نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا عہد شباب دنیا بھر کے نوجوانوں کےلیے بہترین نمونہ: محمد صادر ندوی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی بیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)

دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 06/ 17 مطابق 16/ ذی قعدہ 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

 میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب

کا آغاز محمد عزیر کی تلاوت سے ہوا۔ عثمان صدیقی ندوی (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "حضرت عائشہ صدیقہ کا نکاح: حیاتیاتی پہلو" پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: " حضرت عائشہ کے نکاح اور رخصتی کو آج ہی کے نو سال پر قیاس کرنے والے اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ انھیں مرور زمانہ کے ساتھ انسانوں کے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا کوئی علم نہیں۔ ڈاکٹر محمد علی البار (ڈائریکٹر آف میڈیکل ایتھکس سنٹر، جدہ) اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ " یورپ اور امریکہ میں ہر بیس تیس سالوں میں بلوغت کی عمر تین سال کم ہو رہی ہے۔ بیسویں صدی کی شروعات سے اب تک بلوغت کی عمر تقریبا ڈھائی سال کم ہو چکی ہے۔ بعض ترقی یافتہ سمجھے جانے والے ممالک میں آج بھی سن بلوغ 16/ یا 13/ سال ہے، ان ماحولیاتی تبدیلیوں اور حیاتیاتی پہلوؤں کو سامنے رکھیں تو سیدہ عائشہ کی 9/برس میں رخصتی پہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا ہے"۔

شمیم اختر (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "سیرتِ عائشہ: ایک تعارف" کے عنوان سے سیدہ عائشہ کے اخلاق و عادات اور فضائل و کمالات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ: " مسلمان عورت کے لیے سیرت عائشہ میں اس کی زندگی کے تمام تغیرات، انقلابات، مصائب، غرض زندگی کے ہر موقع اور حالت کے لیے قابل تقلید نمونے موجود ہیں، پھر علمی، عملی، اخلاقی ہر قسم کے  گوہر گرانمایہ سے یہ پاک زندگی مالا مال ہے؛ اس لیے سیرت عائشہ اس کے لئے ایک آئینہ خانہ ہے جس میں صاف طور پر نظر آئے گا کہ ایک مسلمان عورت کی زندگی کی حقیقی تصویر کیا ہے"؟ 

شیخ عبداللہ (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے معروف اسلامی دانشور، ماہر قانون ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی کتاب "رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی" سے "رسول اللہ کو چار سے زیادہ بیویاں کیوں؟" کے عنوان سے اپنا انتخاب پیش کیا، چنانچہ وہ لکھتے ہیں" مفسروں اور مؤرخوں نے متفقہ طور پر ذکر کیا ہے کہ رسول اکرم کا آخری نکاح اس آیت کے نزول سے قبل کا واقعہ ہے، جس میں منکوحہ کی تعداد کو چار تک محدود کیا گیا ہے۔ اسلام سے قبل کی ربانی شریعتوں میں بیویوں کی تعداد پر کوئی تحدید نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم ہوں کہ حضرت موسی یا کوئی اور، ان حالات میں قرآنی تحدید سے قبل کا کوئی فعل جو انبیاء کی شریعت کے مطابق ہو قابل اعتراض نہیں ہو سکتا۔

محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے  کم سنی کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ کو اپنی زوجیت میں قبول کرنے کی غرض و غایت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: "سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا جب نکاح ہوا تھا اس وقت وہ چھ برس تھیں۔ اس کم سنی کا اصل منشا نبوت اور خلافت کے درمیان تعلقات کی مضبوطی تھی۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی اور ذہنی قوی میں ترقی کی غیرمعمولی استعداد ہوتی ہے، اسی طرح  قدو قامت میں بھی بالیدگی کی خاص قابلیت ہوتی ہے، اسی کو انگریزی میں "precocious" کہتے ہیں۔ ہہرحال اس کم سنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ کو اپنی زوجیت میں قبول کرنا، اس بات کی صریح دلیل ہے کہ لڑکپن ہی سے ان میں نشو و نما، ذکاوت، جودت ذہن اور نکتہ رسی کے آثار نمایاں تھے"۔

مسعود عالم قمری نے تعدد ازدواج کو غیر ضروری طور پر اچھالے جانے پر کہا کہ: "تعدد ازدواج اسلام کا دیا ہوا کوئی نیا نظام نہیں ہے، بلکہ یہ زمانۂ قدیم سے تقریبا ہر مذہب اور کلچر کا حصہ رہا ہے۔  اسلام نے تو چند شرائط کے ساتھ اس کو محدود کیا ہے۔ چنانچہ 2011 کی سینسس رپورٹ کے مطابق آج تعدد ازدواج کی سب سے زیادہ شرح ہندو مذہب میں ہے پھر سکھ اور پارسی سماج میں ہے، مسلم سماج میں تو ایک شادی پر بھی عدل کی پابندی لگائی گئی ہے"۔ 

محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے ادارہ تحقیق و تصنیف کے ریسرچ اسکالر اور دار البحث والاعلام، لکھنؤ کے رفیق علمی محمد صادر ندوی کا سوانحی خاکہ پیش کرتے ہوئے ماہنامہ حیات نو دہلی میں موصوف کا شائع مضمون"حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد شباب: کتب سیرت کی روشنی میں" کا انتخاب پیش کیا۔ اس وقیع تحقیقی ورک میں مضمون نگار نے کتب سیرت کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد شباب کا مفصل خاکہ پیش کیا ہے۔ آپ نبوت سے قبل اپنے عہد شباب ہی سے عرب کے اکثر اہم سماجی، سیاسی، اقتصادی اور معاشی معاملات میں پیش پیش دکھتے ہیں، لیکن جس رسول کی زندگی کے ایک ایک حصے کو ہم اپنے لئے اسوہ اور نمونہ مانتے ہیں،  افسوس ہے کے ان کی زندگی ایک اہم باب "عہد شباب" ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو چکا ہے، جب کہ رسول اللہ کے عہد شباب میں بھی ہمارے لئے بہت سارے نمونے موجود ہیں۔ 

شائق ظفر(ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و شمائل" پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "بعثت نبوی کے وقت  پورا عرب شدید اخلاقی بحران کا شکار تھا اور دنیائے انسانیت میں عجیب ہیجان سا برپا تھا، اخلاقی اصول بے محابہ توڑے جا رہے تھے اور انسانیت کی برسرعام تذلیل کی جا رہی تھی۔ ایسے میں اخلاق و کردار کی بات کرنا کچھ ایسا ہی تھا جیسے صحرا میں صدا لگانا، مگر اس معلم اخلاق نے اپنی ساری عمر اخلاقی اصولوں کی تبلیغ میں گزار دی اور ایک دن کے لیے بھی وہ اپنے ماحول کی تیرگی سے مایوس نہ ہوئے، آخر کار وہ دنیائے انسانیت سے اخلاق باختگی کو ختم کرنے میں پورے طور پر کامیاب ہوگئے"۔

عبد اللہ مجاہد (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کے ادوار پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "دعوت و تبلیغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوت و تبلیغ کے مختلف ادوار ہیں۔ ابتدائی تین برس۔ جن میں آپ نے سخت مشکلیں جھیلیں، آپ نے نہایت تدبیر اور تدریج سے دعوت کے عمل کو خفیہ طور پر جاری رکھا، پھر آپ نے کوہ صفا پر چڑھ کر سب کو جمع کیا اور کہا کہ "إني لكم نذير بين يدي عذاب شديد"، یہاں سے دعوتی زندگی کا باقاعدہ طور پر آغاز ہوا،  پھر آپ نے طائف کا سفر کیا۔ تمام قبائل عرب کو دعوت اسلام دی، ان کے امراء و سلاطین کو خطوط لکھے۔ اسلام پورے عرب میں پھیل گیا تو آپ نے بھی اپنے مبلغین اور معلمین ہر جگہ بھیجے۔ محمد احمد نے محاضرات سیرت از ڈاکٹر محمود احمد غازی کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ: "سیرت پر اردو زبان میں سینکڑوں کیا ہزاروں کتابیں لکھی گئیں، جو قارئین کو سیرت کی بنیادی معلومات اور اہم واقعات سے روشناس کراتی ہیں۔ زیر نظر کتاب سیرت سے نہیں، علم سیرت سے بحث کرتی ہے اور یہی اس کتاب کا امتیاز ہے"۔ 

راقم الحروف (مرزا ریحان بیگ) نے عربی اخبارات کے حوالے سے پیغمبرِ اسلام پر توہین آمیز تبصرے کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے مظاہرے کو بیان کیا۔ بھاجپا قومی ترجمان نوپور شرما اور دہلی یونٹ کے میڈیا انچارج نوین جندل کے متنازعہ ریمارکس کے خلاف اکثر اسلامی ملکوں نے ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائی۔ کچھ عرب ملکوں نے ہندوستانی سفیروں کو طلب کیا، اس کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے اپنے مظاہروں کے ذریعے گستاخان رسول کی گرفتاری کی مانگ کی۔

مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے نشست کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ: "جس طرح تاریخ کے مختلف ادوار میں دانشوروں، داعیوں، مجاہدوں اور تاجروں کی کوششوں کے ذریعہ دنیا کے چپے چپے پر اسلام کا پیغام پہنچا۔ ہمیں بھی سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے الگ الگ گوشوں سے خوشہ چینی کرنی ہوگی، تبھی ہماری دعوت مؤثر ہوگی اور عالمگیر بھی۔ شرکاء اور مقالہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کی یہ نشست آپ کی متنوع کاوشوں اور تخلیقی شہ پاروں کی بہترین گواہ ہے۔ آج کی اس نشست کا امتیاز تو دیکھیے کہ جس طرح علامہ سید سلیمان ندوی، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ڈاکٹر محمد علی البار، ڈاکٹر محمد حمیداللہ جیسے مشاہیر کو بحث و تحقیق کا موضوع بنایا گیا، اسی طرح محمد صادر ندوی جیسے جواں سال محقق اور اسکالر کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ آپ بھی حوصلہ رکھیں۔ محنت کریں۔ ان شاء اللہ آپ کو اور آپ کے کاموں کو بھی تحقیق کا موضوع بنایا جائے گا۔

ذکی احسن فہمی (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی ،لکھنو) نے گزشتہ ہفتے10/ 06/ 2022 کی مفصل روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی۔ اس موقع پر مفتی محمد عالمگیر ندوی، ایس ایم حسینی، نور القمر حبیب ندوی اور ابو البرکات بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے  جنرل سکریٹری محمد مرغوب الرحمٰن ندوی نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔

 دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔


 بقلم: مرزا ریحان بیگ

(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

                                                          2022/06/17 

تبصرے