![]() |
| پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے مساہم : راشد احسن |
خطابت کے ساتھ جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال نا گزیر: کلام رضا فیضی
" موجودہ دور میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کے لئے جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال نہایت ضروری ہے، اس زمانہ کا بڑا المیہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں کتابوں کے مطالعہ کا رجحان بہت تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ دینی اور دنیاوی ہر طرح کی معلومات کے لیے لوگ جدید ذرائع اور ٹکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں۔ قلم و کتاب اور تصنیف و تالیف کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن عصر حاضر کی صورت حال یہ ہے کہ شائع شدہ کتابوں اور مجلات کی بہت کم کاپیاں فروخت ہو رہی ہیں، جبکہ جدید ذرائع کے سہارے تیار کی گئی چند منٹ کی ویڈیوز دسیوں لاکھ ویوز حاصل کر رہی ہیں۔ اس لئے اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ عصر جدید کا چیلینج اور وقت کی ضرورت یہ ہے کہ دین اسلام سے متعلق معلومات،فضائل و مسائل اور اسلام سے متعلق اشکالات اور ان کے ازالے کو وافر مقدار میں ان جدید پلیٹ فارمز پر مہیا کیا جائے، الگ الگ بلاگ،مختلف سائٹس اور چینل کو اسلام اور اس متعلق معلومات سے بھر دیا جائے تاکہ تمام تشنہ لبوں تک سیراب کرنے والا جام یعنی اللہ کا کلام اور محمد کا پیغام بآسانی پہونچ سکے۔ مذکورہ باتیں کنوینر مسابقہ مولانا کلام رضا فیضی نے کہیں۔
![]() |
| دوسری پوزیشن اسعد اللہ غالب نے حاصل کی |
حکمِ اول کے فرائض انجام دے رہے مولانا مظہر الحق قاسمی ( مہتمم جامعہ ماریہ للبنات) نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دعوت کے مختلف ذرائع ہیں ان میں اہم ترین ذریعہ خطابت ہے، اس کے ذریعہ انسان اپنے مافی الضمیر کی ادائگی پر قادر ہوتا ہے، اگر اس کا استعمال مثبت کاموں میں کیا جائے، بطور خاص دعوت وتبلیغ کے لئے تو یہ دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ابتدائی مرحلہ میں اسٹیج کے خوف کو کم کرنے اور خود اعتمادی کے ساتھ اپنی بات رکھنے کے لئے تقریروں کا زبانی یاد کرنا بہت مفید ہے، اپنے زمانہ طالبعلمی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حفظ کے دوران چالیس سے زائد تقریریں ازبر یاد کر لیں تھیں، اور انھیں انجمن میں سنایا کرتا تھا۔
اس موقع پر حکم ثانی مولانا شاکر نظامی قاسمی نے بھی سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کے اس طرح کے مسابقے جن سے قوم کے بچوں کا مستقبل سنورے نہایت ضروری ہیں، ان کا سلسلہ مستقل رہنا چاہیے۔ انھوں نے تاثرات کے دوران مساہمین کی حوصلہ افزائی کی، اور کہا آپ کی تقریریں آپ کی عمر کے لحاظ سے غیر معمولی تھیں، اگر آپ اسی طرح محنت کرتے رہے تو انشاء اللہ آپ کا مستقبل تابناک ہوگا۔
![]() |
| محمد حسن نے تیسری پوزیشن حاصل کی |
اس مسابقہ میں راشد احسن، اسعد اللہ اور محمد حسن نے بالترتیب پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی، تمام مساہمین نے تشجیعی انعامات حاصل کئے، محمد حسین، حامد احسن، عبید اللہ، امداد اللہ اور مریم عفیفہ نے خصوصی تشجیعی انعامات حاصل کئے۔
واضح رہے کہ حکم ثالث قاری عابد رضا عرفانی کی تلاوت سے بزم کا آغاز ہوا، اس موقع پر آصف جمالی، ذکی احسن اور عطاء الرحمن کے علاوہ سامعین کی خاصی تعداد نے اس دلچسپ اور مفید مظاہرہ سے فائدہ اٹھایا۔
(مساہمین کی وڈیوز جلد ہی چینل پر اپلوڈ کی جائیں گی۔)



الحمدلله الذى هدانا لهذا وما كنا لنهتدى لولاان هدانا الله
جواب دیںحذف کریںماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریں!! بہت عمدہ
میری طرف سے تمام مساہمین کو عموماً، انعام یافتہ مساہمینک خصوصاً مبارک باد💐💐💐