نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امت کے بڑوں کو استقامت ہی زیب دیتی ہے

امام احمد بن حنبل کی خدمت میں ایک نوجوان کی درخواست

فتنۂ خلق قرآن کا زمانہ تھا، عباسی حکمراں مامون تمام علما کو خلق قرآن کی رائے اختیار کرنے پر مجبور کررہا تھا، اس کے جبر کے آگے اکثر افراد یا تو خاموش تھے یا انھوں نے خلق قرآن کا ہی قول اختیار کرلینے کو عافیت جانا تھا، پورے بغداد میں امام احمد اور معدودے چند لوگ تھے جنھوں نے صبر و استقامت کی راہ اختیار کی ہوئی تھی، انھوں نے تہیا کیا تھا کہ وہ ہر ستم سہ لیں گے، لیکن حکمراں کے آگے نہیں جھکیں گے، اور راہ حق نہیں چھوڑیں گے، مامون ایک مہم پر بغداد سے دور طرسوس میں تھا، اس نے وہیں سے بغداد کے پولیس سربراہ کو لکھ بھیجا کہ جتنے لوگ بھی خلق قرآن کے قائل نہ ہوں اور اب بھی دوسری ہی رائے کا اظہار کریں، ان کو قید کرکے میرے پاس بھیج دو، پولیس سربراہ نے شہر بھر میں لوگوں کا امتحان لیا، سب نے سر تسلیم خم کردیا، بس امام احمد اور ایک نوجوان محمد بن نوح نے اب بھی حکمراں کے اس غلط و ظالمانہ مطالبہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا، نتیجہ یہ ہوا کہ  دونوں کو ایک ساتھ بیڑیوں میں جکڑ کر طرسوس کے لیے روانہ کردیا گیا، مامون کے رخ کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو اندیشہ  تھا کہ وہ ہر ناکردنی کر جائے گا، اُس کا نشۂ قوت و اقتدار اُس کے ہاتھوں اِس امامِ زمانہ کو قتل بھی کرا سکتا ہے۔



بغداد سے طرسوس کے اسی سفر میں محمد بن نوح نے امام احمد کی خدمت میں ایک عجیب درخواست کی، محمد بن نوح کا انتقال تو اسی سفر میں ہوگیا، لیکن امام احمد ان کی اس درخواست کو یوں بیان فرمایا کرتے تھے:

“محمد بن نوح اگر چہ کم عمر تھا، علم میں بھی کوئی شانِ امتیاز نہیں رکھتا تھا، لیکن میں نے اس سے زیادہ اللہ کے دین کا وفادار  نہیں دیکھا، ایک دن اس نے مجھ سے کہا: ابو عبد اللہ!..... آپ کو اللہ کا واسطہ..... آپ میرے جیسے عام شخص نہیں ہیں.........آپ اس وقت امت کے مقتدا اور پیشوا ہیں، تمام امت کی نگاہیں آپ پر لگی ہیں کہ آپ کیا موقف اختیار کرتے ہیں،....... اس لیے آپ تقوے اور استقامت کی راہ پر ہی جمے رہیے گا”۔

محمد بن نوح نامی اللہ کے اس نوجوان وفادار نے اپنے وقت کے امام عالی مقام کی خدمت میں جو کچھ عرض کیا تھا سچ یہ ہے کہ وہ ہر زمانہ اور علاقہ کے پیشوایانِ امت کے لیے راہ عمل طے کرتا ہے، انھیں احساس ہونا چاہیے کہ وہ ایک عام شخص نہیں ہیں، وہ امت کے مقتدا اور پیشوا ہیں، امت کی بڑی تعداد ہر موقف اور رائے میں ان کا اتباع کرتی ہے، اس لیے انھیں اپنا موقف کسی دباؤ میں نہیں اختیار کرنا چاہیے، کہ ان کا موقف صرف ان کا نہیں رہتا، امت کی ایک بڑی تعداد کا موقف بن جاتا ہے، ان کی ایک غلطی ملک میں دین کے مستقبل کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ صحیح راہ پر جم جانے اور غلط موقف کا اظہار نہ کرنے پر کچھ حالات کا سامنا کرنا پڑے، لیکن دین حق کی صحیح صورت میں بقا اسی میں ہے کہ امت کے پیشوا ان حالات پر اللہ سے اجر کی امید میں صبر کرلیں اور کسی دباؤ میں کسی غلط موقف کو اختیار نہ کریں۔ یہی محمد بن نوح کا مشورہ ہے، یہی امام احمد اور ان جیسے اسلاف کی دکھائی ہوئی راہ ہے, اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہی اللہ کا حکم ہے: وَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ (اور جیساکہ تم کو حکم دیا گیا ہے استقامت اختیار کرو,اور ان (کافروں) کی خواہشات کی پیروی نہ کرو).

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...