مدارس اور اسکول دونوں کے نصاب ونظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت: مسعود عالم ندوی
| تعلیمی ورکشاپ کی جھلکیاں |
مدرسہ نور العلوم کاوا، ویشالی میں جلسۂ اصلاح معاشرہ اور تعلیمی ورکشاپ کا انعقاد
مدرسہ نور العلوم بہاءالدین پور، کاوا ضلع ویشالی میں ٩/ اکتوبر ٢٠٢١ کو اصلاحِ معاشرہ کے عنوان سے ایک اہم جلسہ منعقد ہوا، جس میں علاقے کے معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف لائے جناب مولانا مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دار البحث والاعلام- لکھنؤ) نے توحید ورسالت، کفر وشرک، اسلامی سیاست اور صنعت و حرفت کی اہمیت و ضرورت پر ترتیب سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ توحید کا عقیدہ دلوں سے بزدلی، کم ہمتی، ذلت و رسوائی اور ڈر کی نفسیات کو مٹاتا ہے اور شجاعت و بہادری، بلند حوصلگی اور استقامت کے جذبات پیدا کرتاہے، اس لئے نئی نسل کے ذہنوں میں ہر ممکن طریقہ سے اس عقیدے کو راسخ کیا جانا ضروری ہے۔
مولانا نے بہار میں پنچایت چناؤ کے پس منظر میں کہا کہ یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ سیاست اسلام سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ سیاست اسلام ہی کا ایک اہم حصہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسلامی سیاست کا عملی نمونہ پیش کیا، جس کی مثال رہتی دنیا تک دی جاتی رہے گی، اس لئے امیدواروں سے اپیل ہے کہ قومی خدمت کے جذبے سے میدان میں آئیں اور اقدار پر مبنی سیاست کا نمونہ پیش کرنے کی کوشش کریں۔
مہمان خصوصی نے مدارس اور اسکولوں کے نصاب اور نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا، اس کے طریقے بتائے اور کہا کہ جب تک یہ ادارے عصری اور دینی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے اور سماجی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے راہیں ہموار نہیں کریں گے تب تک امت کے ہر طبقے کی توجہ انھیں حاصل نہیں ہو پائے گی۔
مفتی محمد عالمگیر ندوی (کنوینر: امت فاؤنڈیشن سیمانچل، بہار) نے حلال و حرام کی شرعی حکمت و مصلحت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام نے انسانی فطرت اور ضرورت کا خیال کرتے ہوئے زیادہ تر چیزوں کو حلال کیا ہے، حلال کے مقابلے میں حرام کو بہت محدود رکھاہے اور جن اشیاء سے منع کیا ہے، ان کی ممانعت انسانوں کے مذاق ومزاج کے عین مطابق ہے، اسی میں انسانوں کا فائدہ ہے، ان حرام اشیاء کے استعمال سے ذہن گندہ، فکر تباہ کن اور جسم ضعف و نقاہت سے چور ہو جاتا ہے، شہوانی جذبات سے انسان مغلوب ہو جاتا ہے اور روئے زمین پر فتنۂ وفساد مچاتا پھرتا ہے، اس لیے ہر حال میں حلال چیزوں سے فائدہ اٹھانا اور حرام سے پرہیز کرنا ہی انسانوں کے مفاد میں ہے۔
مولانا محمد انوار عالم مظاہری (صدر مدرس: مدرسہ نور العلوم کاوا) نے بھی قرآن کریم کی اہمیت وفضیلت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے ہر زمانہ میں رسولوں اور نبیوں کو بھیجا، آسمانی کتابیں نازل کیں، تاہم قرآن کریم سے پہلے کی تمام آسمانی کتابیں ایک مخصوص زمانے کے لئے تھیں، البتہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو رہتی دنیا تک کے لیے گائیڈ لائن اور زندہ معجزہ ہے، اس لیے ہمیں قرآن کریم کی تلاوت، تدبر اور انھیں عملی زندگی میں لانے پر زور دینے کی ضرورت ہے۔
حافظ محمد احتشام الحق عرف نواب نے نظامت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اپنا زور دار استقبالیہ خطبہ پیش کیا، جس میں مہمان خصوصی جناب مولانا مسعود عالم ندوی مدظلہ کا تعارفی خاکہ بھی پیش کیا۔
جناب نظیر الحق عرف خالد صاحب (سکریٹری: مدرسہ نور العلوم کاوا، ویشالی) نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کووڈ بحران سے ابھرنے کے لئے مدرسہ کی تعمیر وترقی میں ہمہ جہت تعاون کی درخواست کی۔
اس موقع پر قاری عبد السبحان نعمانی صاحب، محامد حسین صاحب (امارت شرعیہ،پٹنہ) ظفیر الحق صاحب عرف انوٹھے، صفیی الحق صاحب عرف راشد، الحاج ماسٹر آل نبی صاحب، الحاج سابق مکھیا اسرار عالم صاحب، ماسٹر سلیم صاحب دیگھا، الحاج نیاز احمد صاحب تاجپور، حامد حسین صاحب (رتنپورہ، دربھنگہ) قاری نصیرالدین صاحب قاسمی(امام جامع مسجد،رسلپور، کاوا) حافظ منصور عالم صاحب کے علاوہ شرکاء کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر پر جلسہ کا اختتام ہوا۔
تحریر: انوار عالم مظاہری
10/10/2021
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں