نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مفت آنکھ جانچ کیمپ کا انعقاد

 الامداد ٹرسٹ مدرسہ تعلیم الدین نورپور کٹہریا بیگوسرائے کے زیر اہتمام مفت آنکھ جانچ کیمپ کا انعقاد



بتاریخ ۵ اکتوبر ۲۰۲۱ کو ماہر امراض چشم ڈاکٹر اجیت کمار نے چار رکنی ٹیم کے ساتھ مدرسہ تعلیم الدین نورپور کٹہریا بیگوسرائے کا دورہ کیا۔ یہ دورہ منعقدہ مفت آنکھ جانچ کیمپ کے لئے تھا۔ ادارہ کے ناظم جناب مولانا مفتی عبد الودود صاحب قاسمی نے یہ کیمپ منعقد کرایا۔ اس سے قبل بھی ادارہ نے مختلف مفت جانچ کیمپوں کا کامیاب انعقاد کرایا ہے۔


صبح ۸ بجے سے دوپہر ۱:۳۰ تک مفت جانچ کیمپ چلتا رہا، جس میں علاقہ کے لوگوں نے اپنی آنکھوں کا معائنہ کرایا، قرب و جوار کے مسلم و غیرمسلم سمیت تقریباً ۲۵۰ لوگوں کی آنکھوں کا جانچ اور دوا کے ساتھ مفت علاج کیا گیا۔


 ڈاکٹر صاحب نے مدرسہ کا معائنہ کرنے کے بعد طلبہ واساتذہ سے مل کر دلی مسرت کا اظہار کیا، اور مفتی صاحب کے تئیں اپنے نیک جذبات پیش کیے۔



طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ لوگ قوم کے رہنما بنیں گے اس لئے ہمہ تن گوش ہو کر پڑھنے ، اور خوب محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید طلبہ کو آنکھوں کی حفاظتی تدابیر بتانے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بھی اس طرح کے کیمپوں میں بخوشی حاضری کا یقین بھی دلایا۔ 


اس مفت جانچ کیمپ سے فائدہ اٹھانے والے تمام باشندگان، بطور خاص برادران وطن نے انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مدرسہ اور اس کے جملہ منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ اور ان کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے خوب دعائیں دی۔ 


ذمہداران نے اس طرح کے کیمپوں کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مذہب اسلام انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے، قرآن میں کہا گیا ہےکہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔ اس لئے مذہب اسلام کے ماننے والوں کو ہر سطح سے انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔ اس طرح کے کیمپوں کا انعقاد کرانا چاہئے جہاں بلا تفریق مذہب اللہ کے تمام بندوں کی خدمت کی جائے۔

 مزید یہ بات بھی سامنے آئی کہ خلق خدا کی خدمت کے لئے اس طرح کے مزید طبی، قانونی، و فلاحی کیمپ منعقد کئے جائیں گے۔


اس موقع پر الامداد ٹرسٹ کے صدر جناب حضرت مولانا صابر نظامی صاحب قاسمی، سکریڑی و مہتمم جناب حضرت مفتی عبد الودود صاحب قاسمی، رکن خاص جناب حضرت مولانا علی حسن صاحب مظاہری اور مدرسہ ہذا کے تمام اساتذہ وطلبہ موجود رہے۔


رپورٹ: مولانا سعود مظاہری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...