ندوة العلماء
ندوة العلماء کا نام جب ذہن کے پردہ سیمیں پرابھرتاہے،
تو تاریخ کا ایک طویل اور زریں سلسلہ خود ہم کلام ہوجاتا ہے۔ یاد کریں جب بیسویں صدی کی شام ڈھل رہی تھی، مغلیہ سلطنت کا چراغ گل ہوچکاتھا، داخلی خلفشار اور خارجی اقتدار کی چکی میں مسلمانان ہند پس رہے تھے، صرف مسلمانان ہند ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی تقریباً یہی صورت حال تھی، ہر طرف سے علم وعمل کی تحریک، فن کی اصلاح وتجدید کا مطالبہ تھا لیکن حالات کی ستم ظریفی، احساس کمتری مختلف جہات سے کوشش بھی ہورہی تھیں لیکن بقول مولانا ابوالکلام آزادؒ:
”اصلاح و تجدید کا وہ سِرّ مخفی، جس کی جستجو میں تمام مصلحین گذشتہ سرگرداں رہے، مگر بہت کم افکار عالیہ تھے جن کی اس تک رسائی ہوئی، احیائے ملت کا وہ مقصد عالی جس کوسمجھنے والوںنے سمجھا، پر اس کے انجام دینے کی مہلت کسی نے نہ پائی،تحریک ِدینی کا وہ مشروعِ عظیم جس کو بایں ہمہ سطوت و وسعت سلطان عبد الحمید نہ کر سکا، اور خدیومصر نے سید جمال الدین سے اس کا وعدہ کیا مگر ہمت ہار دی، اصلاحِ اسلامی کو وہ مطلوب عزیز جس سے دار الخلافت اسلامی کے جوامع خالی رہے، اور جس کا مجال اصلاح دس برس کی سعی و جستجو کے بعد بھی جامعہ ازہر کے ستونوں کو نصیب نہ ہوا، وہ یوسف گم گشتہ جس کی آرزو تیونس کے جامع زیتونی میں کی گئی، مگر پوری نہ ہوئی، اور جس کو مراکش کے جامع ابن خلدون میں پکارا گیا، مگر جواب نہ ملا، یعنی وہ کہ نامور محمد عبدہ ساری عمراس کے عشق میں روےا(وابیضت عیناہ من الحزن فھو کظیم) مگر اسے پا نہ سکا،اور قاضی القضاة ترکستان نے چالیس برس اس کی حسرت میں کاٹے کہ( یا ا
سفاً علی یوسف) مگر محروم رہا
خاکِ ہند کے چند ہمم عالیہ اور افکار صحیحہ کی کوششوں کی بدولت ”ندوة العلماء“ کے نام سے وجود میں آیا“- (مولانا ابو الکلام آزادؒ )
حضرات! تحریک ندوة العلماءکا قیام مندرجہ ذیل مقاصد کے لئے ہوا تھا:
(۱) رفع نزاع باہمی(اتحاد اسلامی)-
(۲) طریقہ تعلیم اور نصاب تعلیم میں اصلاح-
(۳) درستی اخلاق-
(۴) اسلامی تعلیمات کی اشاعت-
(۵) اصلاح معاشرہ۔
مذکورہ بالا مقاصد پر ندوة العلماء نے غیر معمولی توجہ دی اور تحریک ندوة العلماء سے وابستہ جیالوں نے ایک ایسی تاریخ رقم کی ہے جو علم وادب، فکر وفن کی شعور وآگہی اور بصارت وبصیرت کی روشن تاریخ ہے۔
مولانا عبدالسلام قدوائی ندویؒ نے بڑی ہی خوبصورت انداز میں اس کی تصویر کشی کی ہے، لکھتے ہیں:
”فکر ونظر کے گوشے ہوں یا تحریر وتقریر کے میدان، تصنیف وتالیف کے ادارے ہوں یا درس وتدریس کی مسندیں، جلوت کے ہنگامے ہوں یا خلوت کے حلقے، اخبارات ورسائل کے مقالے ہوں یا ذکر وشغل کے مشغلے، سیاحت کی پرخار وادیاں ہوں یا معیشت کی پر پیچ راہیں، اددب کے گیسووں کی آرائش ہو یا علم وحکمت کی غواصی، کون سا کام ؟؟؟کے نام سے خالی ہے، کسی میدان میں اس کے فیض یافتوں کے قدم نہیں پہونچے، کون سی وادی ان رہ نوردان شوق سے نا آشنا ہے، اور ان کے نقش پا کی شوخی کس پر پکار پکار یہ اعلان نہیں کر رہی ہے کہ:
ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے
ندوة العلماءکے
ارباب فکروعمل نے بڑے بلند تخیل اور نہایت دور رسی سے ندوة کا کینوس تیار کیا تھا، ان کی دور رسی اور بلندخیالی کا ایک جامع اور طاقتور مظہر ”جمعیة الاصلاح“ ہے، جمعیة الاصلاح صرف طلبہ کے ادبی پروگراموں،
مشاعروں، بیت بازیوں، تحریری وتقریری مشقوں اور مباحثوں کا مرکز نہیں بلکہ درحقیقت یہ مسلمانوں کے مستقبل کا دھڑکتا دل ہے۔ یہ علمی وفکری اور دعوتی مشقوں اور مباحثوں کا مرکز نہیں بلکہ درحقیقت یہ مسلمانوں کے مستقبل کا دھڑکتا دل ہے، یہ علمی وفکری اور دعوتی محاذوں کے لئے ابتدائی تیاریوں کی ایک چھاونی ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ امت کے نوجوان ملت کے مسائل حاضرہ سے واقف ہوںا ور جدید آلاو مسائل سے باخبر ہوں، زبان وقلم کی ادیبانہ و ساحرانہ خداداد صلاحیتوں اور طاقتوں کو امت کے تن مردہ میں روح پھونکنے اور تجدید واصلاح کی ان تھک کوشش میں صرف کرسکٰں اور اس آیت قرآن کو اپنا شعار بنالیں۔ ”ومن احسن قولا..............لعلھم
یحذرون۔
جمعیة الاصلاح نے ماضی میں کیا کارہائے نمایاں انجام دئے اور مستقبل میں اس اسٹیج سے کیا امیدیں وابستہ ہیں اور کہاں تک کامیابی متوقع ہے یہ ارکان جمعیت اور ہم طلباءدارالعلوم کے لئے گہرے سوچ و فکر اور بے لاگ جائزہ کا مسئلہ ہے، لیکن تعلیم وتربیت اور دعوت واصلاح کے میدان کے چند باکمال افراد کے تبصرے ہمت افزائی اور امید کا سبب ہے۔
نواب صفدر جنگ مولانا حبیب الرحمن شیروانی مرحوم نے جمعیة الاصلاح کے رجسٹرڈ معائنہ میں تحریر فرمایا کہ یہ انجمن تربیت خیال کا عمدہ ذریعہ ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کہتے ہیں:
”میں امید کرتا ہوں کہ انجمن دارالعلوم کی تعلیمی واخلاقی ترقی کے لئے نہایت مفید اور بابرکت ثابت ہوگی“۔
رئیس الاحرار جناب مولانا محمد علی جوہرؒ نے دارالکتب کے معائنے کے بعدا ظہار خیال فرمایا کہ:
”دارالمطالعہ میں اخبارات طلباءکے تیار کردہ دیکھنے میں آئے۔ حیرت ہوئی کہ کم عمر طلباءنے اپنے عمدہ خیالات اتنی عمدہ عبارت میں ادا کرتے ہیں“۔ اور مولانا شوکت علیؒ انجمن کو یوں خراج تحسین پیش کیا:
” داتا رکھے آباداں ساقی تری محفل کو“
- الغرض جمعیة الاصلاح ایک جامع راہ امنگ اور واضح مقصد رکھتی ہے جس کے تحت درج ذیل شعبہ قائم ہے:
- بزم خطابت:(تقریر وخطابت کی اہمیت ابتدا ہی سے رہی ہے) تقریر وخطابت کی مشق کے لئے ” بزم خطابت“ قائم ہے۔ اس شعبہ کے تحت ہفتہ واری پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔
- بزم سلیمانی:یہ وہ بزم ہے جو سید الطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی کی طرف منسوب ہے۔ یہ شعبہ تحریر ومضمون نگاری کے لئے قائم ہے۔ اس شعبہ کے تحت ہر مہینے دو جلسے ہوتے ہیں۔
- شعبہ صحافت: جمعیة الاصلاح کا ایک اہم شعبہ ہے جس کے تحت طلباءاساتذہ کی نگرانی میں ہر ماہ علمی، ادبی واصلاحی جداریہ نکالتے ہیں۔
- دارالکتب: جمعیة الاصلاح کا ایک منتخب کتب خانہ ہے جس میں تاریخ سیرت، ادب ودیگر متفرق موضوعات پر چھ ہزار سے زائد کتابوں کا منتخب قیمتی ذخیرہ موجود ہے۔ اور ہر سال اس میں گنجائش کے مطابق اضافہ کیا جاتا ہے۔
- دارالاخبار: طلباءکو حالات حاضرہ اور روز مرہ پیش آنے والے واقعات وحادثات سے باخبر رکھنے کے لئے دارالاخبار کا ایک شعبہ قائم ہے۔ جس میں اندرون وبیرون ملک سے سنجیدہ ومغیرعلمی وادبی اخبارات ورسائل منگوائے جاتے ہیں اور شہر کا کوئی معتبر روزنامہ دارالاقامہ میں اسٹینڈ پر آویزاں کیا جاتا ہے۔
- شعبہ ثقافت: اس شعبہ کے تحت طلباءمیں تہذیب وشائستگی، صحیح دینی، ایمانی واخلاقی فضا پیدا کرنے اور اسلامی روایات کے خلاف باتوں کا سد باب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اور طلباءکی معلومات میں اضافہ اور ان کے مطالعہ میں نظم وربط اور وسعت پیدا کرنے کے لئے مختلف موضوعات پر ماہرین کے محاضرات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
