نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ایک مثالی تعزیتی خط: مسعود عالم ندوی

 


مسعود عالم ندوی
مسعود عالم ندوی




بسم اللہ الرحمن الرحیم


گرامی قدر محسن و کرم فرما فضیلۃ الشیخ الباحث، المفتی محمد عمر شفیق الندوي أدام اللہ ظلکم وأحسن عزاءکم وعظم أجرکم! 


السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ


صدیق مکرم عباد الرحمن ندوی (حفظہ اللہ ورعاہ!) کے ذریعہ جناب والا کے والد محترم الحاج سید محمد شفیق صاحب مرحوم کے انتقال کی خبر ملی...

"فإنا لله وإنا إليه راجعون. ولله ما أعطى وله ما أخذ، ولکل شیئ أجل مسمی، فإذا جاء أجلھم لایستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون". 

موت ایک اٹل حقیقت ہے، اس سے کسی کو مفر نہیں، "كل من علیها فان، ویبقی وجه ربك ذوالجلال والإکرام". 

اس فیصلۂ الہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور راضی رہنا ہی بندۂ مومن کا شیوہ ہے، لیکن خدا کے کچھ بندے اپنے پیچھے ایسے لافانی نقوش چھوڑ جاتے ہیں، جنھیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور ان کے رخصت ہوجانے سے ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے، جس کی بھرپائی ممکن نہیں معلوم ہوتی، ایسے ہی بندگان خدا میں جناب والا کے والد محترم بھی تھے. 


 بلاشبہ جناب والا کے والد محترم کی موت صرف ایک شفیق والد کی موت نہیں ہے، بلکہ کہ ایک مخلص داعی، ایک حکیم مربی، ایک مرد خود آگاہ و خدا آگاہ اور ایک فنا فی اللہ شخصیت کی موت کا جاں گسل حادثہ ہے، جس نے اپنے پرائے سب کو بہت متاثر اور مغموم کیاہے بلکہ جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے. 


مرحوم نے اپنی زندگی کی 78/بہاروں میں جس عزم و حوصلہ، جس حرکیت و فعالیت، جس جود وسخا، جس علم و عمل اور جس للہیت و ربانی اوصاف کے ساتھ زندگی گزاری ہے اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی؛ بلکہ دعوت و تبلیغ، زہد و استغناء، صوم و صلوٰۃ، ملی ضرورت اور تکریم انسانیت کے جو حیرت انگیز اور ناقابل یقین نمونے انھوں نے چھوڑے ہیں، اب ان کو کوئی نمونہ بنائے تو کیسے بنائے؟! مجھے تو ابن سماک کے رثائی خطبہ کا اقتباس یاد آرہاہے: "...فمن سمع بمثلك صبر صبرك أو عزم عزمك، وما أظنك إلا قد لحقت بالماضين، وما أظنك إلا قد فضلت الآخرين، ولا أحسبك إلا قد أتعبت العابدين".

"...أما أنت فقد ظفرت بروح العاجل وسعدت والله في الآجل!".


اعلی انگریزی تعلیم یافتہ بلکہ لگژری زندگی والی ملازمت یافتہ شخصيت ہوکر بھی ساری دنیا پر انھوں نے سرزمین حرمین کو ترجیح دی، وہاں بھی زیادہ کے مقابلے میں کم کو اختیار کیا... اذان ہمیشہ مسجد میں سننے کے عادی رہے... قرآن کریم سے عشق اس پر مستزاد... پوری زندگی نفلی روزے کا اہتمام کیا، گذشتہ 30/ برسوں سے صائم الدہر تھے اور حج بھی 40/ بار کیا!! 


 دعوت کی محنت اور حجاج کی خدمت کو اپنا شرف و افتخار اور تقرب الہی کا ذریعہ سمجھا، اس کے لئے جدہ سے مکہ اور مکہ سے جدہ... ایئرپورٹ سے گھر اور گھر سے ایئرپورٹ... ایشیا و افریقہ و امریکا اور یورپ کے تمام قابل ذکر اور گمنام ممالک کی خاک چھان آئے... مصر و شام، فلسطین واردن، پاکستان و ایران، عراق و لیبیا، تونس، برازیل، آسٹریلیا، انڈونیشیا، ملیشیا، فلپائن، چین، ترکی اور جاپان جاجا کر دیکھا بلکہ رب کریم کا سب جگہ پیغام پہنچا آئے... 


