نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

افغانستان: معدنی ذخائر کا انمول خزانہ


مترجم: مرزا ریحان بیگ 


تحریر: عبد القادر عراضہ 

(الجزیرہ عربی) 

ترجمانی: مرزا ریحان بیگ

افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے عظیم الشان شاہراہ پر واقع، ساحل سمندر سے محروم، ہر چہار جانب سے بند ایک ایسا ملک ہے، جو اپنی بے مثال جائے وقوع اور اسٹریٹيجک اہمیت کی وجہ سے خطہ میں سب سے زیادہ ممتاز ہے، اس کے شمال میں جہاں تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان ہے، تو وہیں مغرب میں ایران اور جنوب مشرق میں پاکستان ہے، شمال مشرق سے چین اس کا طاقتور پڑوسی ہے۔

افغانستان کی جغرافیائی سرحد 5529 کلومیٹر طويل ہے، جس میں سب سے زیادہ طویل سرحد 2670 کلومیٹر لمبی ہے اور پاکستان سے ملتی ہے۔ اسلام آباد نےاس کٹیلی سرحد (barbed fence) کے نوے فیصد حصے کو عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے بند کر دیا ہے، جب کہ تاجکستان 1345 کلومیٹر اور ایران 945 کلو میٹر کے سرحدی خطے کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے، ترکمانستان 804 کلو میٹر اور ازبکستان تقريبا 144 کلو میٹر کے ساتھ چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہے۔

 افغانستان؛ ہندوپاک کے لیے اپنی سرزمين سے گزرنے والی گیس پائپ لائن کو اپنے مفادات کا ضامن سمجھتا ہے۔

افغانستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک چین ہے، افغانستان اور چین کے بیچ ایک پہاڑی سلسلہ ہے، جس کی مسافت 76 کلو میٹر ہے، چین کی عقابى نظریں "ون بیلٹ، ون روڈ" والے منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ساتھ دیگر تعمیری پراجکٹ پر ٹکی ہوئی ہیں۔

اتنے طاقتور پڑوس، طویل سرحدی علاقے اور نادر و نایاب وسائل کے باوجود افغانستان کی آدھی آبادی آخر خط افلاس سے نیچے کی زندگی گزارنے پر کیوں مجبور ہے، حالانکہ ملک بیش قیمت طبعی اور معدنیاتی وسائل سےاتنا مالامال ہے کہ اسے ایشیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں نمبر ایک پر ہونا چاہئے۔

امریکی جیولوجیکل سوسائٹی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 1-3 ٹریلین ڈالر تک کی نادر و نایاب معدنیات کا ذخیرہ موجود ہے، افغانستان کے ایک سرکاری سروے رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریبا ایک ارب 900 ملین بیرل خام تیل اور 440 ارب کیوبک میٹر قدرتی گیس کا اندازہ لگایا گیا ہے، دیگر قیمتی وسائل میں سونا، چاندی، لوہا، تانبا، کوئلہ اور لیتھیئم کی بھی وافر مقدار یہاں موجود ہے۔

امریکی ویب سائٹ "کوارس" کے مطابق افغانستان کے پاس ان سب کے علاوہ اور بھی بہت سے قیمتی ذخائر ہیں، جو مفلوک الحال عوام کی خوشحالی کا سبب بن سکتے ہیں. رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2040 تک ان بیش قیمت معدنیاتی ذخائر کی مانگ میں عالمی سطح پر چالیس گنا اضافہ ہو جائے گا۔

تانبا افغانستان کی ایک مستقل دولت ہے، جس کا اندازہ 20ملین ٹن تک کیا گیا ہے. یہاں یہ بتانا دلچسپ ہوگا کہ افغان حکومت نے تانبے کی کان چین کو30/ سال تک کےلیے لیز پر دی تھی۔

ایک طرف معدنیات کے یہ انمول خزانے ہیں تو دوسری طرف غربت کا یہ حال ہے کہ ملک عالمی بینک کے مطابق تقریبا ایک ارب ڈالر کے امدادی فنڈ سے چل رہا تھا، اتنے بڑے امدادی فنڈ کے باوجود بھی اب تک ملک کی قسمت بدل نہ سکی. طالبان کے زیر قیادت نئی عبوری حکومت کی تشکیل ہوگئی ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

تجزیہ نگاروں کو توقع ہے کہ بین الاقوامی برادری عوام کے وسیع تر مفاد میں اس نئی حکومت کا استقبال کرے گی اور نئی حکومت بھی ایک صدی سے بیرونی ظلم و جبر، مسلط کردہ غربت و ناخواندگی اور خانہ جنگی کی شکار افغان عوام کی مسیحائی کے لئے، شریعت اسلامی کے مستحکم اور لچکدار اصولوں سے استفادہ کرتے ہوئے، ایک مثالی قیادت فراہم کرے گی۔


تبصرے

  1. ماشاء اللہ💞💞💞
    بہترین اور عمدہ ترجمہ نگاری ہے
    اللہ مزید ترقی عطا کرے

    جواب دیںحذف کریں
  2. ماشاءاللہ بہت خوب ترجمانی ہے، اللہ کرے زور قلم حسنِ رقم اور زیادہ۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. ماشاء الله بارك الله فيكم اللهم زد فزد

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...