نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

 



 آپ كيا كريں؟
مدارس كے فارغين سے خطاب


از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

آكسفورڈ


 

 مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔

 اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟


آپ كيا نه كريں؟

 اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں:

1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔

2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ كو مضحكه خيز امور ميں لگا دے گى، پهر آپ شيطان اور نفس كا آلۂ كار بن جائيں گے، اور اپنے لئے اور ملت كے لئے كوئى مفيد كام نہيں كرسكيں گے ۔

3- الله تعالى كو متاثر كرنے كى كوشش نه كريں، انسان بلكه فرشتے بهى خدا كو متاثر نہيں كرسكتے، اس لئے كسى عبادت ميں مبالغه اور غلو نه كريں، اور اعتدال كے ساته خدا كى اطاعت كريں ۔

4- دوسرے انسانوں كو متاثر كرنے كى كوشش نه كريں، جب كوئى كام متاثر كرنے كے لئے كيا جاتا ہے تو وه كهوكهلا ہوتا ہے، اس ميں نظر آنے والى باتوں كى اہميت زياده ہوتى ہے، اور ٹهوس بنيادوں كى طرف توجه واجبى ہوتى ہے، قصدًا كوئى مثال نہيں دى جا رہى ہے، آپ تهوڑا غور كريں گے تو بہت سى مثاليں آپ كے ذہن مين آجائيں گى ۔


آپ كيا كريں؟

 آپ چار كاموں ميں سے كسى ايك يا ايك سے زائد كا انتخاب كريں، ان سے پہلے يه ضرورى ہے كه آپ حلال آمدنى كا انتظام كريں، جو كم از كم اس قدر ہو كه آپ اور آپ كے اہل وعيال كى ضروريات كے لئے كافى ہو، يه حلال آمدنى مقصود كى ادائيگى سے حاصل ہو سكتى ہے، اور اگر ايسا نه ہو تو آپ تجارت يا كوئى ملازمت كركے مال كمائيں، اس راسته ميں اگر وقت كا قيمتى حصه صرف ہو تب بهى پروا نه كريں، كيونكه بغير حلال آمدنى كے آپ كچه نه كر سكيں گے، اور زندگى كے مسائل آپ كو حرام ميں مبتلا كرديں گے، يا دوسروں كا دست نگر بنا ديں گے، يا پهر آپ دين كو دنيا كے حصول كا ذريعه بناليں گے ۔

 درج ذيل چار كاموں ميں سے كسى ايك كا انتخاب كريں، انتخاب ميں اپنى صلاحيت اور حالات وماحول كے تقاضوں كو ذہن ميں ركهيں:


1- دعوت وتبليغ، يعنى غير مسلموں تك اسلام كے پيغام كو پہنچانا، يه پيغمبروں كا بنيادى كام ہے، اس كے لئے آپ كو پيغمبروں كے اعمال واخلاق اپنانے ہوں گے، قرآن كريم اور سيرت كا گہرائى سے مطالعه كريں، اس موضوع پر عصر حاضر ميں سب سے اچهى كتاب مولانا امين احسن اصلاحى كى "دعوت دين اور اس كا طريقۂ كار" ہے، اسے غور سے پڑهيں، جب آپ دعوت كے اصول اچهى طرح سمجه جائيں اور خود آپ كى زندگى ايمان اور عمل صالح پر قائم ہوجائے تو آپ غير مسلموں سے مليں، قرآن كريم كے مختلف حصوں كا مطلب انہيں سمجهائيں، انہيں خدا اور آخرت پر ايمان كى دعوت ديں، پيغمبروں كى تاريخ بيان كريں، ان كے سامنے جنت وجہنم كى تفصيلات واضح كريں، ، ان كے شكوك وشبہات كو سمجهيں اور علمى بنيادوں پر نرمى كے ساته انہيں مطمئن كرنے كى كوشش كريں ۔

2- اصلاح وارشاد، يعنى مسلمانوں كى دينى واخلاقى تربيت، ان كى صحيح عملى رہنمائى، ان كے اندر معروف كو قائم كرنا، اور ان كى انفرادى اور اجتماعى زندگيوں كو منكرات سے پاك كرنا، اس كے لئے بهى قرآن اور سيرت كا گہرائى سے مطالعه كريں، اس موضوع پر دو كتابيں بہت مؤثر اور نافع ہيں، ايك حسن البنا شہيد كى "مذكرات الدعوة والداعية"، دوسرى مولانا ابو الحسن على ندوى كى "مولانا محمد الياس اور ان كى دينى دعوت"، جب آپ اصلاح كے اصول اچهى طرح سمجه جائيں تو عملى ميدان ميں قدم ركهيں، قرآن كے دروس كا سلسله جارى كريں، صحيح وحسن احاديث كے مجموعوں مثلا رياض الصالحين وغيره كى تعليم ديں، لوگوں كو پيغمبرون، صحابۂ كرام، اور صالحين كى پاكيزه زندگيوں سے روشناس كرائيں، اس كا جائزه ليں كه مسلمانوں كے دينى واخلاقى زوال كى وجوہات كيا ہيں، وه كون سے فكرى ونظريات امور ہيں جو انہيں اپنے دين اور اپنى ثقافت كے خلاف بغاوت يا روگردانى پر آماده كر رہے ہيں، اس وقت جديد تعليميافته طبقه ميں دہريت اور الحاد كے جو اثرات ہيں اگر ان كے تدارك ميں يہى غفلت رہى تو وه دن دور نهين جب ہمارے معاشره كا غالب حصه مسموم اور فساد زده ہوگا ۔