ندوۂ و دیوبند، مظاہر و علی گڈھ، جامعۃ المؤمنات و خدیجۃ الکبری للبنات، مرکز نظام الدین و آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جیسے تمام چھوٹے بڑے تعلیمی و تحقیقی اداروں اور ملی و فلاحی تنظیموں کے علماء و اہل دانش اور سفراء و مبلغین کا جدہ و ممبئی میں ٹھکانہ مرحوم کا ہی آشیانہ... بیٹے بیٹیاں سب فضل وکمال میں یکتا، تعلیم و تربیت میں منفرد اور بحث و تحقیق کے اعلی مقام پر فائز... اللہ اللہ... ماشاء اللہ وبارک اللہ فیکم! 

ایں سعادت بزور بازو نیست  

تانہ بخشد خدائے بخشندہ

ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء!!


 مرحوم الحاج سید شفیق (رحمه الله رحمة واسعة!) دنیا کے جھمیلوں میں رہتے ہوئے جب سرخرو رہے، تو پختہ یقین ہے کہ آخرت میں ہر جھمیلے سے آزاد ہوکر جنت الفردوس میں بھی ضرور سرخرو ہی رہیں گے، دنیا یہاں ان پر رشک کرتی رہی، وہاں وہ اور زیادہ قابل رشک ہوں گے. 

انتقال بھی تو قابل صد رشک ہے... 

دعوت الی اللہ کی راہ میں... 

بعد از نماز و تسبیح و تلاوت اور روزہ کی حالت... 

سبحان اللہ ماشاء اللہ!! 

سچ مچ اسے کہتے ہیں "زندگی بھی قابل رشک اور موت بھی قابل رشک!!". 


غائبانہ تعارف تو صدیق مکرم عباد الرحمن صاحب نے پہلے ہی کرا دیا تھا، الحاج عرفان صدیقی صاحب مدظلہ کے تو کیا کہنے ہیں... ذرا ذکر چھیڑ دیجیے مولانا علی میاں صاحب کا... یا مولانا رضوان صاحب کا... یا پھر الحاج سید شفیق صاحب کا... پھر دیکھیے گل افشانی گفتار... واللہ کسی سالے کو بہنوئی کی اتنی تعریف کرتے کم ہی سناگیا ہوگا!! 

2018 سفر عمرہ میں جناب والا سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو مسخر ہی ہوگیا... وہ بشاشت وہ اکرام... وہ زیارت وہ عنایت... وہ کتابوں کی دنیا... وہ بحث و تحقیق کی نظر... وہ سفر... کتابوں کی خریداری کے لئے... وہ قیام... شرف ہم طعامی و ہم کلامی کے لیے... 

جبھی تو صدیق مکرم عباد الرحمن... ہمیشہ رہتے ہیں رطب اللسان... اپنے پھوپھا پھوپھی اور پھوپھے زاد بھائیوں کی تعریف و توصیف میں... وحق له ذلك ورب المحصب!! 


واللہ مجھے بھی ہمیشہ رشک آتا رہاہے آپ پر... آپ کے برادر عالی قدر محسن و کرم فرما جناب مفتی علی شفیق ندوی صاحب (استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء وسابق استاذ کلیۃ الحرم مسجد نبوی) پر، جن کی پیہم عنایتوں سے، علمی آراء و افکار سے ہم یہاں لکھنؤ میں مستفید ہوتے رہتے ہیں اور ہمیں رشک آتاہے آپ کی پوری فیمیلی پر... اور سچ مچ ایں خانہ ہمہ آفتاب است!! 

یہ سب مرحوم کی کوششوں کا فیض، ان کے عمل کا تسلسل، ان کے سوز دل کاامتداد ہے، جس میں ان کےلیے اجر بے حساب ہے، آخرت کا بیش بہا ذخیرہ ہے. 


گرامی قدر عمر بھائی!! 

کوئی آپ کی تعزیت کرے تو کیسے کرے؟! کیوں کہ یہ غم تنہا آپ کا اور آپ کی فیمیلی کا غم نہیں ہے، اس غم میں بہت سے خانوادے، بہت سے ادارے، بہت سی تنظیمیں اور وہ سب مقامات و ممالک، جہاں مرحوم کا فیض پہنچا، سب برابر کے شریک ہیں.

البتہ صبر کرنا ضرور آپ سے، علی بھائی سے، عثمان بھائی سے اور آپ کی فیمیلی سے سیکھے، جن کو راست طور پر صدمہ ہوا ہے!! 

واقعی آپ عظیم والد کی عظیم اولاد ہیں.

فعظم الله أجركم وأحسن عزاءکم وکثر أمثالکم والسلام عليكم جميعا ورحمة الله وبركاته!!


شکستہ دل اور شریک غم 

مسعود عالم ندوی

جامعه خديجة الكبرى للبنات، لکھنؤ

02/ دسمبر 2020

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...