نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

علماء کی ذمہ داری ہے کہ سوشل میڈیا کے لئے اعلی درجے کے اسلامی پروگرام تیار کریں: وحید الدین خان

طلباء دو قسم کی ڈائریاں تیار کریں: ایک بہترین انتخاب و تخلیق کے لئے اور دوسری اپنے افکار و خیالات کو ترتیب دینے کے لئے: محی الدین غازی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی انیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)

دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 06/ 10 مطابق 09/ ذی قعدہ 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:


میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب

کی انیسویں نشست کا آغاز شیخ عبداللہ (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنی تلاوت سے کی۔ راقم الحروف (محمد ذکی احسن فہمی ) نے اپنے انگریزی مضمون  "value of time"  کے ذریعہ  وقت کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ: "وقت اس دنیا کی  سب سے قیمتی اور طاقتور شئ ہے، یہ قیمتی شئ جانے کے بعد کبھی واپس نہیں آتی۔ انسان لمبی زندگی کی تمنا کرتا ہے، حالاں کہ زندگی  کی مدت بہت چھوٹی ہے اور اس میں ڈھیر سارے کام انجام دینے ہیں، ہمیں زندگی کے ہر لمحے کو بغیر برباد کیے اور معنوی طور پر قیمتی بناکر استعمال کرنا چاہیۓ، تاکہ وقت ہمیں اپنی نعمتوں سے سرفراز کرے نہ کے ہمیں تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچادے"۔

 محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "بڑوں کا بچپن" از عبداللہ فاروقی کا تعارف  کراتے ہوئے کہا کہ: "اس کتاب میں ان مشاہیر اسلام کے بچپن کو بیان کیا گیا ہے،  جنھوں نے بڑے ہوکر الگ الگ میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ کسی نے محدث بن کر احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضیاء پاشیوں سے تاریکیوں کو منور کیا، کسی نے مفسر بن کر تفسیری نکات بیان کئے، کسی نے مسند تدریس پر  علمی گتھیاں سُلجھائیں، کسی نے قوم کی سیاسی رہنمائی کی، ان میں کوئی خطابت کے بلند مرتبہ پر پہنچا اور حکمت و شاعری میں مقام پیدا کیا، تو کوئی زبان و قلم کا بادشاہ نکلا، کوئی میدان صحافت کا چمکتا ہوا ستارہ بنا۔ واقعی یہ بچوں کے لیے ایک رہنما اور قابل استفادہ کتاب ہے۔ معظم علی نے معروف اسلامک اسکالر مولانا وحید الدین خاں کی تصنیف "حکمت اسلام"  سے "ٹیلی ویژن کا استعمال" بطور انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "مذہبی طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضروری تیاری کے بعد ٹی وی کے لئے اعلی درجے کے اسلامی پروگرام تیار کریں، ایسا پروگرام جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے، جس کو دیکھنے کے لیے لوگ راغب ہوں، جو آج کے انسان کے ذہن کو ایڈریس کرے"۔

 محمد شاہ ظفر(معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے معروف ادیب، مؤرخ، نقاد اور غالب شناس مولانا غلام رسول کی مقبول تصنیف "مختصر تاریخ اسلام" سے حجۃ الوداع کا اقتباسات پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے، عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، کالے کو گورے پر گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ اور پرہیزگاری کی بنا پر۔ مزید فرمایا کہ اجتماعی زندگی کی تین بنیادیں ہیں؛ جان  کا پاس و لحاظ، مال کی حفاظت، عزت و آبرو کا احترام، اگر دنیا ان تین چیزوں کی پابند ہوجائے تو سارے جھگڑے اور تمام اختلافات مٹ جائیں"۔

محمد احمد نے زیر مطالعہ کتاب "اپنی شخصیت خود بنائیں" سے منتخب اقتباس پیش کیا۔ صاحب کتاب لکھتے ہیں: "ایک ڈائری بنائیں۔ مطالعہ کے دوران جو بھی اچھی باتیں، جو بھی عمدہ اشعار، جو بھی حکیمانہ اقتباسات اور جو بھی بصیرت افروز نکتے گزریں، ان کو اس میں محفوظ کرتے جائیں۔ ڈائری کا معیار بلند رکھیں، اشعار اور جملوں کے بجائے اعلی معیار کی چیزیں اس میں شامل کریں، آگے چل کر ایک اور ڈائری کا اپنی زندگی میں اضافہ کریں اور اس میں اپنے ذہن میں آنے والے خیالات اور اپنے تحقیق کئے ہوئے خوبصورت جملوں کو محفوظ کرتے جائیں، یہ دونوں ڈائریاں آپ کےلئے بہت قیمتی سرمایہ ثابت ہوں گی"۔ عبد اللہ مجاہد (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنا عربی روز نامچہ پیش کیا، جس میں موصوف نے پنج گانہ نماز و تلاوت اور محسن اساتذہ کرام سے علمی وثقافتی استفادہ کو خوبصورت ادبی انداز میں بیان کیا۔ 

شمیم اختر (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "آئی پلس ٹی وی" کا تعارف سامعین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ: آئی پلس ٹی وی اس پرفتن دور میں جہاں اسلامی اقدار و روایات کا پاسدار ہے، وہیں مختلف اسلامی موضوعات اور عصری مسائل کو لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، اس میں کسی نمود و نمائش، جاہ و منصب کی طلب نہیں ہوتی، بلکہ یہ سب صالح مقاصد کے تحت کیا جاتا ہے، لہذا اہل علم کے لئے یہ نمونہ کا پلیٹ فارم ہے۔ مسعود عالم قمری (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنے تعلیمی ادوار کو بالترتیب بیان کیا، جس میں گنگوہ کے آٹھ سالہ تعلیمی سفر اور وہاں کی علمی وروحانی فضا کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ محمد کیف نے مولانا ابوالکلام آزاد کی نمایاں خصوصیات پر اپنا ہندی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "مولانا آزاد ایک ہمہ گیر، ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے، یہ شخصیت مختلف پہلوؤں پر محیط تھی، ان کی زندگی مختلف اور متضاد حیثیتوں میں بٹی ہوئی تھی، وہ بیک وقت بے باک مجاہد آزادی، ماہر عالم دین، عظیم خطیب، فاضل مصنف اور نامور فلسفی تھے، ان تمام خوبیوں کے ساتھ ایک عظیم قومی لیڈر اور سیاسی میدان کے شہنشاہ  بھی تھے۔ مختصراً اگر ان کو ہر فن مولا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

محمد اشرف حسین(ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے حضور اکرم ﷺ اور حضرت عائشہ کی شادی کے تعلق سے ہونے والے اعترضات کا جواب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: آپ کی زندگی پر کئے جانے والے کسی اعتراض کی کوئی علمی و منطقی اور تاریخی بنیاد نہیں ہے۔ تھوڑی دیر کےلئے اگر عقیدت سے دور ہوکر صرف عقلی بنیادوں پر بھی تحقیق کی جائے تو بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں کسی بھی قسم کا کوئی عیب نہیں نکلتا ہے۔ آپ تمام اعلی اخلاقی خوبیوں کے حامل، سچے، امانت دار اور انتہائی ہمدرد انسان تھے۔ ان خوبیوں کی گواہی خود آپ صلی اللہ علیہ کے مخالفین دیتے تھے اور آپ کی متعدد شادیاں ہوئیں، ساری شادیاں انتہائی ناگزیر ملی مصلحتوں کی بنیاد پر ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری جوانی انتہائی عفت و پاکدامنی میں گزری اور 50 برس تک ایک سن رسیدہ بیوہ کے ساتھ زندگی گزار دی۔ 

شیخ عبداللہ (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنی عربی ڈائری پیش کی، جس میں موصوف نے اجتماعیت کی افادیت کو اجاگر کیا، ڈائری کا اسلوب پرکشش تھا۔ محمد وقار نے حفیظ میرٹھی صاحب کا چند کلام خوش الحان انداز میں پیش کیا، جس سے محفل میں ایک سماں بندھ گیا، منتخب اشعار درج ذیل ہیں :

اسی سے نوع انساں پھر ہدایت کی سوالی ہے

وہ ہادی جس نے دنیا دین کے سانچے میں ڈھالی ہے

امید و بیم کی تصویر بن کر رہ گیا ہوں میں 

نظر سوۓ فلک ہے ہاتھ میں روضہ کی جالی ہے

ادب سے میں یہ موتی ان کے قدموں میں سجا دوں گا

میری آنکھیں تو پر ہیں کیا ہوا گر ہاتھ خالی ہے

حفیظ اب ہم نبی کے ہجر میں آنسو بہائیں گے

نکلنے کی ہماری حسرتوں نے راہ پالی ہے۔ 

اخیر میں بحیثیت صدر مولانا مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) نے حضور ﷺ کی حیات طیبہ پر ہونے والے اعترضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ: دشمنان اسلام حالیہ قضیہ میں حضور ﷺ کی زندگی کے دو پہلوؤں کو لے کر آپ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، (۱) نعوذ باللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر شہوانیت کا غلبہ رہتا تھا (۲)  آپ نے انتہائی کم عمر لڑکی سے شادی کی۔ ان دونوں کا جواب دیتے ہوئے صدرِ محترم نے فرمایا کہ حضورﷺ کی پوری زندگی عیب سے پاک ہے، خصوصا جوانی تو بالکل بے داغ ہے، شباب کی اصل عمر 25 تک کو دیکھئے، چنانچہ اس پورے عرصے میں کوئی واقعہ ایسا نہیں ملتا ہے جس سے پتا چلے کہ آپ پر اس حوالے سے کوئی ادنی درجہ کا الزام لگا ہو، بلکہ آپ کی زندگی اتنی صاف ستھری تھی کہ مکہ کے مشرکین بھی آپ کے صدق وامانت، پاک دامنی کی قسم کھاتے تھے اور آپ کو امین وصادق جیسے القاب سے پکارتے تھے۔ 25 برس کی عمر میں 40 سالہ بیوہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی ہوئی، اس کے بعد 54/ سال تک کوئی شادی نہیں کی، اس پورے عرصے میں آپ کے جانی دشمنوں نے بھی آپ پر کوئی اعتراض نہیں کیا، یہ آپ کی عفت و پاکدامنی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ 

دوسرا اعترض ہے کہ آپ نے کم عمر بچی سے شادی کی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ شادی کے لئے اسلام میں عمر اصل نہیں ہے، اصل یہ ہے کہ لڑکی شادی کے لئے جسمانی اور ذہنی طور پر تیار ہے کہ نہیں؟۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ بلوغت کی عمر مختلف زمانے اور مختلف علاقوں کے حساب سے مختلف ہوتی رہی ہے۔ موجودہ سائنسی تحقیقات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ " لڑکیاں مکمل بلوغت کی عمر کو  9 سے 15 سال کی عمر کے درمیان کسی بھی وقت پہنچ سکتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں کی غذا اور ان کے استعمال کی چیزوں میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور اسی طرح انسانوں کے اندر بھی جسمانی تبدیلیاں (Anatomical and Physiological Changes) ہوئی ہیں۔ 

1400 سال پہلے اتنی کم عمری میں شادی ہونا ایک عام سی بات تھی اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ، ایشیاء، افریقہ اور امریکہ میں 9 سال سے 14 سال کی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی تھیں۔ یہ سلسلہ بے شمار علاقوں میں اب قائم ہے۔ راجا ریچرڈ 2 ، (KING RICHARD-II 1400 AD) نے جس لڑکی سے شادی کی اس کی عمر سات سال کی تھی۔ ہینری 8، (HENRY 8) نے ایک چھ سال کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ 1929 سے پہلے تک برطانیہ میں، چرچ آف انگلینڈ کے وزراء 12 سال کی لڑکی سے شادی کرسکتے تهے۔ 1983 سے پہلے کیتھولک کینان کے قانون نے اپنے پادریوں کو ایسی لڑکیوں سے شادی کرلینے کی اجازت دے رکھی تھی کہ جنکی عمر 12 سال کو پہنچ چکی ہو۔ بہت سارے لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ امریکہ کے اسٹیٹ آف ڈیلیورا میں 1880 میں لڑکی کی شادی کی جو کم سے کم عمر تھی وہ 8 سال تھی. اور کیلیفورنیا میں 10 سال تھی۔ ان تمام تاریخی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی6/برس میں شادی اور 9/برس کی عمر میں رخصتی کو دیکھیں تو آپ کو ذرا بھی پریشانی نہیں ہوگی اور اگر آپ اس شادی کی بلند ترین مصلحتوں اور اس سے حاصل ہونے والی بے مثال علمی و فکری کاوشوں اور انسانی خدمات پر نگاہ ڈالیں گے تو یہ شادی بھی آپ کو نبوت محمدی کی بہترین دلیل معلوم ہوگی۔

محمد شہنواز (سکریٹری : اللقاء الثقافی، لکھنو) نے گزشتہ ہفتے03/ 06/ 2022 کی مفصل روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی۔ اس موقع پر ابوسفیان، شائق ظفر بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے سکریٹری شمیم اختر نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔

 دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔


 بقلم: 

 محمد ذکی احسن فہمی

(معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

                                               10/06/2022

تبصرے