نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مدرسہ تعلیم الدین، نور پور میں افتتاحی دعائیہ مجلس کا انعقاد



 مدرسہ تعلیم الدین نور پور کٹہریا میں 16 شوال المکرم 1443 ھ مطابق 18  مئی 2022 بروز بدھ کو تعلیمی سال کے آغاز اور عربی درجات کے افتتاح کے موقع پر دعائیہ مجلس منعقد کی گئی۔ اس دعائیہ مجلس کی صدارت جناب حافظ مستقیم صاحب ناظم مدرسہ ضیاء العلوم صدیق آباد ،برے پورہ     نے کی ۔نظامت کے فرائض مدرسہ کے استاذ مولانا شاکر نظامی قاسمی نے انجام دئے۔

درجہ حفظ کے طالب علم محمد انتخاب سلمہ نے تلاوت کلام اللہ سے مجلس کا آغاز کیا،  مفتی اشفاق اور حافظ اخلاق صاحبان کی نعت نبی ﷺ سے سامعین خوب محظوظ ہوئے۔

اس پروگرام میں ضلع بیگوسرائے کے مؤقر علماء کرام اور دانشوروں نے شرکت کی۔ بطورِ خاص مولانا صابر نظامی صاحب قاسمی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء بیگوسرائے، مولانا علی حسن صاحب مظاہری امام وخطیب کچہری مسجد بیگوسرائے، قاری عیسیٰ صاحب مظاہری مہتمم مدرسہ حسینیہ چلمل، مولانا غالب اسراری صاحب ندوی صاحب مہتمم مدرسہ فلاح المسلمین منصور چک، مولانا فرحان راہی صاحب قاسمی امام وخطیب جامع مسجد ٹاؤن شپ، مولانا شاداب صاحب قاسمی امام وخطیب جامع مسجد بلیا، جناب محمد  انعام الحق صاحب  مظفرہ سابق ڈی ڈی سی ارریہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ کٹہریا اور ضلع بیگوسرائے کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور علماء و دانشوران کے بیانات سے مستفید ہوئے۔

پروگرام کے روح رواں مولانا صابر نظامی صاحب قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا عذابِ الہی (کرونا) کے بعد دوبارہ اس چمن کو لہلہاتا اور چمکتا دمکتا دیکھ کر انتہائی خوشی ہو رہی ہے۔ عربی درجات کے افتتاح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا  کہ اپنے علاقہ میں رہ کر عربی کی تعلیم حاصل کرنے سے والدین کی جیب پر سالانہ کم از کم بیس سے پچیس ہزار روپے کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ جب بچہ علم حاصل کرنے اپنے علاقہ سے باہر جاتا ہے تو والدین کے دل پر کیا گزرتی ہے یہ صرف والدین ہی جانتے ہیں۔ انہیں مصلحتوں کے پیش نظر درجہ عربی کی شروعات قبال مبارکباد اور نہایت خوش آئند ہے۔

مولانا علی حسن صاحب مظاہری نے فرمایا  کہ طلبہ کو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ مجھے تو ہر حال میں ماننا ہی ہے ۔ اسی ایک جذبہ کے اندر طالب علمانہ زندگی کے تمام شرائط آجاتے ہیں۔ جب ماننے کا جذبہ رکھیں گے تو ہر جگہ ہر میدان میں کامیابی کے دروازے آپ کے لئے کھلتے چلے جائیں گے۔

بہار ایڈمنسٹریٹو سروس کے سابق سینئر  آفیسر جناب انعام الحق صاحب نے فرمایا کہ  مدارس کے طلباء کبھی عصری تعلیم سے مرعوب نہ ہوں، کیوں کہ عصری تعلیم کا مقصد صرف ایسے نوکر اور خدام تیار کرنا ہے جو نوکری کر سکیں اور یہ  بہت ہی عارضی اور ختم ہونے والا  مقصد ہے جبکہ دینی تعلیم کا مقصد نہایت بلند اور ہمیشہ رہنے والا ایک ابدی مقصد ہے۔ اس لئے مدارس کے طلبہ اور عصری اداروں کے طلبہ کے مقام و مرتبہ میں بڑا واضح فرق ہے۔  

مولانا غالب اسراری صاحب ندوی نے فرمایا جب انسان اچھےماحول میں رہتا ہے تو خود بخود اچھا بن جاتا ہے۔ اس لئے طلبہ کو چاہئے کہ ہر اعتبار سے ماحول کو اچھا بنانے کی کوشش کریں۔ آخر میں ایک عارفانہ کلام پر اپنی بات ختم کی  :

خدمت کی تمنا ہو تو عالم بن جا

عظمت کی تمنا ہو تو خادم بن جا

جینے کی تمنا ہو تو مرنے سے نہ ڈر

دولت کی تمنا ہو تو ظالم بن جا

 مدرسہ کے مہتمم مولانا مفتی عبدالودود صاحب قاسمی نے علماء کرام اور دور دراز سے تشریف لانے والے تمام مہمانوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ آخر میں صدر محترم  جناب حافظ مستقیم صاحب کی دعاء کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                      خبرنگار                                                           شاکر نظامی قاسمی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...