3- فلاحى كام، يعنى انسانوں كى دنياوى ضرورتوں كو پورا كرنے ميں ان كى مدد كرنا، اس ميں يتيموں، بيواؤں، ضعيفون اور غريبوں كى بهلائى كے كام شامل ہيں، يه فلاحى كام آپ مسلمانوں كے درميان كريں اور غير مسلموں كے درميان بهى، اخلاص اور امانتدارى سے فلاحى كام كرنے والوں كى زندگيوں كا مطالعه كريں، اور ان كے نقش قدم پر چليں، فلاحى كام كو تجارت كى طرح نه كريں، اور نه اسے كسى منفعت كے حصول كا ذريعه بنائيں ۔

4- اكيڈمك زندگى، يعنى تدريس اور تصنيف، اگر آپ كو اكيڈمك زندگى اختيار كرنى ہے، تو يه سوچيں كه آپ كو كس موضوع سے مناسبت ہے، يه موضوع قرآن كريم، تفسير، علوم قرآن، حديث وسيرت، فقه وفتوى، تاريخ، فلسفه، زبان وادب كے كسى پہلو سے متعلق ہو سكتا ہے، آپ اس موضوع ميں مہارت پيدا كريں، اس ميں اعلى تعليم حاصل كريں، اس موضوع كے ماہرين سے ربط كريں، اور بنيادى اور معيارى كتابوں كا مطالعه كريں ۔

جب آپ تدريس سے وابسته ہوں تو اپنے مضامين كا وسعت اور گہرائى سے مطالعه كريں، آسان زبان اور اسلوب ميں اپنے طلبه ميں معلومات منتقل كريں، ان كے اندر غور وفكر كى صلاحيت پروان چڑهائيں، اور ان كے اندر تحليل وتجزيه كا ملكه پيدا كريں، تدريس ميں خطيبانه انداز نه اپنائيں، يعنى طلبه كو متاثر نه كريں بلكه ان كو فائده پہنچائيں، ياد ركهيں كه كم درجه كى تدريس سخت مضر ہے، كيونكه ہميں جو نسل تيار كرنى ہے اس كا مقابله دنيا كى ترقى يافته قوموں سے ہے، ہمارا معيار تدريس اگر ان سے بہتر نه ہو تو كم از كم ان كے برابر ہو ۔

 اور جب آپ تصنيف ميں مشغول ہوں تو بحث وتحقيق كو اپنا معمول بنائيں، تقليد سے دور ہوں، سچائى كو دريافت كرنے كى انتهك كوشش كريں، اور پهر اس سچائى كو بغير كسى خوف وخطر كے پيش كريں، ان موضوعات پر تحقيق كريں جومسلمانوں كى قومى اور ملى ترقى كے لئے ضرورى ہيں، بوسيده كلامى مباحث اور اورپامال فلسفيانه موشگافيوں ميں وقت نه برباد كرين، آپ تصنيف ميں سطحيت سے پرہيز كريں، اور صحافت كا انداز ہرگز نه اپنائيں، صحافى كا مقصود سچائى تك پہنچنا نہيں ہوتا بلكه اپنے مخاطب كو متاثر كرنا ہوتا ہے، اور اس كے لئے تدليس وكذب كو بهى روا ركها جاتا ہے، اس وقت تعليم كى طرح تصنيف كے ميدانوں ميں بهى دوسرى قوميں ہم سے اس قدر زياده آگے ہيں كه ہمارا اور ان كا كوئى موازنه نہيں: وليكن قلم در كف دشمن است ۔

 آخرى بات يه عرض كرنى ہے كه سستى سے بچيں، دماغى اور جسمانى محنت كى عادت ڈاليں، اور ان چاروں شعبوں ميں ہم آہنگى پيدا كريں، ايك دوسرے كا تعاون كريں، اپنے اندر قومى مذاق پيدا كريں، خود كو ملى جذبات سے سرشار كريں، اور خيال كريں كه قومى طاقت متفرق نه ہونے پائے ۔

تبصرے

  1. جزاک اللہ خیرا
    ڈاکٹر صاحب نے بہت ہی اہم اور رہنما اصول بیان کر دیا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
    جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
    موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
    زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
    دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
    فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
    اللہ آپکو لمبی عمر عطا فرمائے، آپ اسی طرح ہماری رہنمائی کرتے رہیں،

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...