(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی پچیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)
دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 07/ 22 مطابق 22/ذی الحجہ 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
میرا انتخاب، میری تخلیق
میری تخلیق، میرا انتخاب
کا آغاز ابوسفیان کی تلاوت سے ہوا۔ محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے صحابی جلیل حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی دس سالہ زندگی کا خاکہ پیش کیا، جو انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارے تھے، جس میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے دس برس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، ان دس برسوں میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہ تو ڈانٹا اور نہ ہی کسی کام کے چھوٹ جانے پر غضبناک ہوئے، اظہار محبت کی خاطر کبھی انس کبھی اُنیس کہہ کر پکارتے تھے اور فرماتے تھے کہ دوسروں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ محمد شاہ ظفر (معاون سکریٹری: اللقاءالثقافی، لکھنؤ) نے سعید بن عامر جمحی کا سوانحی خاکہ رواں عربی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رحلت کے بعد اس جلیل القدر صحابی نے نمونے کی زندگی گزاری، دنیا کے مقابلے میں ہمیشہ آخرت کو ترجیح دی، امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دی اور سیدنا عمر رضی الله عنہ ان سے مستفید ہوتے رہتے تھے"۔
محمد شمیم اختر نے"آداب المتعلمین" از قاری صدیق احمد باندوی سے اقتباس پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "طالب علم کو چاہیے کہ اچھی طرح محنت کرے، علم حاصل کرنے میں ہرگز سستی و کاہلی سے کام نہ لے، کیوں کہ کاہلی علم سے محرومی کا باعث ہوتی ہے"۔
عبدالقادرمحبوب( سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "ڈیجیٹل دور اور حصول علم کےلیے مجاہدہ" کے موضوع پر ماہنامہ رسالہ "رفیق منزل" سے اپنا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "موجودہ دور میں ترقی کرتی ٹیکنالوجی کی وجہ سے عوام بالخصوص طلباء میں مطالعہ کا رجحان کم ہوا ہے، کیوں کہ یکسوئی اور مطالعہ حصول علم کے لئے شرط ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے نئے ذرائع بالخصوص سوشل میڈیا فرد کی یکسوئی کو ہی شدید طور پر متأثر کرتا ہے، یہاں فرد کو تفریح کا سامان میسر ہوتا ہے جو اس کی نفسیات پر مختلف اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس صورت میں فرد کا ذوق متاثر ہونے لگتا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ڈیجیٹل آلات نے سیکھنے سکھانے کے عمل کو دلچسپ بنایا ہے اور اس میں آسانیاں پیدا کی ہیں، اس لیے اس بات کا شعور ضروری ہے کہ ڈیجیٹل آلات کا استعمال اس طرح ہو کہ اس کے خیر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کو یقینی بنایا جائے اور اس کے شر سے حتی الامکان دور رہا جائے"۔
نورالقمر ندوی (رفیق علمی :دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے "شمشاد احمد فلاحی اور وحید عرفان" کی مشترکہ کوششوں سے مرتب کردہ مجموعہ "مطالعہ ۔ نکات جہات۔ اشارات" سے "مطالعہ کے لئے ماحول سازی" کے عنوان سے ایک مضمون پیش کیا، جس میں مقالہ نگار نے چند اہم نکات سامعین کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ: "مطالعہ کے لئے ماحول سازی کی خاطر ضروری ہے کہ ایسے طریقے اختیار کیے جائیں، جن کے نتیجے میں محرکات کو کارفرما بنایا جائے اور رکاوٹوں کا ازالہ کیا جائے، اس مقصد کے لیے مذکورہ محرکات اور رکاوٹوں کو سامنے رکھ کر بہت سے طریقے سوچے جا سکتے ہیں، مثال کے طور پر:
• شہر کی معروف لائبریری کے کارڈز انعام میں باہم تحفتا تبادلوں کی صورت میں اور دیگر طریقوں سے عام کرنا۔
• رسالوں کی خریداری کے تحفوں کی ہمت افزائی کرنا اور اس کو عام کرنا۔
• مصنفین کے ساتھ ان کی کتابوں پر تبادلۂ خیال کے پروگرام رکھنا۔
• "میری پسندیدہ کتاب" کے موضوع پر مشہور لوگوں کے پروگرامز کے سلسلے چلانا۔
ان سب طریقوں کے لیے ضروری ہے کہ مطالعے کے شائقین سے بات چیت کی جائے، علمی ماحول بنایا جائے اور اس مضمون کی راہنمائی کے مطابق ماحول کی تبدیلی کے لیے مستقل مزاجی کے ساتھ کوشش کرتے رہیں تو مطلوب علمی فضا پیدا ہو کر رہے گی۔
مغفور عالم (سکریٹری: SSUI ) نے اپنا انتخاب بعنوان: "کچھ پرانے شاعروں کے حالات" سامعین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ: سید خواجہ میر درد: درد تخلص، خواجہ میر نام، دلی میں ان کا خانوادہ پیری و مریدی کی وجہ سے نہایت معزز اور معظم تھا، موسیقی میں اچھی مہارت تھی، بڑے بڑے باکمال گویے اپنی چیزیں بنظر اصلاح لاکر سنایا کرتے تھے۔ دربار شاہی سے بزرگوں کی جاگیریں چلی آتی تھیں، امیر غریب سب کی خدمت کو سعادت سمجھتے تھے، یہ بے فکر بیٹھے اللہ اللہ کرتے تھے، شاہ عالم بادشاہ نے ان کے یہاں آنا چاہا اور انھوں نے قبول نہ کیا، مگر ماہ بہ ماہ ایک معمولی جلسہ اہل تصوف کا ہوتا تھا، اس میں بادشاہ بے اطلاع چلے آئے، اتفاقا اس دن بادشاہ کے پاؤں میں درد تھا، اس لئے ذرا پاؤں پھیلا دیا، انھوں نے کہا کہ: یہ امر فقیر کے آداب محفل کے خلاف ہے، بادشاہ نے عذر کیا کہ معاف کیجئے عارضہ سے معذور ہوں، انھوں نے کہا: عارضہ تھا تو تکلف کرنی کیا ضرور تھی۔
مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے 13/جولائی/ 2022 کو گڑری دربھنگہ بہار میں live to lead
واٹس ایپ گروپ کے زیراہتمام منعقد استقبالیہ تقریب کی مختصر روداد سامعین کے سامنے پیش کی، جو دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے رواق ابوالحسن میں ناظم انجمن الاصلاح منتخب ہونے پر برادر گرامی مرزا مرغوب الرحمن ندوی کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اس تقریب میں محمد مرغوب الرحمن ندوی کو حوصلہ افزائی کے لئے انعام سے نوازا گیا، اس موقع پر گڑری و اطراف کے نوجوان طلبہ اور معززین شامل تھے۔ ابو سفیان نے "خلجی سلطنت کے متعلق" تاریخ ہند سے اپنا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "خلج ترکستان میں ایک قبیلے کا نام تھا، جلال الدین فیروز شاہ خلجی اسی قبیلے سے تھا، یہ عرصہ دراز سے افغانستان میں رہ پڑا تھا، سلطان محمود غزنوی کے دور میں یہ لوگ سپاہی بن کر شروع شروع میں داخل ہوئے، پھر غوریوں کے عہد میں انھوں نے ترقی کی اور بڑے بڑے عہدے پائے، معزالدین کی وفات کے بعد انھیں لوگوں میں فیروز شاہ خلجی ستر برس کی عمر میں تخت شاہی پر بیٹھے اور اپنا لقب جلال الدین رکھا، یہ نہایت رحم دل اور نیک نیت بادشاہ تھے اور انھوں نے اپنے زمانے میں گراں قدر خدمات انجام دی۔
محمد عدنان شمیم نے شہرۂ آفاق کتاب "دنیا میرے آگے "سے ترکی میں چند روز پر اقتباس پیش کرتے ہوئے کہا: ترکی صدیوں تک پورے عالم اسلام کا مرکز اور مسلمانوں کی قوت و شوکت کا نشان رہا ہے، سیاسی اور تہذیبی اعتبار سے وہ بڑی رنگا رنگ تاریخ کا حامل ہے، ملک کا سیاسی ڈھانچہ علی الاعلان سیکولر ہی رہا ہے، خلافت عثمانیہ کے بعد دینی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی پالیسی عرصے دراز تک رہی، لیکن وہاں کے اسلام پسند لوگ ہمت ہار کر نہیں بیٹھے، بلکہ مختلف جہتوں سے اپنا کام جاری رکھا، ان میں تین حلقوں کی کوششیں بہت نمایاں رہیں: اول وہ علمائے دین جو ظاہری منظر سے ہٹ کر تحفظ دین کے لیے کام کر رہے تھے۔ دوسرے علامہ بدیع الزمان نورسی جنھوں نے دعوت و تبلیغ اور اصلاح و ارشاد کے ذریعہ سے نوجوانوں کی دینی تربیت کی اور ان میں اسلامی روح پھونکنے کا حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا۔ تیسرے نجم الدین اربکان کی وہ سیاسی پارٹی جو اسلام کی علمبرداری واپس لانے کے لئے مسلسل جدوجہد کرتی رہی۔ حسان عمر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنا عربی روزنامچہ پیش کیا، جس میں نماز و تلاوت، صبح و شام کی پڑھائی لکھائی اور اساتذہ کرام سے علمی و فکری وابستگی کا تذکرہ کیا، روزنامچہ کا اسلوب بہت عمدہ اور تحریر رواں تھی۔ مہمان طالب علم عبداللہ زبیر نے نشست میں شرکت پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: "اس طرح کی وقیع علمی و فکری نشستیں اس تسلسل کے ساتھ بہت کم منعقد ہوتی ہیں بلکہ نایاب ہیں، ان شاءاللہ ہم لوگ اس افراد ساز تربیتی نشست سے مستفید ہوتے رہیں گے"۔
اخیر میں صدر محترم مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث و الاعلام، لکھنؤ) نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: "آپ اپنی تعلیمی زندگی کو منظم کریں، تین باتوں کا خاص خیال رکھیں۔ (1)محنت کو اپنی زندگی کا عنوان بنائیں۔ (2) اوقات کی تنظیم کریں، خصوصا تین اوقات: 1- فجر سے قبل اور فجر کے بعد کے وقت 2- ظہر سے لے کر مغرب تک کے وقت 3- عشاء کے بعد متصلا ایک گھنٹہ کی تنظیم ضرور کرلیں۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ طلبہ ان بیش قیمت اوقات کے سلسلہ میں عمومی غفلت کے شکار رہتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی مذکورہ تین اوقات کی قدر کی شدت سے تلقین کی ہے۔ (3) حصول علم کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کے ازالے کی تدبیر کریں، کیوں کہ اگر رکاوٹوں کا ازالہ نہ ہوا تو ہم محروم ہو جائیں گے"۔
محمد مرغوب الرحمن ندوی ( جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے 01/ جولائی/ 2022 کو منعقدہ نشست کی مفصل روداد کا اختصار سامعین کی خدمت میں پیش کیا۔ اس موقع پر شیخ عبداللہ اور مسعود عالم قمری وغیرہ بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے جنرل سیکریٹری محمد مرغوب الرحمن ندوی نے کی۔ سوال و جواب اور تاثرات و تصحیح کا دورانیہ بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔
دعاۓ ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: محمد شہنواز
( سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)
22/07/2022
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں