نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ایک مشفق استاذ اور مربی کا خط اپنے شاگرد کے نام از قلم: مسعود عالم ندوی

 

اللقاء الثقافی" کی سالانہ نشست: فائل فوٹو"


ایک مشفق استاذ اور مربی کا خط اپنے شاگرد کے نام


بسم اللہ الرحمن الرحیم
عزیز از جان و دل ضیاء الرحمن کریمی ندوی سلمہ اللہ وأکرمہ! 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
امید ہے کہ تم بخیر و عافیت اپنی تعلیمی مہم میں ہمہ تن مصروف ہوگے اور تمہارے امتحانات بھی اچھے جارہے ہوں گے.
اللہ تعالی تمھیں ہمیشہ سرخ رو رکھے!! 
نومبر 2020 کا دوسرا عشرہ اس اعتبار سے میرے لیے بہت اہم ہے کہ کووڈ-19 کے انتہائی تلخ تقریبا آٹھ مہینے کی طویل جدائی کے بعد تم سے ملاقات کی خوشی حاصل ہوئی، بلکہ تم سے ملنے کی ایک آرزو تھی جو پوری ہوئی.
الحمد لله الذي تتم بنعمته الصالحات. 
عزیز از جان و دل! 
تم سے مل کر، تمہارے ساتھ ایک یادگار شب، ایک امید افزا صبح اور کچھ تاریخی لمحات بتاکر سچ مچ میرا دل باغ باغ ہوگیا، واقعتا میری آنکھیں روشن ہوگئیں اور ماضی کی حسین یادوں کے بے شمار نقوش ذہن و دماغ پہ پھر سے ابھر آئے....!!
تمہاری محبت تمہاری وفاداری، تمہاری سرگرمی تمہارا جوش، تمہاری مزاج شناسی تمہارا نظم و نسق، تمہارا امتیاز تمہارا تفوق، تمہاری خاموشی تمہارا تکلم، تمہاری برجستگی تمہارا زور قلم، تمہاری غفلت تمہاری فعالیت، سفر و حضر میں تمہاری معیت اور ہر جگہ تمہارا خلوص، تمہاری  فنائیت اور تمہاری اصابت رائے... تمہارے لیے میرا تھکنا مرنا اور لڑنا اور تم کو لے کر کبھی شام اور اکثر صبح سویرے فجر بعد بلالی مسجد سے سیدھے چائے خانہ کی طرف نکل جانا، صبح از خود ندوہ آ آ کر جگانا، میری ایک کال پر ٹفن لے کر تمہارا فورا آجانا، اللواء کےلیے دوڑنا بھاگنا، تاکہ اس کا وقار و اعتبار قائم رہے... بے خوفی و جانبازی کے ہنر سے بہرہ ور کرنے کےلیے مختلف جرأت آزما فیصلوں اور اقدامات پر آمادہ کرنا اور اس پر میرا مصر رہنا... اللہ اللہ... کوئی ایک دو دن، ایک دو ہفته یا ایک دو برس کی بات ہو تو چلو لکھ دو...  یہاں تو یادوں کا نہ تھمنے والا ایک سیل رواں ہے... عربی اردو زبان و ادب، تاریخ و افکار، صحافت و سیاست، جمعہ کی نشستیں، سخت ترین مخالفت کے ایام میں تمہاری استقامت کے شاندار جلوے اور نہ جانے کیا کیا ہیں نہا خانۂ دل میں... تم آئے تو یکایک یہ سارے جلوے سامنے آگئے... اوففو ... لکھنؤ میں تنگی کے سخت ایام اور پھر نظر کے سامنے مصر کے ازہر و اہرام... اس سے قبل شکوہ ترکمانی کی دید و بازدید اور اس کے بعد حرمین شریفین کا روحانی و نورانی جلال و جمال...  اللہ اللہ یہ ساری کارگذارایاں تمہارے سامنے کی ہی تو ہیں... بلکہ سب میں تمہارا حصہ اور تمہاری شرکت ہے پیارے ضیاء الرحمن!! 
اللہ تعالی تم کو خوب خوب نوازے اور اپنی شان کے مطابق بدلہ دے!!
تم آئے تو جیسے لگا کہ میری جان میں جان آگئی... میری امیدوں کا چراغ روشن ہوگیا...
اسی لئے میں نے بھی دل کھول کر باتیں کیں، شرما ٹی اسٹال کی صبح والی ملاقات اہم تھی جس میں ہم نے مندرجہ ذیل باتیں عرض کی تھی:
1- اپنی دلچسپی اور اختصاص کے موضوع پر مستقل مطالعہ اور منصوبہ بند کام کئی برس کےلیے. 
2- کچھ ممکنہ عملی اقدامات بھی پابندی کے ساتھ.
3-ا پنے احباب سے پیہم رابطہ کی صورت پیدا کرنا ماہانہ یا پندرہ روزہ یا دوماہی حسب سہولت.
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
4- مختلف چھٹیوں میں کچھ وقت ساتھ گذارنے کی ترتیب بنانا وغیرہ.
5- گلوبل اکیڈمک فورم دہلی کا تذکرۂ و تعارف. 
اس موقع پر برادران عزیز حمزہ حسینی اور حسان شاہد کی شرکت اور فعالیت نے بہت مسرور کیا، یہ دونوں بھی وہبی صلاحیتوں کے حامل قابل قدر ابھرتے ہوئے نوجوان ہیں، اللہ تعالی ان کو توفیق سے نوازے اور قبول فرمائے! 
ہاں عزیز من! 
نام تو بہت دنوں سے سنتے آئے تھے، غائبانہ ذکر جمیل نے دید و شنید کا مشتاق بنادیاتھا، آج جب ملاقات ہوئی تو مسرت کی انتہا نہ رہی: ہشاش بشاش چہرہ، کشادہ دل و فراخ چشم، حقیقت پسند، ملنسار و خوش اخلاق، تواضع کا پیکر، شوق علم سے معمور، خدمت دین و ادب کے جذبہ سے بھرپور، آپ کی فیمیلی سے ہم آہنگ،آپ کی ہمشیرہ سے رشتہ کے لئے بالکل موزون و مناسب .... ان شاء اللہ بہت خوب رہیں گے برادر عزیز محمد شاکر نظامی قاسمی سلمہ اللہ وأکرمہ!!
گاؤں میں تم لوگوں کی تعلیمی، سماجی اور تنظیمی سرگرمی بھی خوب ہے بلکہ قابل تقلید  ہے ماشاء اللہ وبارک اللہ!!
آکر اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور فائدہ اٹھائیں گے ان شاء اللہ. 

