نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مدرسہ تعلیم الدین خانقاہ دارالتعلیم والتربیت نورپور کٹہریا، بیگوسرائے میں دعائیہ مجلس کا انعقاد

 

آج بتاریخ ۲۲ ستمبر ۲۰۲۱ بروز بدھ مدرسہ تعلیم الدین خانقاہ دارالتعلیم والتربیت نورپور کٹھریا میں جناب مولانا صابر نظامی صاحب قاسمی جنرل سیکرٹری جمعیت علماء بیگوسراۓ، جناب مولانا شکیل صاحب قاسمی شیخ الحدیث سورینام (امریکا)، جناب مولانا علی حسن صاحب قاسمی امام وخطیب کچہری مسجد بیگوسرائے، پر مشتمل سہ رکنی وفد کی آمد ہوئی، اس سہ رکنی وفد نے مدرسہ کا معائنہ کیا، درسگاہ، طلبہ اور اساتذہ سے مل کر خوشی کا ظہار کیا۔ 

سہ رکنی وفد کی آمد کے موقع پر ناظم مدرسہ جناب مولانا عبدالودود صاحب قاسمی کے حسب ایماء ایک مختصر دعائیہ مجلس کا انعقاد کیا گیا، مجلس کا آغاز مدرسہ ہذا کے طالب علم عزیزم ۔۔۔۔۔ نے تلاوت کلام اللہ سے کیا، جناب مفتی اشفاق و حافظ اخلاق صاحبان نے نعتِ نبی ﷺ سے محفل کی زینت کو دوبالا کیا، سامعین خوب محظوظ ہوئے۔

مہمان خصوصی جناب مفتی شکیل منصور قاسمی نےاپنے تاثرات و خیالات کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ دور حاضر میں عیسائیت اور شکیلیت کی آندھی چلی ہوئی ہے، ارتداد نے نئے شکلوں میں اپنے پاؤں پھیلا رہا ہے، ایسے وقت میں لوگ لاعلمی کی بنیاد پر ارتداد کا شکار ہو رہے ہیں، درست عقیدہ سے ہٹ کر گمراہیوں کی تاریکی میں بھٹک رہے ہیں، ہر علاقہ میں امت کو شدید ضرورت ہے ایسے علماء کی، ایسے رہنما کی جو ان کے ایمان وعقائد کی حفاظت کے ضامن ہوں، ایسے نازک وقت میں یہی مدارس و مکاتب اور ان میں زیر تعلیم نونہال طلبہ آپ کے رہنما بن کر آپ کے عقیدہ وایمان کے محافظ بنیں گے اور ارتداد کی اس آندھی کو روکیں گے۔

 مہمان خصوصی نے نششت مین موجود مقامی باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آپ اپنے مدارس و مکاتب کا بھر پور تعاون کریں، ہر اعتبار سے ان کے معاون بنیں، تن من دھن سے دین کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔

آخر میں مدرسہ ہٰذا کے مہتمم مفتی عبد الودود صاحب قاسمی کی درخواست پر مولانا علی حسن صاحب نے دعاء کرائی اور مجلس اپنے اختتام کو پہنچا۔


اس موقع پر مدرسہ کے تمام طلبہ واساتذہ سمیت مقامی باشندگان کی خاصی تعداد نے اس نششت کے فیوض و برکات سے فائدہ اٹھایا۔


خبر نگار: مولانا شاکر نظامی قاسمی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...