نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

یکم جنوری: یوم جشن یا یوم احتساب

 





یکم جنوری: یوم جشن یا یوم احتساب 


از قلم:محمد مرغوب الرحمن


سال نو2021 ہم پر سایہ فگن ہونے ہی والا ہے، 31 دسمبر کی نصف شب کا پوری دنیا میں شدت سے انتظار کیا جاتا ہے، اس کے استقبال کے لیے بڑا جوش دکھ رہا ہے، کیوں کہ اسی وقت سال 2021 کی آمد کی خوشی میں جشن چراغاں کا انعقاد ہونا ہے، رقص و سرود کی محفلیں سجنی ہیں، حالاں کہ یہ وقت رقص و سرود اور عیش ومستی کا نہیں، بلکہ احتساب اور عزم کی تجدید کا ہے، کیوں کہ ہماری محدود زندگی کا ایک سال اور کم ہو گیا۔



زندگی اللہ کی جانب سے عطا کردہ ایک بیش بہا نعمت ہے اور نعمت کے زائل ہونے یا کم ہونے پر جشن نہیں منایا جاتا بلکہ احتساب کیا جاتا ہے۔


حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے : "حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا“ تم خود ہی اپنا محاسبہ کرلو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔ 


حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے : 


حياتك أنفاس تعد فكلما !!!! 

مضى نفس أنقصت به جزءا


"تمہاری زندگی چند سانسوں کا ذخیرہ ہے، جوں جوں تم سانس لیے جارہے ہو وہ ذخیرہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے"۔


یہ اس بات پر غور كرنے کا وقت ہے کہ کیا واقعتا جو وقت گزرا ہے، ہم نے اس کا صحیح استعمال کیا ہے یا نہیں؟ کیونکہ جتنے بھی تاریخ ساز افراد دنیا میں گزرے ہیں، چاہے وہ جس میدان کے رہے ہوں، وقت کو انھوں نے قیمتی سمجھا اور ایک ایک لمحہ کی قدر کی، تب انہیں بلند مقام ومرتبہ ملا۔


قیمت غم حیات کی تو دام دام لے!!!!!


یعنی بہار ہو یا خزاں سب سے کام لے






سال نو ہمیں دو اہم اور بنیادی پیغام دیتا ہے :


(1) ماضی کا احتساب


(2) مستقبل کا لائحہ عمل




(1) ماضی کا احتساب : نیا سال ہمیں مختلف میدانوں میں خود احتسابی کا پیغام دیتا ہے، کہ ہماری عمر عزیز کا جو ایک سال کم ہو گیا، تو ہم نے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایمان و عمل، تعلیم وتربیت، تاریخ وثقافت، صنعت و تجارت اور سیاست کے میدان میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ اللہ تعالی سے ہمارا تعلق کتنا مضبوط ہوا اور اللہ کے بندوں سے ہمارا سلوک کیسا رہا؟




(2) مستقبل کا لائحہ عمل : اپنی خود احتسابی اور جائزے کے بعد اس کے تجربات کی روشنی میں تابناک مستقبل کی تعمیر کے منصوبے میں لگنا ہوگا؛ کیوں کہ اسی طرح ہم مذکورہ میدانوں میں اپنی کمزوریوں کو دور یا کم سے کم کرسکیں گے؟




سال نو کی آمد ہمارے لئے وقتی لذت یا خوشی کا موقع نہیں ہے؛ بلکہ گزرتے ہوئے اوقات کی قدر کرتے ہوئے آنے والے لمحاتِ زندگی کے صحیح استعمال کے تئیں عزم مصمم کا موقع ہے، یہ درحقیقت ازسرنو عزائم کو بلند کرنے اور حوصلوں کو پروان چڑھانے کا بہترین وقت ہے۔






سال 2020 گذر گیا اور گذرنے والا سال اپنے دامن میں بہت سی یادیں لے کر چلا گیا، کچھ یادیں ایسی ہیں جن کے پردۂ ذہن پہ آجانے سے ہم خوش ہوں گے اور انھیں اپنے غم کو غلط کرنے کا سامان سمجھیں گے، لیکن کچھ یادیں اتنی تلخ ہیں کہ ان کو یاد کر نے سے ذہن ودماغ میں ایک بھیانک قسم کی بے چینی سی دوڑ جائے گی اور دیر تلک ہماری پریشاں خاطری دور نہیں ہوگی۔




سال گذشتہ عالمی سطح پر کورونا جیسے قیامت خیز اور ہلاکت انگیز وائرس کی یاد بہت تلخ ہے، جس نے دنیا کو ہر اعتبار سے کمزور کیا، تعلیم و معیشت کے ساتھ ساتھ سیکڑوں عظیم انسانوں کو اپنا لقمۂ اجل بنایا۔




سال گذشتہ ہم ہندوستانی بہت سے ایسے زخموں کے شکار ہوئے جس کا بھرنا بظاہر بہت ہی مشکل معلوم ہوتا ہے، تاریخ کے صفحات نے ان سارے زخموں کو اپنے اندر ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلیا ہے، حکومت اقلیتوں اور دلتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے نہ صرف یہ کہ ہراساں ہونے کے لیے تنہا چھوڑے ہوئی ہے، بلکہ انہیں پریشان کرنے کے لیے نت نئے راستے تلاشتی کرتی رہتی ہے، فسطائی طاقتوں نے بھی ملک میں اقلیتوں پر ظلم وستم کے مختلف ہتھکنڈوں کو اپنا رکھا ہے، کبھی CAA اور NRC جیسے سیاہ قوانین کے ذریعے، کبھی ماب لنچنگ اور لوجہاد کے نام پر اور کبھی کسان مخالف کالے قوانین لا کر۔


ملک کی معیشت مسلسل انحطاط پذیر ہے، شرح ترقی گھٹتی جارہی ہے، کارخانے بند ہو رہے، ملک کی دولت چند ہاتھوں میں سمٹ آئی ہے، بڑے بڑے سرمایہ دار اور صنعت کار بینکوں سے بھاری قرض لے کر کے عوام کی گاڑھی کمائی کو برباد کررہے ہیں، امن وقانون کی صورت حال اتنی ابتر ہوچکی ہے کہ پوری دنیا ہم پر خندہ زن ہے۔




کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا!


جیون کا ایک اور سنہرا سال گیا!! 




  یہ وہ تلخ حقائق اور کڑوی یادیں ہیں جن سے سال گذشتہ دو چار ہونا پڑا ہے، رہ گئی بات آئندہ برس کی تو یہ ہمارے فیصلے، حوصلے اور قوت کار پر منحصر ہے کہ آنے والا سال ہمارے لیے صداقت و عزیمت اور فخر و انبساط کا سال ہوگا اور ان شاء اللہ یہ سال ہم کو ہر طرح راس آئے گا.




نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے!!


خدا کرے نیا سال سب کو راس آۓ!!!




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...