عزیز از جان و دل ضیاء الرحمن!
مجھے امید ہے کہ یہ تذکیری ملاقات اور منصوبہ بندی کی تجدید ہم سب کےلئے مفید ثابت ہوگی، طویل المیعاد معاہدہ اور باہمی تعاون سے ہم سب مضبوط ہوں گے ان شاء اللہ.
تم اپنا پسندیدہ موضوع اور لکھنؤ کا سفر نامہ ضرور لکھ کر بھیجو اور امتحان سے فارغ ہوکر جلد زوم پر اپنے احباب کے ساتھ ایک نشست منعقد کرو، ان شاء اللہ خیر ہوگا.
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ. 
ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے تمہارا شکریہ اور قدردانی کے بے پناہ جذبات. 
والدین ماجدین، جملہ اہل خانہ اور برادرم شاکر نظامی قاسمی سلمہ کی خدمت میں سلام اور دعاء کی درخواست پیش کرنا، تم بھی اپنی خاص دعاؤں میں یاد رکھنا. 
أللهم وفقنا لما تحب وترضى يا أرحم الراحمين وأكرم الأكرمين!! 
قدر شناس استاذ اور شفیق مربی.... 
مسعود عالم ندوی. 
لکھنؤ میں واقع اپنے ٹھکانہ سے
18/11/2020
12:00 AM

تبصرے

  1. MashaAllah.
    حفظكم الله ورعاكم وأدام الله هذه المحبة والمودةبيننا آمين

    جواب دیںحذف کریں
  2. خط دیکھ کر ایسا لگا کہ شبلی نے سلیماں کو مخاطب کیا ہے
    اللہ کرے دونوں استاذ وشاگرد شبلی وسلیماں ہی ثابت ہوں
    ابھی یہ الفاظ کا جامہ دونوں کے قد سے کچھ بڑا لگ رہا ہے

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...