نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ندوۃ العلماء کے نصاب کے ساتھ ہائی اسکول کرنے والے ایک طالب علم کی خود نوشت

 

فیضان الرحمن ندوی: فائل فوٹو


بسم الله الرحمن الرحيم

 ہائی اسکول کا رزلٹ 2020  آگیا!




یک تعلیمی تجربہ:فیضان الرحمن )


✒آج بتاریخ: 27/06/2020 مطابق( 5/شوال/ 1441 )High school  کے Result  کا دن تھا، جس کا بے صبری سے انتظار تھا، خود دعا کر رہا تھا، دوست و احباب سے بھی کہہ رکھا تھا کہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں.


تقریبا 12:30بجےDeputy    chief minister of Utter pradesh Mr. Dinesh sharma نے 10th اور 12th کے Results  کو Public کردیا. 


ہم سمجھ رہے تھے کہ ہم Result  کے انتظار میں ہیں،Result سامنے آیا تو پتہ چلا کامیابی ہماری منتظر تھی، اللہ تعالی کا شکر ادا کیا، الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات. 


خوشی تو بے انتہا ہورہی تھی، میں کیا ظاہر کرتا، سامنے بڑے بھائی صاحب اور دیگر افراد خانہ پر نظر پڑی، دیکھا  کہ وہ تو ہم سے کہیں زیادہ شاداں و فرحاں ہیں.


دوست و احباب سے بات ہوئی، سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی،  ہمارے batch کے سبھی رفقاء: مرغوب الرحمن، محمد عثمان صدیقی، فوز الرحمن،  سراج اختر  اور حسان شاہد کو اللہ تعالی نے کامیابی سے سرفراز فرمایا. 

اللہ تعالی آگے کی راہوں کو بھی آسان فرمائے. آمین!!


والدین ماجدین (رب ارحمهما كما ربياني صغيرا!) نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور تمام محسنین -جن کے بغیر یہ اہم علمی مرحلہ طے نہیں ہوسکتاتھا- کے تئیں قدردانی و تشکر کا اظہار کیا، اقرباء میں  مٹھائی تقسیم کی گئی، سب بہت خوش ہوئے، مبارک باد دی اور رب کریم کا شکر ادا کیا.ہمارے ماموں جناب  عرفان ماجد صاحب نے اقرباء میں 10th اور 12th میں کامیاب ہونے والوں کے اعزاز میں Party رکھی جو بہت شاندار تھی۔سب نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔


 یہ کامیابی اصل میں یہ بھی ظاہر کر رہی تھی کہ اگر Student تھوڑا Effort  کرے، وقت کو منظم کرے، مستقل کسی کی رہنمائی میں کام کرے، تو اپنے مقصود کو بہر حال پا سکتا ہے، اگر کامیابی نہ ملے  تو رونے دھونے کے بجائے غور کرے، آگے بڑھے، اپنے Effort کو جاری رکھے، یقینی ہے کہ توقع سے بھی بڑھ کر اللہ تعالی اسے نوازے گا. 


ہماری کامیابی میں ہمارے مشفق و مربی استاذ محترم کا کردار:

✒اس موقع پر میں اپنے شفیق مربی، استاذ محترم جناب مولانا مسعود عالم صاحب ندوی مدظلہ العالی کا بے حد شکرگزار ہوں،  جنھوں نے ہر موقع پر میری رہنمائی کی، میرے لیے علم و ادب اور فکر و فن کی راہیں روشن کیں، جنھوں نے میرے ہاتھ میں قلم دیا، قلم میں روانی پیدا کی، جنھوں نے میری شام کو ہشیار اور صبح کو بیدار کیا.

