۔۔ تاکہ وراثت نبوت تام ہو، تزکیہ، دعوت بالقرآن، تعلیم وتعلم یہی مقاصد نبوت ہیں جنکا قرآن نے بار بار تذکرہ کیا ہے ۔ علم کے ساتھ جب تبلیغ کی محنت میں لگیں گے، مسجد کی تعلیم میں سادے لوگوں کے ساتھ بیٹھیں گے، گشت میں کلمہ نماز لے کر جائیں گے ۔۔ دعوت دیں گے تو فریضہ دعوت بھی ادا ہوگا، اور تزکیہ نفس بھی (واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي ، يريدون وجهه)
آپ بھی نیت کیجیے کہ ہم بھی کلمہ نماز، اور دین کو لے کر اپنی جان اپنا مال اپنا وقت لے کر ضرور اس محنت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے ۔ نیت تو کریں ، پھر دعا بھی کریں ۔۔۔ بغیر نیت کے سچی طلب نہیں ، اور بغیر توفیق الٰہی کے کچھ ہو نہیں ہوسکتا ۔۔ اسلیے دعا اور نیت دونوں ضروری ہیں ۔ آگے بڑھ کر نام پیش کریں ۔۔ دین کے کام کے لیے نام لکھانا بھی سنت ہے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں