نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مدرسہ خیر العلوم کے زیر اہتمام تعلیمی مظاہر و جلسہ دستار بندی


مدرسہ خیر العلوم کے زہر اہتمام آر کے لان میں میں تکمیل قرآن پر تعلیمی مظاہرہ و جلسہ دستاربندی کا انعقاد


مدرسہ خیر العلوم، مسجد مروہ، رجب گنج لکھنؤ میں ایک طالب علم نے حفظِ قرآن کی تکمیل کی۔ حفظِ قرآن کریم کی یہ تکمیل اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ اس طالب علم نے مسجد کے اندر چلنے والے ایک مدرسہ میں اپنی محنت، اساتذہ کی لگن اور ذمہدار ان کی نگرانی میں حفظ قرآن کریم کی تمکمیل کر ان تمام مکاتب و مدارس کے لیے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے جو مساجد میں چلا کرتی ہیں، کہ اگر طالب علم کی محنت اساتذہ کی لگن اور ذمہ داران کی نگرانی ہو تو اسی طرز پر دوسری مسجدوں میں بھی حفظ قرآن کریم کا ایک زریں سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

جلسہ دستاربندی کے اس موقع پر مغرب کی نماز کے بعد پہلی نشست میں مدرسہ خیر العلوم کے طلباء و طالبات نے بہترین تعلیمی مظاہرے پیش کیے۔ 

بعد نماز عشاء جلسے کی دوسری نشست کا آغاز تلاوت قرآنِ کریم سے ہوا۔ نعتیہ کلام کے بعد عزیزم حافظ محمد کعب سلمہ کہ دستار بندی کا حسین منظر ناظرین کے آنکھوں کے سامنے تھا۔

اس موقع پر ذمہ داران مدرسہ جناب ہارون صاحب، ناظم مدرسہ جناب مولانا زین الحق صاحب ندوی نے علماء کرام مہمانان عظام اور اساتذہ کے لیے شال پوشی کا بھی عمدہ نظم فرمایا تھا۔

علماء کرام مہمانان عظام اور اساتذہ کی شال پوشی کے بعد ناظم مدرسہ مولانا زین الحق ندوی نائب مہتمم مدرسہ سیدنا بلال نے مدرسے کے تعلیمی نظام، مکاتب و مدارس کی اہمیت پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالی۔

کلیدی خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مؤقر استاد مفتی زید مظاہری ندوی نے قرآن کریم کی اس آیت اور حدیث پاک کے اس ٹکڑے کو اپنا موضوع سخن بنایا جس میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہی قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اسی طریقہ سے آپ نے حدیث پاک کا مفہوم بھی بیان فرمایا کہ تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔


آپ نے مزید کہا کہ جب قرآن پاک کی تکمیل ہوتی ہے۔ اس وقت دعاء قبول ہوتی ہے۔ غالباً عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے رات میں قرآن کی تکمیل کی تو اس وقت دعاء کے بجائے صبح کو دعاء کرائی تاکہ تمام اہل خانہ دعاء کی قبولیت کے اس موقع پر شریک ہو سکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی تقریبات کا اہتمام دعاء کی قبولیت کے لیے بھی بہت مفید ہے۔

آپ نے کہا کہ شکر پر مزید عنایت کا وعدہ ہے۔ اس لیے ایسے موقع پر والدین، اساتذہ، ذمہداران اور خوار حافظ قرآن کو بھی اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

آپ نے بانی مدرسہ جناب حافظ عبد الباسط رح کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اندر اللّٰہ نے اخلاص کی بڑی دولت رکھی تھی، ان کے اندر قرآن کی خدمت کے لیے مدرسہ کے قیام کا بڑا جذبہ تھا۔ اللّٰہ اخلاص سے کام کرنے والوں کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔

اس طرح کے کام صدقہ جاریہ ہیں، جو موت کے بعد صاحب صدقہ کو فایدہ پہنچاتے رہتے ہیں۔اس لیے ہم سب کو اس کہ فکر کرنی چاہئے کہ مال، اولاد اور تعلیم کے ذریعہ خوب سے خوب تر صدقہ جاریہ کا اہتمام کریں۔

تعلیم کے ذریعہ صدقہ جاریہ کی مثال دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ شیخ الحدیث مولانا یونس صاحب نہایت رشک سے فرماتے تھے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے شاہ ابرار الحق صاحب سے بڑا کام لیا ہے، قرآن کریم کی خدمت کا بڑا موقع عطا فرمایا۔ چھوٹی بستی، بڑے علاقے اور دور دراز ممالک تک ان کی کوششوں کے ذریعہ مکاتب کا ایک جال بچھایا گیا، اللّٰہ ان کو کتنا ثواب عطا کر رہا ہوگا۔

مکاتب کے ذریعہ قرآن کی حفاظت در حقیقت آنے آنے والی نسل کی حفاظت ہے۔ یہ رسول کا فرمان ہے کہ اگر ایمان محفوظ رکھنا ہے تو اس کے لیے قرآن و حدیث مکتب کا نظام قائم کرنا ضروری ہوگا۔ قرآن کی تعلیم کو عام۔کرنا ضروری ہے۔

رسول اللہ نے فرمایا "ترکتم فی کم امرین" قرآن اور سنت پر عمل سے گمراہی سے حفاظت ہوگی یہ وعدہ ہے، حجہ الوداع کے موقع پر یہ بات کہی۔ آئندہ تم مجھکو اس جگہ نہیں پاؤگے۔

آپ نے عمومی خطاب کرتے ہوئے، سادگی، صفائی، نماز کی پابندی، نیکی کی طرف توجہ دلائی، حفاظ اور علماء کے والدین کو خصوصاً اور عموماً تماما والدین کو گھر کے ماحول کو دینی بنانے کی طرف بار بار توجہ دلائی۔

حفاظ کے مقام و مرتبہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسے دس لوگوں کو جنت میں لے جائے گا جن کے جہنم میں جانے کا فیصلہ ہو چکا ہوگا۔

مہمان خصوصی مولانا خبیب احمد صاحب قاسمی استاذ حدیث جامعہ حفصہ للبنات نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کی قدر اور عظمت سے اللّٰہ بڑی نوازش فرماتا ہے۔ آپ نے رمضان المبارک کی تیاری سے متعلق بھی لوگوں کو بتایا کہ یہی مہینہ رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے۔

اس موقع پر علاقہ کے سنجیدہ افراد کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، اس کے علاوہ خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد پردہ کے ساتھ شریک جلسہ رہی۔ مہمان خصوصی کی جا

مع دعا کے ساتھ جلسے کا اختتام ہوا۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...