میری علمی، فکری اور عملی سرگرمیوں میں مولانا کا ہی  سب سے بڑا رول ہے، مولانا کی اکیڈمک پلاننگ بہت شاندار ہوتی ہے، دھیرے دھیرے سوچنے سمجھنے، لکھنے پڑھنے اور کچھ بہت اچھا کرنے کا بہترین ذوق پیدا کردیتے ہیں، مولانا ہی تھے جنھوں نے ہمیں کافی Pressurise کیا کہ ہم ندوه کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ high school کے Exam کو بھی  Clear کریں۔ 


یہ کس طرح ممکن ہوگا؟ دو دو کورس کو ہم ایک ساتھ کس طرح Cover کرپائیں گے؟ Admission کہاں کروانا ہے؟ 

ان سب کی ذمہ داری مولانا نے خود ہی لے لی اور ایک بار پھر بہترین مربی اور تعلیمی منتظم ثابت ہوئے. 


ہمارے شفیق استاذ ہمیں Nice Acadmy کے Manager جناب عبد المعید صاحب کے پاس لے گئے، جہاں  ہم نے Admission کی کارروائی مکمل کی، پہلے 9th کیا، کیوں کہ بغیر اس کے 10th کا Exam دے پانا ممکن نہ تھا۔ دو سال کا وقت لگا اور اب Result ہمارے سامنے ہے۔


میں اپنے والدین اور جملہ افراد خانہ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ انھوں  نے ہمیں Phisically  Mentally, اور Financially   ہر اعتبار سے support  کیا، ہمارے لیے ستون بنے رہے، کیوں کہ اہل خانہ کے تعاون کے بغیر کوئی بھی Project  دشوار تر اور بسا اوقات ناممکن ہوجاتا ہے.

والدین تو آخر والدین ہوتے ہیں.

(رب ارحمهما كما ربياني صغيرا.)


عالیہ ثالثہ کے ساتھ دسویں کی تیاری اور دونوں میں کامیابی:

✒مدرسہ میں دینی علوم: قرآن و حدیث، صرف و نحو، لغت و ادب، بلاغت و اعجاز قرآن،  تفسیر و علم کلام، تاریخ و افکار کے ساتھ؛ English  ہے، Geography ہے، قدرے Hindi بھی پڑھائی جاتی ہے. Mathematics اور Science  کا معاملہ عموما بہت کمزور یا صفر ہوتاہے، اس لیے Mathematics   اور Science  پر زیادہ Focus کرنا تھا.

شروع میں تو ہم نے High school سے متعلق کچھ نہیں پڑھا، غفلت رہی، کوئی مستحکم نظام نہیں بن پایا، البتہ اخیر کے 8 سے 10 مہینے ہم نے  Anurag sir اور ان کے چھوٹے بھائیAkaash sir سے ان کے Coaching center ( Linear classes) جا کر پہلے تو صرف Math کے Chapters پڑھے، پھر اخیر کے 3 سے 4 مہینوں میں High school کے باقی Subjects کو پڑھا اور بہت محنت سے پڑھا. 

دو سے ڈھائی مہینوں  کا معمول یہ بھی رہا کہ مادر علمی دار العلوم ندوۃ العلماء سے پڑھ کر آتے، کھانا کھاتے، پھر Coaching کے لئے روانہ ہوجاتے، وہاں سے واپس آتے تو  ندوہ میں جو پڑھایا گیا، اس کا اعادہ کرتے، کل کیا پڑھا جائے گا، اس کا بھی مطالعہ کرتے، پھر مقررہ اوقات میں ہائی اسکول کا Homework  بھی کرتے.


تیاری کے اس دورانیے میں ترجیح کے اصول سے کام لیتے رہے، درجہ کی چند اہم ترین کتابوں کو خاص کر لیا کہ ان کا مطالعہ ضرور کروں گا، بقیہ کو Manage کروں گا، درجہ ضرور جاؤں گا. چوں کہ بورڈ کا سال ہے، اس لیے فوکس دسویں پر رہے گا ان شاء اللہ. 


اس طرح کافی سخت اور مشقت طلب Schedule بن گیا تھا، لیکن الحمد للہ بہت فائدہ ہوا، نتیجہ اپنے حق میں آیا، محنت و مشقت کی پچھلی ساری یادیں اب بہت خوشگوار اور تاریخی بن گئی ہیں ۔ 

والحمد للہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ.


ہمارے بڑے بھائی صاحب  فیض الرحمن شبلی(Software Developer ) کچھ دنوں کے لئے چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے، ہمیں  خوب توجہ دی، گھر پر پڑھایا، اخیر اخیر میں بہت زیادہ محنت کرنی پڑی،  بڑے بھائی نے ہم پر اپنی نگرانی انتہائی سخت کر دی، Exam سے چند دن پہلے کی بات ہے، مستقل 5 گھنٹے پڑھنے کے بعد میں نے  اپنا بدن بستر پر کیا رکھا، بھائی کی آنکھیں سرخ اور آوازیں بلند ہوگئیں: 

یہ کیا طریقہ ہے؟ تم دوپہر میں آرام  کیسے کر سکتے ہو۔۔۔۔؟ میں نے بغیر غصہ ہوئے اپنا کام بتایا، سمجھایا، تب جاکے Normal ہوئے، اور مجھے کمر سیدھی کرنے کا موقع ملا، عین Exam کے ایام میں بھائی کو لکھنؤ سے باہر جانا پڑا، الحمدللہ  اچھی طرح تیاری کرادی ۔


اتنی محنت کی ضرورت نہیں پڑتی، اگر بات صرف ایک ہی Goal کو Achieve کرنے کی ہوتی، پر یہاں تو ہمیں دو دو Goals  کو پورے اعزاز کے ساتھ حاصل کرنا تھا، اس کےلیے ڈبل محنت تو بنتی ہی ہے. Exam کے ایام شروع ہوئے، روزانہ بوقت سحر لکھنؤ سے تقریبا 60 km دور Examination centre  جانا ہوتا، اس تعلیمی سفر کے جلوے ہی الگ تھے:  ٹھنڈ کا موسم، صبح کی صحت بخش ہوا، دھند و کہرے سے بھری فضا، سائیں سائیں کرتی گذرتی ہوئی صبا رفتار گاڑیاں، تیاری کی دھن اور صحبت یاراں باصفا، راستے میں نماز فجر کے بعد گرم چائے کی چسکیاں اور فیاض بھائی کی برق رفتار Van ... الحمد بہت مزہ آیا، ہر روز کی روداد ہم قلمبند کرتے رہے، جو میری یومیہ ڈائری میں تفصیل سے نوٹ ہے۔


اب چند باتیں اور:


▪️ مدرسہ میں پڑھنے والے طلبہ، وقت کی تنظیم اور تھوڑی سی Planning  کے ساتھ 10th+12th وغیرہ کی مستند ڈگریاں حاصل کرسکتے ہیں.


▪️ یوں تو 10th کی تعلیم اور Degree کی تحصیل مدرسہ کے کسی بھی درجہ میں پڑھتے ہوئے ہوسکتی ہے، لیکن ثانویہ خامسہ یا ثانویہ سادسہ تک یہ مرحلہ طے ہوجانا چاہیے.


▪️ اصلا تو یہ انتظام ہر مدرسہ میں ہونا چاہیے، بہت سہل ہے اور لازمی بھی،  بعض مدرسوں نے اس اقدام کا فیصلہ کیا اور وہ بہت کامیاب ہیں.


▪️ مدارس اگر کسی وجہ سے اقدام نہ کرسکیں تو اساتذہ وسرپرست اور طلبہ و طالبات اپنے طور پر اس کا انتظام کرلیں، کیوں کہ عصر حاضر میں معیاری تعلیم کے ساتھ مستند ڈگری (شھادات) کی اہمیت و ضرورت کسی سے مخفی نہیں ہے.


▪️ یہ انتہائی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ ایک ادارہ اپنے فرزندوں کو معیاری تعلیم دے، تہذیب عطاکرے، لیکن زمانہ سے ہم آہنگ اور قابل قبول ڈگری (شہادہ) نہ دے اور نہ لینے دے!!

لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا!



فیضان الرحمن 

محب اللہ پور، مڑیاؤں 

(لکھنؤ)


27/06/2020

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...