نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ابن اخلاق کی ڈائری: دادری




ابن اخلاق کی ڈائری 




                                               ک۔ر۔فیضی    
٭کام میراجنون ہے:
        آج دن کاکھانا کام کی نذر ہو گیا،مجھے ایسا لگتا ہے کہ کام کرنا میری مجبوری نہیں بلکہ میرا جنون ہے،ملک کی حفاظت ،عوام کا تحفظ اور انسانوں سے محبت ہی وہ چیز ہے جو مجھے اور میرے تمام ساتھیوں کو انتھک محنت کرنےپرمجبورکرتی ہے،لیکن دن بھر کام کرنےاورخوب کام کرنےکےبعدرات کی اسی تھکن میں زندگی کی لذت محسوس کرتا ہوں۔
٭اور ”ابو“ نہیں رہے:
         فون کی گھنٹی بجی،موبائل ہمیشہ کی طرح کانپ اٹھا،لیکن معمول کے خلاف آج میں بھی کانپنے والاتھا،جھنجھوردیاجانےوالاتھا،میں نےفون اٹھایاتوصرف رونے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں، ایک لمحہ کے لئے تو مجھے ایسا لگا کہ کسی رانگ نمبر سے فون ہے،مگر ہائے افسوس کہ وہ فون گھر سے ہی تھا، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا ہوا ہے؟ بمشکل تمام اتنا ہی سن سکا کہ ”ابو“(مقتول محمد اخلاق)نہیں رہے،ایسا لگا کہ میں نے اپنی زندگی کھو دی ہے،آہ !میرے ”ابو“ اب اس دنیا میں نہیں تھے، کونکہ کچھ کم عقل لوگوں نے اپنے ”فرضی ماتا “ کی خاطر کسی کے’’حقیقی پتا‘‘ کاخون کر دیا تھا۔
٭زندگی ہار چکے ہوتے:
           چھوٹا بھائی ہاسپیٹل کے ایمرجنسی وارڈمیں بیڈ پر پڑا کراہتارہتا ہے، ہر وقت یاد کرتا ہے اپنے ”ابو“ کو، کل ہوش میں آنے کے بعد کہ رہا تھا، بھیا میں نے چاہا کہ وہ لوگ”ابو “کو چھوڑ دیں، میری جان لے لیں، لیکن سامنے ہی مار ڈالا درندوں نے ، اورمیں تکتا ہی رہ گیا، وہ بار بار مجھ سے پوچھتا ہے اب میں زندہ کیوں ہوں؟ اس کو دلا سہ دینامیرے لئے بہت مشکل ہوتا ہے ، کیونکہ میں خود پوری طرح ٹوٹ چکا ہوں، پھر دلاسہ دوں بھی تو کیا؟ کیا کہوں اس سے کہ خود تمہارے ہی محافظ، جنھیں تم نے شہرت دی، طاقت دی،کومت دی،انھیں تمہاری کوئی پروا نہیں،بلاشبہ اگر خدا پریقین نہ ہوتا تو ہم اپنی زندگی ہار چکے ہوتے کسی کو مارچکےہوتے۔
٭جانور مارنا پاپ ہے، انسان ماریں:
         آج چھٹی تھی بورہورہاتھا،ڈائری لکھنےبیٹھاتوسوچتا ہی چلا گیا،کہ کیا ”گو کشی “ پر ملک پابندی لگا سکتا ہے؟ اس سے ہونےوالےمنافع کوچھوڑسکتاہے؟ انسانی زندگی میں استعمال ہونے والی چیزیں،جواس کےچمڑوں سےتیارہوتی ہیں،چمڑے کے جوتے ،چپل،بیگ،پرس،کرکٹ بال پھرصابن،پےسٹ،نہ جانےکتنی چیزیں بنتی ہیں،کتنےنفع کی چیزہے؟کیا ان سب کوروکاجاسکتا ہے؟ اورپھر ایک رپورٹ کے مطابق”گوکشی“ پرپابندی کے دس سال بعد ہندوستان کاہرشہری اپنےساتھ ایک بوڑھی  گائے رکھنےکوتیا رہے؟حقیقی ماں کی خدمت کا مجھےخوب اندازہ ہے،اور اب تو اس ”گوکشی“پرقتل کےبعدقتل کاایک سلسلہ شروع ہو گیاہے،اوپرسےسیاسی لیڈروں کی سیاسی بیان بازیاں،صاف محسوس کرتا ہوں کہ یہ لوگ یہی کہناچاہتےہیں کہ”جانور مارنا پاپ ہے،انسان ماریں“۔
٭یہ ہندوستان ہے: 
         اب تک نہ جانے کتنوں کاہمدردی و غمخواری سے بھرا فون آچکا ہے، جو حقیقت میں انسان ہیں،ہمدرد ہیں،سب نے افسوس کا اظہار کیا،تسلی دی،کہاہم شرمندہ ہیں،اگر خاموش رہے تو ہمارے سب سے بڑے غمخوار، خیرتسلی کے لئے یہ کافی ہے کہ ہمارا ملک اب تک ایک سیکولر ملک ہے،سب سے بڑا ملک جہاں مختلف مذاہب کے لوگوں کو برابر کا حق حاصل ہے، جہاں ہمارے آباء نے صدیوں حکومت کی ہے،ہم وطنوں کو ساتھ رکھا ہے،ان کے حقوق دئے ہیں،مگر افسوس کہ شائد   اب اسی ملک میں مسلمان ہونا اتنا دشوار ہے کہ اپنے معصوم ”ابو “ کی قربانی دینی پڑتی ہے،پھر بھی میں یہ سوچ کر فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک اچھا ہندوستانی بھی ہوں اورایک پکا مسلمان بھی ۔ 
x

x

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...