- ذرائع ابلاغ: پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا عصر حاضر میں اہم کردار ہے۔ الاصلاح کا یہ شعبہ ان دونوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کرتا ہے۔
- کھیل اور ورزش: اسلام میں صحت وتندرستی اور جسمانی طاقت وصلاحیت کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر الاصلاح کے تحت کھیلوں کا انعقاد کیاجاتا ہے۔ نیزتندرستی وتوانائی کے لئے ایک جم سینٹر بھی قائم ہے۔
- عزائم: ہم امید کرتے ہیں کہ ان تمام شعبوں کے معتمدین سال رواں پوری دلچسپی وسرگرمی کے ساتھ بزموں کو متحرک وفعال بنائیں گے۔ ماضی کے کارہائے نمایاں سے استفادہ کرتے ہوئے جدید نافع کو اختیار کریںگے۔ الی الاسلام من جدید سے حوصلہ پاکرہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ خطابت، مقالہ نگاری، بیت بازی، حفظ اشعار، توسیعی محاضرات اور الاصلاح کے دیگر اہم پروگراموں کے ساتھ سال رواں ٹیبل ٹاک انٹرویو اور حالات حاضرہ سے متعلق اہم موضوعات پر سنجیدہ مباحثوں (گروپ ڈسکشن) کا بھی نظام بنائیں گے۔ جدید آلات اور وسائل سے مصلح ہونے کے عزم ہو کو دہراتے ہوئے ہم بزم سلیمانی وشعبہ
صحافت کے تحت شائع ہونے والے منتخب مقالات ومضامین کے ذریعہ تحقیق ونظر کو فروغ دینے اور آن لائن شائع کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ورقی وبرقی (پرنٹ والیکٹرانک)
میڈیا میں اسلام کی درست اور طاقتور نمائندگی ہوسکے۔ دوسرے الفاظ میں ایسے ماہرین اور اہل نظر پیدا ہوں جو الیکٹرانک پرنٹ میڈیا میں اسلا م کی صحیح اور سچی ترجمانی کرسکیں۔
ندوة العلماءقدیم و جدید کی پروا کےے بغیر ہمیشہ صالح کے بجائے اصلح اور نافع کے بجائے انفع کے حصول کا حامی رہا ہے کیونکہ زمانہ اسی کا متقاضی ہے ، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی ؒ نے نہایت عمدہ انداز میں یہ بات سمجھائی ہے ۔
حضرات مفکر اسلام کے اس جامع اور پیغام آفریں اقتباس کے ساتھ ترانہ ندوہ کے اس بند پر ہم اپنا مقالہ ختم کرتے ہیں۔
اس بزم کے ہم نے جام پئے، اس بزم کے ہم میخواہ بنے
ا س بزم کے میں ہم بیدار ہوئے، اس بزم میں ہم ہشیار بنے
اس بزم میں ہم غیور بنے، بیباک بنے خوددار بنے
اسلام کے حق میں ڈھال بنے ، باطل کے لئے تلوار بنے
مولانا علی میاں رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے:
”زمانہ بڑا بے رحم ہے ، اور بڑا بے مروت واقع ہوا ہے ، وہ بڑی سے بڑی مقدس جماعت کے ساتھ بھی مروت نہیں کرتا ، وہ کسی کے سامنے آسانی کے ساتھ سر تسلیم خم نہیں کرتا، زمانہ کی فطرت ہے کہ جب تک اس کو اعتراف پر مجبور نہ کردیا جائے، وہ کسی کا اعتراف نہیں کرتا، کسی چیز کا تسلسل زمانہ کے لےے بالکل کافی نہیں ہے ، زمانہ ایسا حقیقت پسند ، ایسا بے مروت ، اتنا غیر جانب دار ہے کہ جب تک اس کے ہاتھ میں کوئی نئی چیز نہ دی جائے ، اور اس کی گردن کو کسی ایسے بوجھ سے بوجھل نہ کر دیا جائے کہ وہ جھکنے پر مجبور ہوجائے ، اس وقت تک وہ جھکنے کے لئے تیار نہیں ہوتا، زمانہ سے کسی قسم کا اقرار کرا لینا، کسی قسم کی سند حاصل کرلینا ، کوئی تمغہ امتیاز یا خراج عقیدت حاصل کرلینا بچوں کو کھیل نہیں ہے ، اور محض روایت پرستی اس کے لےے کافی نہیں ہے ، زمانہ کو اعتراف پر مجبور کرنے کے لئے اپنی فوقیت کا نقش قائم کرنے کے لےے ، اپنے ادارے کا احترام دلوں اور دماغوں میں پیدا کرنے کے لےے ، اپنے لےمناسب اور شایان شان مقام حاصل کرنے کے لے ، آپ کو بڑی جد وجہد کرنی پڑے گی ، آپ کو اپنا معیار بلند کرنا پڑے گا -
Weritten by: K.R. Faizy
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں